بنگلورو:۔کرناٹکا بی جے پی حکومت کی جانب سے انسدادگائوکشی قانون کو نافذ کرنے کے بعد پولیس ،تحصیلدار اور کچھ تنظیموں کوہی فائدہ پہنچاہے،اس کے علاوہ گائوکشی قانون سے منسلک کسی بھی شعبےکو فائدہ نہیں ہواہے،بلکہ ریاست کی معاشی حالت پر بُرا اثرپڑاہے۔اس بات کااظہار سابق ریاستی وزیر اور کے پی سی سی میڈیا سیکشن کے سربراہ پرینکا کھرگے نےکیاہے۔انہوں نے اس تعلق سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ریاست میں انسداد گائوکشی قانون نافذ ہونے کی وجہ سے نہ صرف قصائیوں کونقصان پہنچاہے بلکہ چمڑے کی صنعت پر بھی بُرا اثرہواہے۔پوری دنیامیں بھارت چمڑے کی صنعت میں 13 واں مقام رکھتاتھا،کوویڈ سے قبل ملک میں چمڑے کے کاروبارکی صنعت کا ٹرن اوور 5.5 بلین ڈالرتھا اور چمڑے کی مصنوعات میں بھارت کو دوسرا مقام حاصل تھا۔سال 21-2020 کے فائنانس سروے کے مطابق کرناٹک میں 521.81کروڑ روپئے، سال 19-2018 میں 562کروڑ روپئے ، سال 20-2019 میں 502کروڑ روپئے کا کاروبار ہوا تھا ۔ سال21-2020 میں یہ کاروبار محض 160.84 کروڑ روپئے تک محدود ہوچکا ہے ۔ اس صنعت میں5.3لاکھ مزدورہیں اور91 صنعتیں موجودتھیں جن میں سے اب بہت ہی صنعتیں بند ہوچکی ہیں ۔ اس قانون کے نافذہونے کے بعد پہلے سال 171672جانوروں کی دیکھ بھالی کیلئے 464.17کروڑ روپئے،دوسرے سال کیلئے 305337 کروڑ روپئے اور تیسرے سال 404269کروڑ روپئے ، چوتھے سال 473415کروڑ روپئے خرچ کئے گئے ہیں ۔ مزید 1200 کروڑ روپئے درکارہیں۔یہ صرف گھاس پر خرچ کی گئی رقم ہے ، مزید 3512.32 کروڑ روپئے جانوروں کی دیکھ بھالی کیلئے درکار ہیں،جبکہ گائوشالائوں کیلئے بنیادی سہولیات فراہم کرنے کیلئے 1208.50کروڑ روپئے درکار ہونگے۔گائوکشی قانون نافذ ہونے کے بعد ریاست میں 27250میٹر ٹن گائے کے گوشت کی کمی ہوئی ہے،اسے بکرے اور بکریوں کے گوشت سے مساوی کرنے کیلئے20+1 کے تناسب میں مزید یونٹ بنانے ہونگے ، جس کیلئے کسانوں کو76 ہزار بکرے فراہم کرنے پڑینگے،اس کام کیلئے حکومت کو519 کروڑ روپئے خرچ کرنے پڑینگے۔اس قانون کے نافذ ہونے کی وجہ سے ریاست کو5280 کروڑ روپئے کانقصان ہواہے۔مزید انہوں نے الزام لگایاکہ گائو شالائوں کو گھاس فراہم کرنے کیلئے 5.8 فیصد کمیشن دینا پڑرہا ہے،یہ بات ہرشا اسوسیٹس نامی ادارے نے14 اپریل کو وزیر اعظم کو خط لکھاہے۔5ہزار کروڑ روپئے کے نقصان کو بھرنے کیلئے پونیا کوٹی منصوبہ رائج کیاگیا ہے ، ریاست کے 177 گائو شالائوں میں 21200 جانورہیں،جنہیں گودلینے کیلئے صرف151 لوگ ہی آگے آئیں ہیں۔جبکہ وزیر اعلیٰ نے اپنے جنم دن کے موقع پر11 جانوروں کی کفالت قبول کی تھی وہ جانور کہاں ہیں کسی کو نہیں معلوم۔انہوں نے کہاکہ جانوروں کی کفالت کیلئے سرکاری ملازمین پر دبائو ڈالاجارہا ہے اور اُن کی ایک دن کی تنخواہ کاٹی جارہی ہے۔
