بنگلورو:۔سابق وزیر و سینیررہنما آر روشن بیگ نے آج کہا کہ مسجد اعلیٰ کے معاملے پر کافی جدوجہدکے بعد آج ریاستی حکومت نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے شر پسندوں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکنے کیلئے امتناعی احکامات نافذ کردئیے ہیں ۔ریاست و بالخصوص منڈیا اور میسور کے مسلمانوں سے اپیل ہے کہ سری رنگا پٹنم کی تاریخی مسجد اعلیٰ کے معاملے پر مشتعل نہ ہوں اور صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں ۔ آج بنگلورو میں ایک پروگرام کے بعد اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس معاملے پر انہوں نے دفتر وزیر اعلیٰ، منڈیا ضلع انتظامیہ،ڈی جی پی اور پولیس حکام سے رابطہ بنائیے رکھا تھا آج آخرکار حکومت نے امتناعی احکامات نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منڈیا ڈپٹی کمشنر اور ایس پی سے بھی بات کی گئی ہے اور انہوں نے تیقن دیا کہ مسجد کے باہر بیری کیڈ ڈالے جائیں گے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے میں امتناعی احکامات نافذ کردیے گئے ہیں،کسی کو مسجد کے قریب آنے نہیں دیا جا ئیگا۔ حکام نے تیقن دیا ہے کہ کسی بھی حال میں حالات کو بگاڑنے نہیں دیا جا ئیگا اس کیلئے افزود پولیس فورس طلب کرلی گئی ہے۔روشن بیگ نے کہا کہ ایسے میں مسلمانوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ صبر و تحمل سے کام لیں اور وہ بھی مسجد کے آس پاس نہ جائیں۔اس تعلق سے منڈیا کے مسلم رہنماؤں سے بھی بذریعہ فون رابطہ کیا گیا ہے جنہوں نے واضح کیا کہ مسلمان کل مسجد کے قریب نہیں جائینگے،اور تنظیموں و جماعتوں سے خود منڈیا کے مسلمانوں نے تاکید کی ہے کہ وہ اس معاملے میں دخل دیکر امن نہ بگاڑیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ اس مسجد کی بنیاد سیکولر حکمران حضرت ٹیپوسلطان شہید نے رکھی تھی، ملک و بیرون ممالک کے مؤرخین نے بھی انکی سیکولر حکومت کے کارناموں کا اعتراف کیا ہے۔ حضرت ٹیپوسلطان شہید ایک سیکولر و عوام پرور حکمران تھے۔ روشن بیگ نے آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے اس بیان کا خیر مقدم کیا ہے جس میں انہوں نے گیان واپی مسجد پر تبصرے میں کہا ہے کہ ہر دن مسجدوں میں شیولنگ تلاش کرنے کی کوشش نہ کی جائے جو غیر ضروری ہے،اور واضح کیا کہ آر ایس ایس نے رام جنم بھومی کے بعد کسی طرح کی تحریک شروع کرنے کافیصلہ نہیں لیا ہے۔روشن بیگ نے بھاگوت کے اس بیان کو خوش آئند قرار دیا ہے۔اس موقع پر مقامی لیڈرآر رومان بیگ اور دیگر بھی موجود تھے۔
