شیموگہ:۔بیوی اور اس کے اہل خانہ سے تنگ آکر ایک نوجوان نے خودکشی کرلی ہے۔یہ واردات شیموگہ شہرکے سولے بیل میں پیش آیاہے۔ابتداء میں اس معاملے کومعمولی خودکشی ماناجارہاتھا،لیکن خودکشی کرنےوالے بھائی کی جانب سے پولیس تھانے میں درج کروائی گئی ایف آئی آر سے یہ بات سامنے آئی ہےکہ بیوی اور اس کے رشتہ داروں کی حراسانی کی وجہ سے سولے بیل کے ساکن خواجہ معین الدین نے خودکشی کی ہے۔خواجہ معین الدین کی شادی پروین نامی خاتون سے15 سال قبل ہوئی تھی،ان کے تین بچے بھی ہیں ،لیکن پچھلے کچھ عرصے سے روزانہ میاں بیوی کے درمیان جھگڑے ہواکرتے تھے،اس تعلق سے پروین بانونے یہاں کے ادارۂ شرعیہ میں خلع کیلئے عرضی پیش کی تھی،قاضیان کے ذریعے اس معاملے کو سلجھانے کی کوشش کی گئی اور دونوں کی اصلاح ببی کی گئی تھی مگر یہ معاملہ جوں کا توں برقرار رہا ۔ کائونسلنگ کے دوران پروین اور اس کے بھائی اعظم، محمد فیروز،ریاض صدیقی نے خواجہ معین الدین کو حددرجہ گالیاں دی تھیں اور ذہنی طورپر پریشان کئے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ایک ماہ قبل پروین نے خواجہ معین الدین اور بچوں کو چھوڑکر علیحدگی اختیارکی تھی،اس وجہ سے خواجہ کو بچوں کی دیکھ بھالی کیلئے پریشانیاں ہورہی تھیں ۔ خواجہ نے کئی دفعہ پروین کو ساتھ رہنے کیلئے بھی کہاتھا،لیکن پروین نے خواجہ سے دس لاکھ روپئے کا معاوضہ طلب کیاتھا۔ان تمام باتوں سے تنگ آکر خواجہ نے10 فروری کو پھانسی لگا کر خودکشی کرلی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ میاں بیوی کا جھگڑا تکیہ تک رہتاہے لیکن یہاں جھگڑا پھانسی تک پہنچ چکاہے۔
