خلیل مامون ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے :پروفسیر ایم ایس ملّا

اسٹیٹ نیوز
ہبلی:۔مرحوم خلیل مامون اپنی زندگی کے تمام شعبوں میں انتہائی بلند مقام پیدا کر لیا تھا جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے خلیل مامون ایک بے باک اور وسیع مطالعہ شخصیت کا نام تھا ان کی موجودگی سے کرناٹک کی ادبی فضا میں بڑی گہما گہمی تھی- شاعری میں ان کا اسلوب اپنی شناخت رکھتا تھا ،غزل  کے مقابلے نظم سے ان کی طبعی مناسبت زیادہ تھی- نظم گوئی میں عام روش سے جداگانہ لب و لہجے کیلئے اپنی خاص پہچان بنائے ہوئے تھے نیز انہوں نے اپنے دور صدارت میں اکیڈمی کو نئی بلندیوں پر پہنچایا جو اپنی مثال  آپ ہے ۔ان خیالات کا اظہار پروفیسر ایم ایس ملا ریٹائرڈ پرنسپل ٹیپو شہید انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی ( پولی ٹیکنیک) ہبلی  نے اپنے رہائش گاہ پر منعقدہ معروف شاعر, ادیب وہ دانشور خلیل مامون کے سانحہ ارتحال پر تعزیتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ خلیل مامون کی ابتدائی تعلیم بذریعہ انگریزی میڈیم سے  ہوئی البتہ اردو ایک سبجیکٹ نصاب میں شامل تھا اور دوران تعلیم اپ کو علامہ اقبال کا یہ شعر اپنے  من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی,  تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن بہت متاثر کیا ۔وہ اپنے اندر لکھنے کی قوت محسوس کی – سن 1964 اپ کے دو افسانے کتبہ پھر گرا اور ہراس شائع ہوئے- نو عمری میں گھریلو مسائل کی وجہ سے دہلی چلے آئے۔ ڈاکٹر عابد حسین کے توسط سے آل انڈیا ریڈیو میں بحیثیت اسٹاف ارٹسٹ منسلک ہو گئے -دہلی کے کئی ایک لائبریریوں کہ رکن بنے جب خلیل مامون نے میرا جی کی تصنیف مشرق و مغرب کے نغمے کا مطالعہ کیا جس میں  میرا جی نے دنیا بھر کے معروف شعرا کی نظموں کا ترجمہ کیا تھا، خلیل مامون کو میرا جی کی کتاب پڑھنے کے بعد لگا کے وہ بھی نظمیں لکھنے کی صلاحیت اپنے اندر رکھتے ہیں پھر یہاں سے  ان کا ادبی سفر ترقی کرتا گیا- خلیل مامون تھے تو پولیس افسر لیکن اپنے اندر شاعر کا دھڑکتا دل رکھتے تھے۔اس موقع پر ریاست کے معروف  ادیب و شاعر حیدر مظہری  بلہاری نے کہا کہ خلیل مامون کی خدمات کو ہم اگر کم سے کم دو خانوں میں رکھنا چاہیں تو نمایاں طور پرآپ کو بحیثیت ادیب وہ شاعر ایک خانے میں رکھا جا سکتا ہے تو نمایاں طور پر ذاتیات کے زمرے میں شمار کی جائیں گی پھر بہ حثیت چیئرمن کرناٹک اردو اکیڈمی اور اْردْو والوں  کی جو خدمات آپ  سے بن پڑی  ہیں وہ نہ صرف آپ کے قد کو اونچا کریں گے بلکہ اردو دنیا میں اپ کو یاد رکھے جانے کے معاملے میں ایک طرح کلیدی رول کلیدی رول  بھی ادا کرینگے۔ آپ  نے شمس الرحمن فاروقی زبیر رضوی اور گوپی چند نارنگ جیسے اردو ادب کے کئی ایک مشا ہیر کے خطبات کا سر زمین بنگلور پے اہتمام کیا۔ڈاکٹر سہیل نظامی سابق رکن کرناٹک اردو اکیڈمی نے کہا کہ خلیل مامون نے اردو زبان کے لیے جو کارنامے انجام دیے وہ ناقابل فراموش نہیں انہوں نے اپنے دور صدارت میں اردو اکیڈمی کے لیے جو کارہائے نمایاں انجام دیے اس کی اتباع ملک کی دوسری اکیڈمیوں کے لیے مشعل راہ ہے ۔سید منیر حسینی ریٹائرڈ میر مدرس وہ ادیب نے بتایا کہ مرحوم خلیل مامون کو کئی ایک اعزازات سے نوازا گیا مثلا ساہتیہ اکیڈمی ایوارڈ۔ غالب انسٹیٹیوٹ دہلی کی جانب سے شعری خدمات کے لیے غالب ایورڈ وغیرہ  شامل ہیں۔ وینکپا کامل کلادگی سابق رکن کرناٹک اردو اکیڈمی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ خلیل مامو ن کو سمجھنے کے لیے سوغات کہ پرانے شمارے دیکھنے ہوں گے- وہ تحریر و کردار میں اردو کے سچے بہی خواہ تھے اور وہ شاعر تو ایسے با کمال تھے کہ انہیں پڑھ کر قاری داد سخنوری دینے پر مجبور ہو جاتا ۔انہوں نے کہا کہ خلیل مامون علمی اور انسانی سطح پر ایک بے لوث شخصیت کے مالک تھے- بنگلور کی ادبی سرگرمیاں ان کے دم سے وقار حاصل کرتی تھیں۔ جلسے میں محبان اردو شبیر احمد ، معروف خطاط جی قاضی ،شاعر فرید قیصر ا ور اساتذہ شریک رہے ۔آخر میں تمام شرکاء نے مرحوم کے حق میں دعائے مغفرت کی۔