بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام” ایک ملاقات مسرور تمنا کے ساتھ "

اسٹیٹ نیوز

 

بنگلورو:۔بزمِ امیدِ فردا کے زیرِ اہتمام آن لائن ’’ایک ملاقات ڈاکٹر عائشہ سمن کے ساتھ‘‘ پروگرام منعقدکیاگیا تھا جس میں سید عرفان اللہ ، سرپرست و بانی بزمِ امیدِ فردا نے تلاوتِ آیاتِ ربانی سے نشست کا آغاز فرمایا۔ بی بی سمیہ نے اسعد اعجاز کی نعت ترنم میں پیش فرمائی۔ دورانِ گفتگو مسرور تمنا نے اپنے ادبی سفر کی ابتداء اور پھر پیش آنے والے مشکالات کا ذکر کیا اور بتایا کہ آج اس مقام پر بہت محنت و تکالیف کے بعد اب اطمینان ہے کہ ادب میں کچھ مقام حاصل ہوا ہے ۔ آپ نے کئی منفرد افسانہ سنائے اور ساتھ ساتھ آن لائن ناظرین کی فرمائش پر اپنے کلام سے تمام کو محظوظ فرمایا۔ آپ نے نئے لکھنے والوں کو پیغام دیا کہ ’’کسی سے کبھی گھبرائے نہیں بلکہ ہر حال میں اپنی تخلیقات پر فکر کریں کیوں کہ ہماری تخلیقات اصل میں ہماری اولاد جیسی ہوتی ہے اور ہر ماں کو اس کی اولاد اسے جان سے بڑھ کر ہوتی ہے۔‘‘ آگے فرمایا ’’اخباروں و رسائل میں چھپنا بڑی بات نہیں بلکہ اپنی تخلیقات کو اسیا معیاری بنانا چائیے کہ اخبارات و رسائل والے آپ تک پہنچے اور آپ کی تخلیقات کو چھاپنے پر فکر محسوس کریں۔ لکھتے رہیں ایک سے کئی بار اس کو پڑھیں اور جب دل مطمئن ہو تبھی دوسروں کو پڑھنے کیلئے بھیجیں اور نکتہ چینی کے لئے ہمیشہ تیار رہیں۔ تعریف کوئی بھی کر سکتا ہے لیکن آپ کی تخلیقات میں نقص صرف آپ کا چاہانے والا ہی نکال سکتا ہے یہ یاد رہے‘‘۔ نظامت صبا انجم عاشی نے فرمائی ۔ سید عرفان اللہ، سرپرست و بانی، بزمِ امیدِ فردا نے تمام آن لائن ناظرین و مہمانِ خاص کا شکریہ ادا کیا اور ساتھ ساتھ تمام اخبارات و رسائل کا بھی شکریہ ادا کیا جن میں بزمِ امیدِ فردا کے اعلانات و روداد برابر شائع ہو رہے ہیں۔اسی کے ساتھ کامیاب ملاقاتی نشست کے اختتام کا اعلان ہوا۔