بنگلورو:۔کے پی سی سی کے صدر ڈی کے شیو کمار نے سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین سے ماہانہ 100روپے وصول کرنے ریاستی حکومت کے فیصلہ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کو سرکاری اسکول چلانے کی حیثیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کووڈ بحران کے بعدو الدین سنگین بحران کا شکار ہیں اور بہت سارے بچے جو پرائیویٹ اسکولوں میں زیر تعلیم تھے معاشی تنگی کی وجہ سے سرکاری اسکولوں میں داخلہ لے چکے ہیں اس کے علاو ہ سماج کا وہ طبقہ جو معاشی طور پر انتہائی پسماندہ کہلاتاہے اس طبقے سے آنے والے بچے تعلیم کے لئے سرکاری اسکولو ں کا رخ کرتے ہیں اب حکومت اگر ان بچوں کے والدین کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنا چاہتی ہے تو اس سے حکومت کی نیت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ شیو کمار نے کہا کہ سرکار ی اسکول مفت تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے بنائے گئے ہیں ان میں زیر تعلیم بچوں سے فیس کی وصولی سراسر ناانصافی ہے۔ شیو کمار نے کہا کہ سرکاری اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں سے فیس وصول کرنے کا سرکلر جاری کرنے کا اقدام دراصل سرکاری اسکولوں کو بند کرنے کی سازش ہے۔ شیو کمار نے کہا کہ 2023میں جب کانگریس ریاست کے اقتدار پر آئے گی تو اس طرح کے عوام دشمن فیصلوں کو فوراً واپس لے گی۔
