بنگلورو:۔ کرناٹک میں حجاب پر پابندی کے حوالے سے فیصلے کا دن تھا لیکن ججوں نے اس معاملے کے حوالے سے کوئی رائے نہیں دی اور فیصلہ نہیں سنایا گیا۔ جسٹس سدھانشو دھولیا نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے یہ مسئلہ اس بات پر مرکوز ہے کہ لڑکی کو بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا ہم لڑکی کو تعلیم سے محروم کر کے اس کی زندگی بہتر بنا رہے ہیں؟جسٹس دھولیا نے اپنے فیصلے میں کہا کہ یونیورسٹی سے پہلے کی اسکول کی لڑکی کو اسکول کے گیٹ پر اپنا حجاب اتارنے کے لیے کہنا اس کی پرائیویسی اور وقار پر حملہ ہے اور یہ سیکولر تعلیم سے محرومی کے مترادف ہوگا۔ جسٹس دھولیا کے اس تبصرہ پر بھی تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ چنانچہ انڈین ایکسپریس میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق کرناٹک میں پری یونیورسٹی اسکول جانے والی لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔کرناٹک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئےمسلم لڑکیوں کی تعداد 10 سال کے اندر 1.1 فیصد سے بڑھ کر 15.8 فیصد ہوگئی ہے۔ یہ سال 2007-2008 میں 1.1 فیصد سے بڑھ کر سال 2017-2018 میں 15.8 فیصد ہوگئی۔ چنانچہ پورے ہندوستان میں یہ اضافہ 6.7 فیصد سے بڑھا کر 13.5 فیصد کر دیا گیا۔ یہی نہیں، ریاستی حکومت کے حکم کے خلاف پانچ میں سے دو درخواست گزاروں کے علاوہ، پی یو سی کلاسوں کے کسی بھی مسلم طالب علم نے ابھی تک جنوبی کنڑ اور اڈپی اضلاع میں ٹرانسفر سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست نہیں دی ہے۔ جبکہ فروری کے مہینے میں ان اضلاع سے یہ مسئلہ اٹھایا گیا تھا۔مزید یہ کہ جنوبی کنڑ اور اڈوپی کے پی یو (پری یونیورسٹی) بورڈز کے ڈپٹی ڈائریکٹرز کے مطابق، ان سبھی نے اپریل 2022 میں منعقدہ فائنل امتحان میں بھی شرکت کی تھی۔تاہم کالج کی سطح پر کم از کم 110 طالبات نے منگلور یونیورسٹی کو سرٹیفکیٹ منتقل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ جن میں سے 10 طالبات نے بھی کسی اور جگہ داخلہ لینے کی تصدیق کی۔ اس کے لئے عہدیداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ جو لوگ ٹی سی چاہتے ہیں انہیں بلا تاخیر ٹی سی جاری کیا جائے۔ چنانچہ مئی کے مہینے میں منگلور یونیورسٹی سے منسلک کالجوں میں حجاب نہ کرنے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو لاگو کرنے پر زور دیا گیا اور اعلان کیا گیا کہ جو لڑکیاں حجاب پہننا چاہتی ہیں وہ ٹی سی لے سکتی ہیں۔اور کسی دوسرے کالج میں داخلہ لے سکتی ہیں جہاں حجاب پہننے پر کوئی پابندی نہیں ہے۔
