نبی اکرم ﷺ کی نسبت کوئی معمولی چیز نہیں ، صرف آپ ﷺ کے نامِ مبارک رکھنے کی وجہ سے مومن جنّت کا مستحق بن جاتا ہے ۔ابن سعد کی روایت ہے نبی ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ” تمہارے گھر میں "محمد ” ﷺ نام کا شخص ایک یا دوتین ہوں تو تمہارے ایسے گھر میں بہت برکت ہوگی ۔ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے مکہ والوں سے سنا ہیکہ جس گھر میں محمد ( ﷺ ) نام کا کوئی شخص ہو تو وہ گر بہت خیر و برکت والاگھر ہوتا ہے ۔۔ اور تو اور اس کے پڑوسی ہمسایہ کو بھی بغیر کسی مشقت کے رزق ملتا رہتا ہے ۔
ایک اور روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس گھر میں میرا نام ہو اس گھر میں تنگدستی نہ ہوگی اور آپ ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جس آد می کے تین بچے ہوں اور وہ ان میں سے کسی ایک کا نام بھی "محمد” ﷺ نہیں رکھا وہ جاہل ہے ۔
حضرت شاہ عبد الحق محد ث دہلوی رحمہ اللہ علیہ نے فرمایا ایک حدیث میں آیا ہے کہ جو قوم کسی مشورہ کیلئے جمع ہوئی تو ان میں "محمد ” ﷺ نام کا کوئی آدمی تھا تو یقیناً ان کے نام کی برکت اللہ تعالیٰ عطا فرمائیگا ۔ایسی شان اور ایسی امتیازی خصوصيت اپنے اندر رکھتے ہیں ۔ ہمارے آقا ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ” جو آدمی ایک مرتبہ مجھ پر درود شریف بھیجتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے نگران فرشتوں کراماً کاتبین کو حکم فرماتے ہیں کہ اس بندہ کے تین دن تک کوئی گناہ( صغیرہ ) نہ لکھو ۔
تو ربِّ کریم کی اس سے بڑی سعادت اور عطا و بخشش کا کیا ٹھکانہ کہ جس عمل میں وہ ( پروردگار ) خود فرشتوں کے ساتھ ایمان والوں کو یہ شرافت بخشی کہ اس مبارک عمل میں درود و سلام بھیجنے پر مامور کیا اور اجر بھی دیا اور ایک مرتبہ اگر ہم درود بھیجتے ہیں تو اللہ تعالی دس مرتبہ رحمتیں اس بندہ مومن پر بھیجتے ہیں ۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ” جو شخص ہزار مرتبہ آقاﷺ پردرود و سلام بھیجتا ہے تو ربّ العالمین اس شخص کو دوزخ کا عذاب نہ دیگا ” ایک اور روایت میں ہیکہ جو شخص مجھ پر ہزار مرتبہ درود پڑھے تو ایسے شخص کو مرنے سے پہلے ہی جنت کی خوشخبری دیدی جائیگی۔
یہاں درودوں میں افضل درود شریف جو آپﷺ سے ثابت ہے وہ درودِ ابراہیمی ہے جو دوسرے درودوں کی بنسبت افضل ترین کلمات پر مشتمل ہے ۔ رسول اکرم ﷺ نے نمازوں کیلئے درود ابراہیمی کا ہی انتخاب کیا ۔ بخاری شریف کی بھی روایت ہے ترجمہ ” حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ مجھ سے کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ ملےتو فرمایا کیا میں تمہیں ایسا تحفہ نہ دوں جسے میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے ۔ میں نے عرض کیا ضرور دیجئے ۔انہوں نے کہا : ہم نے رسول کریم ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ پراور اہل بیت پر ہم درود کس طرح پڑھیں ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ تو بتلا دیا کہ آپ ﷺ پر کیسے سلام پڑھیں ۔ ( السلام علیک ایّھاالنبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ) آپ ﷺ نے فرمایا (درود شریف ) اسطرح پڑھو
۔اللہم صلِّ علی محمد وعلی آل محمد کما صلّیت علی ابراھیم وعلی آل ابراھیم انّک حمید مجید ۔
اللہم بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم وعلٕی آل ابراھیم انّک حمید مجید ۔
۔ تو یہ درود شریف اللہ کے نبی ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو سکھایا ہے ۔
حسن بصری رحمہ اللہ نے خود ایک خواب دیکھا کہ جنت میں ایک لڑکی ہے وہ آکر یہ کہنے لگی کہ کیا آپ مجھے جانتے ہو ، آپ نے کہا نہیں ۔تو وہ لڑکی کہنےلگی کہ میں اس عورت کی لڑکی ہوں جسکو آپ نے درودشریف پڑھنے کہاتھا ۔ حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا تیری ماں نے یہ کیفیت بیان نہیں کیا ( یعنی تو عذاب میں ملوث تھی ۔عذاب ہورہاتھا تو لڑکی نے کہا میری ماں نے سچ کہا ہاں میں عذاب قبر میں ملوّث تھی عذاب ہورہا تھا لڑکی نے کہا میری ماں نے سچ کہا ہاں میں عذاب قبر میں گرفتار تھی ) پھر حسن بصری ؒ نے دریافت کیا پھر یہ مقامِ عزت کیسے حاصل ہوا ۔
لڑکی نے جواب دیا کہ ہم ستر ہزار لوگ عذاب قبر میں ملوث تھے اور عذاب قبر میں گرفتا تھے کہ ہماری قبروں سے ایک بندہ گزرا اور اس نےایک مرتبہ درود شریف پڑھا اور ہمیں بخش دیا ۔بس ہماری نجات ہوگئی ۔ اللہ عز وجل نے ہم ستر ہزار کو بخش دیا ۔ (ابھی آپ دیکھ رہے ہیں کہ ہم لوگ کتنی خوشی سے رہ رہے ہیں وہ درود پاک کی برکت ہے )
اللہ اکبر کبیرا ، والحمدللہ کثیرا وسبحان اللہ بکرۃ واصیلا ۔
ابن الخیام رحمہ اللہ سے نقل کیا گیا کہ حضرت خضر اور الیاس( علیھما )الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کے ایک پیغمبر جو دشمنوں سے جنگ کررہے تھے تو فتح ونصرت اور کامیابی حاصل نہیں ہورہی تھی تو انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ آخری پیغمبر محمد رسولﷺپر درودشریف پڑھو تو دیکھتے ہی دیکھتے اللہ تعالی کی مدد آئی اوروہ جنگ فتح یاب ہوگئی ۔
از:۔ عبدالجلیل القاسمی چنئی. 9042957806

