کرناٹک کے5ڈی سی سی بینکوں میں کروڑوں کا گھپلہ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ریاستی وزیر برائے کو آپریشن ایس ٹی سوم شیکھر نے بتا یا کہ ریاست کے21اضلاع کے کو آپریٹوں بینکوں (ڈی سی سی بینک) میں سے دھار واڑ،باگل کوٹ، وجئے پور،شیموگہ اور بیدر ڈی سی سی بینکوں میں آڈٹ کے دوران بد عنوانیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ریاستی اسمبلی سیشن کے دوران قانون ساز کو نسل میں جنتا دل (سیکولر) کے رکن کونسل ٹی اے شروانا کے پو چھے گئے سوال کا جواب دیتے ہو ئے سوم شیکھر نے اس بات کی جانکاری دی اور کہا کہ اس سلسلہ میں بد عنوانیوں میں ملوث عملہ کے خلاف کارروائی کی گئی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ ڈی سی سی بینک دھارواڑ میں قرضہ تقسیم اور پگمی قرضہ تقسیم میں 291لاکھ روپئے کا غلط استعمال کرنے والے عملہ روی کمار وی پاٹل (چیک کیرور شاخ کے مینیجر)،اوراما دیوی کروشی کے خلاف کارروائی کر تے ہو ئے مذکورہ دونوں کو ملازمت سے معطل کیا گیا ہے اور ان کے ساتھ ملوث ہونے والوں کے خلاف فوجداری مقدمات دائر کر کے معا ملہ کی تحقیق سی او ڈی کے حوالہ کی گئی ہے۔انہوں نے بتا یا کہ باگل کوٹ ڈی سی سی بینک میں 12.27کروڑ روپیوں کا گھپلہ ہوا ہے جس میں سے79.1کروڑ روپئے واپس ہو ئے ہیں اورکل22افراد کے خلاف فوجداری مقدمات درج کئے گئے ہیں اور معا ملہ سی بی آئی کے حوالہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔وزیر برائے کو آپریشن نے بتا یا کہ وجئے پور ڈی سی سی بینک میں 12قرضہ داروں نے نقلی دستاویزات پیش کر کے قرضہ حاصل کیا ہے،ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کی گئی ہے اور سنٹرل دفتر شاخ مہیلا شاخ کے مینیجر کو ملازمت سے معطل کیا گیا ہے۔انہوں نے بتا یا کہ کل488لاکھ روپیوں کا دھوکہ ہوا ہے ۔انہوں نے بتا یاکہ12کھاتوں میں سے5کھاتوں کے قرضہ داروں سے51لاکھ روپئے وصول کئے گئے ہیں اور 7کھاتوں سے37.3لاکھ روپئے قرضہ باقی ہے۔ انہوں نے بتا یا کہ شیموگہ ڈی سی سی بینک میں نقلی زیورات رہن رکھ کر قرضہ ضوابط کی خلاف ورزی کر تے ہو ئے قرضہ جاری کیا گیا ہے،جس سے62.77 کروڑ روپیوں کا گھپلہ ہوا ہے،ا ن میں سے صرف83.5 کروڑ روپئے بینک میں جمع ہو ئے ہیں۔اسی طرح بیدر کی ڈی ڈی سی بینک میں 17.2کروڑ روپیوں کا گھپلہ ہوا ہے،اس معا ملہ میں 6ملازمین کو ملازمت سے معطل کیا گیا ہے۔اس سے قبل رکن کونسل شرونا نے مطالبہ کیا کہ معا ملہ کو سی بی آئی کے حوالے کیا جا ئے۔