مہاراشٹرا کرناٹکا سرحد پر حالات کشیدہ؛ سرکاری بسوں کی آمد و رفت پر لگی ہے روک؛ پولیس کا سخت بندوبست 

اسٹیٹ نیوز
بیلگاوی:۔کرناٹکا مہاراشٹرا سرحدی تنازعہ کی وجہ سے تشدد کے واقعات کے دو دن بعد بھی ان علاقوں میں ابھی کشیدگی برقرار ہے اور ناخوشگوار واقعات کو روکنے کے لئے پولیس مستعدی کے ساتھ حفاظتی بندوبست میں لگی ہے ۔دو دن قبل کرناٹکا بیلگاوی ضلع میں مہاراشٹرا کی سرکاری بسوں پر اور مہاراشٹرا کے پونے ، اتھنی ، شولاپور، سندھو درگ، اورنگ آباد، کولہاپور، ناسک، بارامتی جیسے علاقوں میں شیو سینا اور نونرمان سینا کے کارکنان کی طرف سے کرناٹکا کی سرکاری بسوں پر ہوئے حملوں کے پیش نظر احتیاطی تدبیر کے طور پر دونوں طرف سے ریاستی بسوں کی آمد و رفت کو روک دیا گیا ہے ۔ البتہ پرائیویٹ موٹر گاڑیوں کی آمد و رفت معمول کے مطابق چل رہی ہے ۔ سرکاری بسیں بند کیے جانے سے  دونوں طرف کے مسافروں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ان کا الزام ہے کہ پرائیویٹ بس والوں نے موقع کا فائدہ اٹھانا شروع کیا ہے اور صرف 20 کلو میٹر فاصلہ کے لئے مسافروں سے 100 روپے کرایہ وصول کر رہے ہیں ۔مہاراشٹرا کے مختلف شہروں میں کرناٹکا کی سرکاری بسوں پر کالا رنگ پوتنے اور مہاراشٹرا کی حمایت میں نعرے لکھنے کے واقعات میں اضافہ دیکھتے ہوئے مہاراشٹرا کی طرف جانے والی کرناٹکا روڈ ٹرانسپورٹ کی 320 بسوں کی آمد و رفت منسوخ کی گئی ۔ ادھر بیلگاوی میں کنڑا رکھشنا ویدیکے کی جانب سے مہاراشٹرا کی سرکاری بسوں کو نشانہ بنانے اور بیلگاوی میں احتجاجی مظاہروں کو دیکھتے ہوئے مہاراشٹرا کی سرکاری بسیں بیلگاوی کے پاس سرحد سے ذرا دور ہی روکی جا رہی ہیں ۔ کرناٹکا کی بسیں بیلگاوی، کولہاپور اور میرج کی سرحد پر روکی جا رہی ہیں ۔ کرناٹکا کے اے ڈی جی پی (لاء اینڈ آرڈر) آلوک کمار نے بتایا :” گزشتہ 10 دن سے کرناٹکا مہاراشٹرا سرحدی علاقوں میں ماحول بہت ہی کشیدہ ہوگیا ہے ۔ پولیس نے احتجاجیوں پر طاقت کا استعمال نہیں کیا ہے ۔ ہم کرناٹکا میں ناخوشگوار واقعات اور نقصانات کو موقع نہیں دینگے ۔ بیلگاوی ضلع میں 13 پلاٹون اور بیلگاوی سٹی میں 6 پلاٹون پولیس فورس تعینات کی گئی ہے ۔ اسی دوران خبر ملی ہے کہ بیلگاوی کے ہیرے باگیواڑی ٹول پلازہ پر مہاراشٹرا رجسٹریشن والی لاریوں پر حملہ کرنے کے الزام میں پولیس نے کنڑا رکھشنا ویدیکے کے 8 کارکنان پر کیس درج کیا ہے ۔ اس کے علاوہ کئی کارکنان کو احتیاطی نظر بندی میں رکھا گیا ہے ۔ دہلی سے ملی خبر کے مطابق این سی پی لیڈر سپریا سولے  نے پارلیمنٹ میں مہاراشٹرا – کرناٹکا سرحدی تنازع  کو صفر وقفہ میں اٹھانے کی کوشش مگر کرناٹکا کے رکن پارلیمان شیو کمار اداسی نے اس پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ چونکہ یہ مسئلہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس پر پارلیمنٹ میں بحث کی ضرورت نہیں ہے ۔