لندن:۔ایرانی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ایک اعلیٰ کمانڈر نے کا کہنا ہے کہ ایران سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت سابق سینئر امریکی اہلکاروں کو 2020 میں ایرانی فوجی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل میں ملوث ہونے پر قتل کرنا چاہتا ہے۔پاسدارارن انقلاب کے ایرو اسپیس یونٹ کے سربراہ امیر علی حاجی زادہ نے ایرانی سرکاری ٹی وی پر ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم ٹرمپ کو مارنے میں کامیاب ہو ںگے ،سابق وزیر خارجہ مائیک] پومپیو، [امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جنرل کینتھ] میک کینزی اور جن فوجی کمانڈروں نے [سلیمانی کو مارنے کا] حکم دیا تھا، انہیں ضرور مارا جائے گا۔حاجی زادہ نے یہ بیان سلیمانی کی ہلاکت کے پانچ دن بعد 8 جنوری 2020 کو مغربی عراق میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے عین الاسد ایئر بیس پر کیے گیے ایران کے میزائل حملے کے بارے میں بات کرتے ہوئے دیا۔ اس حملے میں کوئی امریکی فوجی ہلاک نہیں ہوا تھا۔پاسداران انقلاب کے سمندر پار بازو قدس فورس کی قیادت کرنے والے جنرل سلیمانی کو ٹرمپ کے حکم پر عراق میں امریکی فضائی حملے میں قتل کیا گیا تھا۔ایرانی حکام نے بارہا سلیمانی کی موت کا بدلہ لینے کا عہد کیا ہے، کیونکہ عین الاسد پر حملے کو ناکافی جوابی کارروائی کے طور پر دیکھا گیا۔گزشتہ ماہ صدر ابراہیم رئیسی نے سلیمانی کے قتل کی تیسری برسی پر بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ سلیمانی کا بدلہ "یقینی” ہے۔ نومبر میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے کہا کہ ایران سلیمانی کے قتل کو کبھی نہیں بھولے گا، ایک اور موقعے پر انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت ان کی موت کا بدلہ لینے کے لیے پرعزم ہے۔
