کورونامریضوں کیلئے خوشخبری؛اب بیڈکی تلاش کرنے کی ضرورت نہیں،آن لائن ہی مل جائیگی انفارمیشن

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں

شیموگہ:۔کورونامریضوں کیلئےاب خوشخبری ہے کیونکہ ریاستی حکومت نے بیڈبلاکنگ اور بیڈ کے ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے کا بہانہ بنانے والےا سپتالوں پر شکنجہ کسنے کیلئے سینٹرلئز اسپتال بیڈ مینجمنٹ سسٹم(سی ایچ بی ایم ایچ)نامی آن لائن پورٹل کاآغازکیاہےاور اس سسٹم میں پل پل کی تفصیلات مہیا ہوتی رہیں گی جس سے مریضوں کو بیڈ لینے میں آسانی ہوگی۔سرکاری اسپتالوں کے علاوہ نجی اسپتالوں میں علاج حاصل کرنے کے خواہشمند مریضوں کیلئے یہ بہت بڑی سہولت مانی جائیگی،اب تک سرکاری اسپتالوں میں علاج حاصل کرنا آسان بات تھی،ساتھ میں حکومت نے پرائیویٹ اسپتالوں کو سرکاری خرچ پر علاج کرنے کی ہدایت دی تھی،لیکن پرائیوئٹ اسپتال حکومت کو دھوکہ دیتے ہوئے بیڈ نہ ہونے کی بات کہتے تھے اور سرکاری کوٹے کے بیڈ بھی اپنے حساب سے زیادہ قیمتوں پر مریضوں کو مہیا کررہے تھے۔لیکن اس نئے سسٹم سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ کوئی بھی مریض بیک وقت میں ایک سے زیادہ اسپتالوں میں اپنے لئے بیڈ بُک نہیں کرسکتا۔اب تک کئی مالدار مریض اپنے لئے ایک ساتھ دوتین اسپتالوں میں بستروں کی ریزرویشن کرواتے تھےاور اس کا فائدہ مریض کے ساتھ ساتھ اسپتالوں کو بھی ہواکرتاتھا،کیونکہ مریض ایک جگہ علاج کرواتا تھا،مگر دوتین مقامات پر اس کے نام سے ہی بیڈکامیٹر چلتے رہتاتھا،جس سے اسپتالوں کو فائدہ ہی فائدہ ہورہاتھا۔سی ایچ بی ایم ایچ سسٹم میں ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اگر مریض کوایک ضلع سے دوسرے ضلع میں علاج کروانے کی سہولت چاہیے تو وہ آن لائن بکنگ کرواسکتے ہیں،مثلاً اگر کوئی مریض شیموگہ میں ہے تو اگر انہیں بنگلورومیں علاج چاہیے تو وہ شیموگہ میں ٹرایگ سینٹرپر جاکر بیڈ کی بکنگ کرواسکتے ہیں پھر اگلے 12سے24 گھنٹوں میں وہ بنگلورو کے ریزور شدہ اسپتال میں علاج حاصل کرسکتے ہیں۔ہاں اگر درمیان میں طبیعت زیادہ بگڑ جاتی ہے تو قریبی اسپتال میں بھی علاج حاصل کرسکتے ہیں۔جیسے ہی وہ دوسرے اسپتال میں داخلہ لینگے تو وہ بنگلوروکے اسپتال کی بکنگ خودبخود ہٹ جائیگی،اس پورے منصوبے کو قابل آئی اے ایس افسر وی پنوراج کی نگرانی میں انجام دیاجارہاہےا ور اگلے ایک یادو دنوں میںاسے حتمی شکل دی جائیگی۔
ہوم آئسولیشن کے قوانین میں ترمیم:۔اب تک ہوم آئسولیشن کیلئے لوگ ڈاکٹروں کی منت سماجت کرکے یا پھر بعض مقامات پر کچھ لے دیکر ہوم آئسولیشن کی سہولت حاصل کررہے تھے،ہوم آئسولیشن کے معنی گھرمیں ہی رہے کر اپنے آپ کو دوسروں سے علیحدہ کرلیناتھااور اپنے سے دوسروں کوکورونا پھیلانے سے روکنا تھا۔اس قانون کا غلط استعمال کرنے کی وجہ سے روزبروز کوروناکے معاملات میں اضافہ ہورہاتھا،اس لئے محکمہ صحت عامہ نے ہوم آئسولیشن کے نظام کو پوری طرح سے بند کردیا تھا۔مگر اب پھر سے اسے نئے طریقے سے جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔اس نئے طریقے سے جیسے ہی مریض کی رپورٹ پازیٹیوآتی ہے تو انہیں اپنے علاقے کے ٹرایگ سینٹر کو جانا پڑیگا ، وہاں پر ڈاکٹر اس بات کا فیصلہ لینگے کہ مریض کو کیا گھر بھیجنا ہے یا اسپتال بھیجناہے،یا پھر کوویڈ کیر سینٹربھیجناہے اور یہاں پر مریض کو اس کی پسندکے مطابق ترجیحی بنیادپر اسپتال یا کوویڈکئیر سینٹر بھیجاجائیگا،لیکن گھر کو جانے کیلئے کسی بھی طرح کے طبی کمزوریوں نہیں ہونے چاہیے، ہاں اگرٹرایگ سینٹرمیں صحت مندتھا ،پھر بعد میں طبیعت بگڑنے لگے گی تو فوری طور پر مریض کو اسپتال میں بھرتی کرنے کے فوری اقدامات اٹھائے جائینگے،البتہ دوبارہ انہیںٹرایگ سینٹرآناہوگا۔