سپریم کورٹ عدل و انصاف کی بنیاد پر این آرسی کے تکمیل شدہ عمل کو بحال رکھے:جمعیۃعلماء آسام

سلائیڈر نیشنل نیوز

دہلی:۔10مئی کو وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد، ڈاکٹر ہیمنتا بشوا شرما نے میڈیا کو بتایا کہ این آر سی میں نام شامل ہونے والوں میں سے آسام کے سرحدی اضلاع میں20 اور باقی اضلاع میں10 لوگوں کا دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ ساتھ ساتھ این آر سی کے ریاستی کوآرڈینیٹر نے 11مئی کو این آر سی کے مکمل اور جامع جائزہ کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی۔ واضح رہے کہ اس درخواست میںشائع ہونے والی حتمی این آر سی کو مسودہ فہرست کے ساتھ ایک اضافی فہرست بھی قرار دیا گیا ہے جو سراسر غیر معقول ہے اور سپریم کے حکم اور حکومت ہند کے فیصلے کے خلاف ہے۔ حتمی این آر سی کی اشاعت سے قبل سپریم کورٹ کے متعدد احکامات میں حتمی این آر سی کی اشاعت کی ہدایت کی گئی تھی۔سپریم کورٹ کی ہدایت کے مطابق، رجسٹرار جنرل ہند اور اس وقت کی ریاستی کوارڈینٹر نے مشترکہ طور پر 31اگست 2019 کو حتمی این آر سی شائع کیا۔ اگرچہ حتمی این آر سی کی اشاعت سے پہلے مرکزی حکومت اور ریاستی حکومت نے مکمل مسودہ میں شامل یا مکمل مسودہ سے خارج افراد کی نظرثانی کے لئے درخواستیں پیش کی ہیں لیکن سپریم کورٹ نے ریاستی کوارڈینٹر کی رپورٹ پر اطمینان کااظہارکرتے ہوئےدونوں حکومت کی درخواست کو مسترد کر دیا اور حتمی این آر سی کو شائع کرنے کی ہدایت دی۔ مرکزی وزارت برائے امور داخلہ کو جاری کردہ ایک بیان میں شائع ہونے والی این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ وزارت خارجہ نے ایک پریس ریلیز میں کہاکہ این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا اور این آر سی سے خارج لوگوں کے مستقبل کے قانونی عمل کا بھی ذکر ہے۔ مرکزی وزیر برائے امور داخلہ نے ہندوستان کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا اور تحریری سوال کے جواب میں این آر سی کو حتمی این آر سی قرار دیا،لہٰذا این آر سی کے ریاستی کوآرڈینیٹرکے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ حتمی این آر سی کو سپریم کورٹ میں جمع کروائی گئی درخواست میں اضافی فہرست کے طور پر ذکر کرے۔ہمارے خیال میں اس طرح کی اپیل سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بے معنی ہے۔آسام جمیعۃ علماء کے صدر مولانا مشتاق عنفراور مولانا عبد الرشید قاسمی ناظم اعلیٰ، جمعیت علماء آسام نے آج ایک بار پھر واضح کیا ہے ہم پہلے کی طرح اس بار بھی مولانا سید ارشد مدنی صدر محترم کے حکم پر سپریم کورٹ میں اس کے خلاف قانونی موقف اختیار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جمیعت علمائے آسام کی جانب سے موجودہ ریاستی کوآرڈینیٹر کی شبیہہ اور تقرری کے خلاف سپریم کورٹ میں ایک IA دائر کی گئی ہے،جو تاحال زیر التواءہے۔سپریم کورٹ کی سربراہی میں تیار ہونے والی این آر میں سپریم کورٹ کی ہدایت کے بغیر موجودہ ریاستی کوآرڈینیٹر نے مختلف اضلاع میں خطوط ارسال کردیئے ہیں، اور این آر سی میں شامل لوگوں کا دوبارہ جائزہ لینے کے کام شروع کرنے کا حکم دے دیا۔جمعیت علمائے آسام کی طرف سے اس کے خلاف توہین عدالت کی عرضی داخل کی گئی اور یہ مقدمہ بھی زیرِ سماعت ہے۔ اس کوارڈینٹر کے عمل غیرجانبدارانہ ہونے میں ہمیں شکوک وشبہات ہیں۔واضح رہے کہ جمعیت علماء آسام کی غیر ملکی مسئلے کے پائیدار حل کے لیے ایک دیرینہ کوشش رہی ہے اورسپریم کورٹ کے زیراہتمام بننے والی این آر سی کے ہر کام میں تعاون کر رہی ہے۔ آسام ایکوڑ کے مطابق ایک ایسی این آر سی بنے، جس میں ایک بھی غیر ملکی کا نام داخل نہ ہو نے پائے اور کوئی بھی ہندوستانی کا نام خارج بھی نہ ہو ، اور اسی امید سے جمعیت علماہر سماعت میں سپریم کورٹ میں موجود رہی۔