شمالی کینرا میں کھسکتی سیاسی زمین بچانے کا ہتھکنڈا ; بی جے پی حکومت نے واپس لیے ہندوکارکنان کے خلاف دائر پریش میستا تشدد معاملہ کے 112 مقدمات

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔ سال 2017 میں ہوئی پریش میستا کی موت کو فرقہ وارانہ قتل کا رنگ دے کر 2018 کے اسمبلی الیکشن میں بھرپور فائدہ اٹھانے والی حکومت اب اس معاملہ میں سی بی آئی کی طرف سے عدالت میں بی رپورٹ داخل کرنے کے بعد ہزیمت کا شکار ہوگئی ہے اور مقدمات میں پھنسے ہندو کارکنان میں پائی جانے والی ناراضگی اور برہمی کے پس منظر میں اُسے اپنی سیاسی زمین کھسکتی محسوس ہونے لگی ہے ۔اس صورتحال سے نمٹنے کے لئے بی جے پی حکومت نے ان 112 مقدمات کو واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے جو پریش میستا معاملہ پر پرتشدد احتجاج میں ملوث ہندوتوا وادی کارکنان اور بی جے پی لیڈران پر کانگریسی حکومت کے دوران پولیس نے دائر کیے تھے ۔ یاد رہے کہ پریش میستا کی موت کو فرقہ وارانہ فسادات کے دوران کیا گیا بے رحمانہ قتل دے کر اننت کمار ہیگڈے ، شوبھا کرندلاجے اور نلین کمار کٹیل جیسے بی جے پی لیڈران نے اشتعال انگیز بیانات دے کر ماحول کو زہر آلود کیا تھا وہیں پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ جیسے قد آور لیڈر نے پریش میستا کے گھر پہنچ کر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا تھا ۔ اس کے نتیجے میں جو ضلع سطح پر پرتشدد احتجاج ہوا وہ بڑے پیمانے پر فرقہ وارانہ فسادات میں بدلنے کے ساتھ  لوٹ مار اور آتش زنی کا بازار گرم کیا گیا تھا ۔ یہاں تک کہ آئی جی پی کی کار تک کو نذر آتش کیا گیا تھا ۔اس وقت کی کانگریسی حکومت نے فسادیوں کے خلاف کڑی کارروائی کرتے ہوئے ان پر کریمنل مقدمات دائر کیے تھے ۔ ملزمین میں موجودہ اسمبلی اسپیکر وشویشورا ہیگڈے کاگیری بھی شامل تھے جو اُس وقت ایم ایل اے تھے ۔ اس کے علاوہ سدارامیا کی ریاستی حکومت نے اس معاملہ کو تفتیش کے لئے سی بی آئی کے حوالہ کیا تھا اور گزشتہ تین چار سال سے بی جے پی پریش میستا معاملے کو گرم رکھ کر روٹیاں سینکتے آ رہی تھی ۔ مگر کچھ مہینے پہلے سی بی آئی نے عدالت میںبی رپورٹ داخل کرتے ہوئے پریش میستا کی موت کو حادثاتی معاملہ قرار دیا اور تفتیش کے سلسلے کو بند کرنے کی بات عدالت کے سامنے رکھی ۔ حالات کی اس تبدیلی سے ایک طرف بی جے پی کی ساکھ متاثر ہوئی تو دوسری طرف مقدمات میں پھنسے ہندوتوا وادی نوجوانوں نے کھل کر اپنی ناراضی جتاتے ہوئے کہا کہ ہندوتوا کے نام پر احتجاج میں شامل ہونے کے بعد عدالتی کارروائی سے وہ تنگ آ گئے ہیں اور بی جے پی کے لیڈران نے ان کی کوئی خبر گیری نہیں کی ہے ۔ حالات کو اپنے خلاف جاتے دیکھ کر اب وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی کی قیادت والی ریاستی بی جے پی حکومت نے وشویشورا ہیگڈے کاگیری سمیت جملہ 112 ملزمان پر دائر کیے گئے مقدمات واپس لینے کا اعلان کیا ہے ۔ خیال رہے  کہ کچھ مہینے قبل ریاستی حکومت نے اسی معاملہ سے متعلق چھوٹے موٹے الزامات والے 26 مقدمات واپس لیے تھے مگر سنگین الزامات والے مقدمات ہٹائے نہیں گئے تھے ۔ لگتا ہے کہ اب ان بقیہ مقدمات کو بھی واپس لیتے ہوئے علاقے کے نوجوانوں کی ناراضگی دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ آنے والے اسمبلی الیکشن میں ان برہم نوجوانوں کو اپنے ساتھ رکھا جا سکے ۔