اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ڈبل انجن حکومت ہونے کے باوجود شراوتی بیاک واٹرمتاثرین کامسئلہ حل کیوں نہیں ہوا۔یہ سوال سابق وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر سدرامیانے اٹھایا ہے ۔ انہوں نے آج نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریاست کو روشن کرنے کیلئے شراوتی ندی پر باندھ باندھاگیاہے،اس سے ہزاروں لوگوں کو متاثر ہونے پڑا ، 130 گائوں ندی میں ڈوب گئے ہیں ۔ شراوتی بیاک واٹرمتاثرین کو جنگلاتی علاقوں میں قیام کرنے کا موقع دیاگیاہے،لیکن اُس علاقے کو جنگلاتی زمین سے علیحدہ کرنے کیلئے ڈی نوٹیفکیشن نہیں کیاگیا،ہمارے دورمیں اُس کیلئے کام کیاگیاتھا مگر ڈی نوٹیفکیشن پر سوال لگاتے ہوئے ایک شخص نے کورٹ سے رجوع کیاتھا،جس کی وجہ سے کورٹ نے ڈی نوٹیفکیشن کو منسوخ کیاتھا،مگراُس کے بعد آنےوالی بی جے پی حکومت نے اس مسئلے کاحل نکالنے کی سمت میں کام نہیں کیاہے۔ہائی کورٹ میں ڈی نوٹیفکیشن منسوخ ہونے کے بعد کسان مسلسل احتجاج کررہے ہیں،مگر کرناٹک اور مرکزمیں بی جے پی حکومت ہونے کے باوجودان متاثرین کو راحت نہیں پہنچائی  ،جس کی وجہ سے متاثرین پریشان ہیں۔شراوتی بیاک واٹرمتاثرین کو راحت پہنچانے کیلئے کانگریس پدیاتراکررہی ہے،بی جے پی کسانوں کےتعلق سےمگر مچھ کے آنسو بہارہی ہے،ہائی کورٹ میں کوڑی اور سوڈور کا سروے نمبرکے ڈی نوٹیفکیشن ہی منسوخ ہوئے ہیں،اب تک کچھ نہ کرنے والے وزیر اعلیٰ اب کانگریس کی پدیاتراکو دیکھ کر کسانوں کا مسئلہ حل کرنے کی بات کررہے ہیں،پچھلے ساڑھے تین سالوں سے یہ کیاکررہے تھے ؟ ۔ مزید انہوں نے کرناٹکامہاراشٹر سرحدکے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہاکہ مہاجن رپورٹ ہی آخری رپورٹ ہے،مہاراشٹرسیاست کیلئے اب تک اس معاملے کو کھینچ رہی ہے اور ہمیشہ ان کی جانب سے نوٹنکی ہوتی رہی ہے،اب چونکہ مہاراشٹرمیں بی جے پی برسرِ اقتدارہے تو وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کی ذمہ داری ہے کہ وہ مہاراشٹرکے وزیراعلیٰ سے بات کریں۔سدرامیانے کہاکہ ریاستی بی جے پی میں غنڈوں کاراج چل رہاہے،اس لئے بی جے پی غنڈوں کو اپنی پارٹی میں شامل کررہی ہے،جو غنڈے پولیس کو نہیں مل رہے ہیں وہ بی جے پی لیڈروں کو مل کر پارٹی میں شامل ہورہے ہیں۔