شعراء کی’’ طلبہ سے ملاقات ‘‘پروگرام میںمحمدیوسف رحیم بیدری، رحمت اللہ رحمتؔاور سخاوت علی سخاوت ؔ کا اظہار خیال
بیدر:۔ہم نے اب تک اردو زبان کے لئے کام کیالیکن اب ہم دیگر زبانوں جیسے ریاستی زبان کنڑا، بین الاقوامی زبان انگریزی کیلئے بھی کام کرنے کاعزم رکھتے ہیں۔ اس لئے طلبہ سے ہماری گزارش ہے کہ وہ اپنی مادری زبان اردو کے ساتھ ساتھ کنڑا اور انگریزی سیکھنے کی طرف توجہ دیں لیکن اس کایہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اپنی مادری زبان کوبھول جائیں۔ طلبہ صرف یہ کام کریں کہ اپنے نصاب میں داخل زبانوں پر کمانڈ حاصل کرنے کے لئے کوشاں رہیں ۔ زبانیں سیکھنے سے صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے ۔ جتنی زیادہ زبانیں سیکھی جائینگی اتنا ہی صلاحیتوں میں اضافہ ہوگا۔ نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرام ؓکو زبانیں سیکھنے کی تاکید کی جس کے نتیجہ میں صحابہ کرام نے چھ چھ زبانیں سیکھیں۔ یہ باتیں ممتاز شاعروادیب اور صحافی جناب محمدیوسف رحیم بیدری ریاستی نائب صدر ادارۂ ادبِ اسلامی ہند کرناٹک نے کہیں۔ وہ آج شہر کے سید عمرہاشمی میموریل اردو ہائی اسکول ، میلور (شاستری نگر) بیدر میں ہائی اسکولی طلبہ وطالبات سے’’طلبہ سے ملاقات‘‘ پروگرام کے تحت خطاب کررہے تھے۔ انھوں نے مزید کہاکہ طلبہ وطالبات بری عادتوں سے خود کو بچائے رکھیں۔ گٹکھا، تمباکو وغیرہ استعمال کرنے کی طرف نہ جائیں۔اللہ تعالیٰ، والدین اور استاد کی قدر کرتے رہیں۔ یہ تکون زندگی سے کبھی خارج نہ ہو ۔ موصوف نے طلبہ سے مختلف سوالات کرتے ہوئے کہاکہ ہم دراصل شاعر وادیب ہونے کے ناطے آپ تمام سے اپیل کرتے ہیں کہ بری عادتوں سے بچنے اور اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کیلئے شعرکہیں، کہانیاں لکھیں۔ اچھی اچھی کتابیں پڑھیں ۔خود کو مثبت کام میں لگائے رکھیں۔چار سال قبل آپ کے اسکول کی طلبہ وطالبات کی کہانیاںہم نے دہلی، حیدر آباد اور بنگلورو کے اخبارات میں شائع کرائی تھیں۔ رحمت اللہ رحمتؔ شیموگہ نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یکم جنوری کو نیا سال منانا، برتھ ڈے منانا، ویلنائن ڈے کا اہتمام کرنا یہ سب مسلمانوں کی زندگی اور ان کے معاشرے میں چلا آیاہے۔ اس کے بارے میں مسلمانوں کو کسی نے ترغیب نہیں دی ۔ اس کے باوجو د ایساکیوں ہوا؟ایسا اسلئے ہواکہ ہم نے انگریزی زبان حاصل کرنے کی فکر میں زبان کہاں تک حاصل کی ، اس کو چھوڑکر جائزہ لیتے ہیں تو پتہ چلتاہے کہ زبان کے ساتھ آنے والے کلچر کو ہم نے ضرور اپنالیا۔ مسلمان ہندوکی کوئی تخصیص نہیں ہے۔ سبھی نے ایسا کیاہے۔ لہٰذا یہ سب چیزوں سے باز آئیں ۔ ہمیں اپنی زبان اردو سے محبت ہو۔ اپنی مادری زبان سے تعلق کا اظہار کرتے ہوئے احساس کمتری نہ ہو۔ موصوف نے تمباکو ، گٹکھا جیسی چیزیں شوقیہ بھی استعمال نہ کرنے کی بات کہی۔اور بتلایا کہ آج کاشوق کل کی لت میں تبدیل ہوجائے گا۔ایک اور شاعراور مؤظف مدرس جناب محمد سخاوت علی سخاوت ؔ نے اپنے خطاب میں کہاکہ طلبہ وطالبات تعلیم کے حصول کی طرف متوجہ رہیں۔ میں نے میلور میں آٹھ سال تک طلبہ وطالبات کو تعلیم دی ہے ۔ ایک انسان تعلیم اور اخلاق سے ہی بڑا بنتاہے ۔ جناب محمد مصباح الدین میرمعلم نے افتتاحی کلمات کہے اور انھیں کے اظہار تشکر پر ’’طلبہ سے ملاقات‘‘ پروگرام اپنے اختتام کو پہنچا۔ اس موقع پر محمد حسین اڈپی اورکنڑی معلم شیوراج بھی موجودتھے۔
