سپریم کورٹ:ارکان اسمبلی کی گرتی ہوئی اخلاقیات پر تشویشناک

نیشنل نیوز

دہلی:۔گوا میں اراکین اسمبلی کے ذریعہ اپنی پارٹی چھوڑ کر دوسری پارٹی میں شامل ہونے سے متعلق ایک معاملے پر سماعت کے دوران آج سپریم کورٹ نے انتہائی تلخ تبصرہ کیا۔ عدالت عظمیٰ نے کہا کہ ’’اب ہماری اخلاقیات کس حد تک گر گئی ہے۔‘‘ سپریم کورٹ نے بامبے ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج پیش کرنے والی گوا کانگریس کے لیڈر گریش چوڈنکر کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے یہ تبصرہ کای اور پھر اس معاملہ کو آئندہ سال سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی ہدایت دی۔ اس سے قبل 2019 میں کانگریس اور مہاراشٹروادی گومانتک پارٹی (ایم جی پی) سے بی جے پی میں شامل ہونے والے گوا اسمبلی کے 12 اراکین کو نااہل ٹھہرانے کا مطالبہ کرنے والی عرضی خارج کر دی گئی تھی۔عرضی دہندہ کی نمائندگی کرنے والے ایک وکیل نے جسٹس ایم آر شاہ اور ہیما کوہلی کی بنچ سے معاملے کو ملتوی کرنے کی گزارش کی، کیونکہ ان کے سینئر کسی دیگر عدالت میں تھے۔ پھر بنچ نے سوال کیا کہ ’’چونکہ اگلا انتخاب ہو چکا ہے، تب کیا یہ بے معنی نہیں ہو گیا ہے؟‘‘ اس پر وکیل نے کہا کہ اس میں خاص طور سے مہاراشٹر کی حالت کے پس منظر کے خلاف قانون کا ایک بڑا سوال شامل ہے۔عرضی دہندگان کے وکیل نے کہا کہ یہ پوری طرح سے ایک اکیڈمک پریکٹس بن گیا ہے۔ بنچ نے عرضی دہندہ کے وکیل سے کہا کہ وہ اپنے سینئرکو سہ پہرعدالت میں موجود ہونے کیلئے کہیں۔ جب معاملے کو دوپہر کے بعد سماعت کے لیے کہا گیا تو عرضی دہندہ کے وکیل نے عدالت سے معاملے کی سماعت یہ کہتے ہوئے بدھ کو مقرر کرنے کی گزارش کی کہ یہ ایک اہم معاملہ ہے۔ وکیل نے کہا کہ حال ہی میں کانگریس کے 9 اراکین اسمبلی بی جے پی میں شامل ہو گئے تھے اور اس معاملے میں شامل بڑے قانونی سوال پر غور کرنے کیلئے عدالت پر دباؤ ڈالا۔ اس دوران جسٹس شاہ نے کہا کہ ’’اب ہماری اخلاقیات کس حد تک گر گئی ہے۔‘‘ بنچ نے معاملے کی سماعت آئندہ سال کے لیے مقرر کی تاکہ وہ قانونی سوالات پر غور کر سکے۔