پریش میستا معاملہ میں سی بی آئی کی رپورٹ کا جائزہ لیا جائیگا : ارگا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
 منگلورو:۔ریاستی وزیر داخلہ ارگا گیانیندرانے کہا کہ ہندو نوجوان پریش میستا کے بارے میں سی بی آئی کی بندش کی رپورٹ کا دوبارہ تحقیقات کے لیے جائزہ لیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ سی بی آئی نے پریش میستا کیس میں بی رپورٹ داخل کی ہے۔ تاہم میستا کے والد نے کیس کی دوبارہ تفتیش کے لیے کہا ہے۔ حکومت دوبارہ تفتیش کے لیے غور کررہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ پریش میستا کی مشتبہ موت کا جائزہ لیا جائے اور اس کی صحیح وجہ معلوم کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میستا کے والد اور مقامی لوگ اسے قتل کا معاملہ قرار دیتے ہیں۔چارج شیٹ کے مطابق 2017 میں کرناٹک کے اترا کنڑ ضلع کے ہوناور قصبے میں فرقہ وارانہ جھڑپوں کے دوران جھیل میں پھسلنے سے ہندو نوجوان کی موت ہوگئی۔اس میں بتایا گیا ہے کہ میستا نے دوستوں کے ساتھ تقریباً 25 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد کمٹہ شہر میں اس وقت کے سی ایم سدارامیا کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔اس معاملے کو 2018 کے اسمبلی انتخابات کے دوران ایک بڑے مسئلے کے طور پر پیش کیا گیا تھا، اس سلسلے میں مقامی ہوناور کورٹ میں چارج شیٹ میں بتایا گیا ہے کہ پریش میستا نے دوستوں کے ساتھ تقریباً 25 کلومیٹر کا سفر کرنے کے بعد کمٹہ شہر میں اس وقت کے سی ایم سدارامیا کے پروگرام میں شرکت کی تھی۔پریش میستا جو ہوناور قصبے میں 6 دسمبر 2017 کو فرقہ وارانہ جھڑپوں کے دوران لاپتہ ہو گئے تھے، دو دن بعد شیٹیکیرے جھیل کے قریب مردہ پائے گئے۔حکمراں بی جے پی اور ہندو کارکنوں نے الزام لگایا کہ پریش کو ہجومی تشدد میں مارا گیا اور قاتلوں نے لاش کو بعد میں پھینک دیا ہے۔بی جے پی پارٹی جو اس وقت اپوزیشن میں تھی نے اس وقت حکمراں کانگریس کے خلاف بھرپور تحریک شروع کی تھی۔ 2018 کے اسمبلی انتخابات میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے حکمراں کانگریس حکومت کو دھچکا لگا۔پریش کے قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کرنے والے ہندو کارکنوں نے آئی جی پی کی گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔ پولیس پر پتھراؤ کیا گیا۔ کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔ بی جے پی نے اسے انتخابات میں بڑا ایشو بنایا تھا۔مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سمیت کئی سیاسی رہنما پریش کے گھر گئے تھے۔ تب سدارامیا حکومت نے کیس سی بی آئی کو سونپ دیا تھا۔سی بی آئی کی رپورٹ کا تجزیہ حکمراں بی جے پی کے لیے ایک جھٹکا ہے، جس نے پریش میستا کی موت کو "حادثاتی” قرار دیا اور کلوزر رپورٹ درج کرائی۔ سی بی آئی نے پانچ سال تک اس کیس کی تحقیقات کے بعد کلوزر رپورٹ داخل کی ہے۔ یہ 16 نومبر کو فیصلہ سنائے گی۔یہ واقعہ اپوزیشن لیڈر سدارامیا کی قیادت والی کانگریس حکومت کے دور میں پیش آیا تھا۔ سی بی آئی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ پریش میستا کی موت حادثاتی تھی اور یہ قتل کی وجہ سے نہیں تھی۔ یہ رپورٹ کرناٹک بی جے پی کے منہ پر زور دارطمانچہ ہے۔سدارامیا نے کہا کہ اگر بی جے پی کو ذرا بھی شرم ہو تو اسے معافی مانگ لینی چاہیے۔