لنگایت اور کُربا ہونگے ایم ایل اے،برہمن اور گوڈا سماج کیلئےایم ایل سی کا وعدہ،مسلمان بن رہے ہیں گھوڑے؟

اسٹیٹ نیوز ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ریاست میں کانگریس پارٹی کے ٹکٹوں کی دعویداری میں تمام طبقے برابرکا دعویٰ کررہے ہیں،لنگا یت،کُربا،برہمن اس میں مضبوط دعویدارہیں،ان دعویداروں کو خوش کرنے کیلئے کے پی سی سی باقاعدہ ٹکٹوں کا اعلان کررہی ہے،وہیں گوڈا،برہمن اور دوسرے طبقات کے دعویداروں کو انتخابات کے بعد ایم ایل سی یا پھر بورڈ وکارپوریشن کے صدور بنانے کے وعدے کئے جارہے ہیں،وہیں مسلمانوں کو صرف گھوڑا بنایاجارہاہے،جس پر سوارہوکر کانگریس پارٹی اقتدارپر جانے کی تیاری کررہی ہے،کم وبیش ہر اسمبلی حلقے میںٹکٹوں کو لیکر بغاوت ہونے کے آثارہیں،اسے دیکھتے ہوئے کے پی سی سی دوسرے مذاہب کےدعویداروں کو الگ الگ عہدے دینے کے وعدے کررہی ہے۔قوی امکانات یہ بھی ہیں کہ ان وعدوں کو پورابھی کیاجائیگا۔لیکن مسلم دعویداروں کو بہت ہی پیارسے ہٹا دیاجارہاہے،نہ ان کو ایم ایل سی بنانے کا وعدہ ہورہاہے نہ ہی کسی بورڈ یا کارپوریشن کے عہدوں پر براجمان کرنے کی بات کہی جارہی ہے،صرف یہ کہاجارہاہے کہ بی جے پی کوہارانا مقصدہے،ورنہ آنےوالے دنوں میں مسلمانوں کیلئے حالات خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں،ان باتوں سےبہلاپھسلاکر مسلمانوں کو خاموش کروایاجارہاہے۔اس دفعہ کرناٹک میں محض7 مسلم دعویداروں کو ٹکٹ دی گئی ہے،ان میں سے بیشتر دعویدارموجودہ ایم ایل اے ہیں،نئے چہروں کو یہاں اہمیت نہیں دی گئی ہے۔وہیں دوسری جانب کانگریس کی ٹکٹ طلب کرنےوالے مسلم دعویدار بھی سنجیدہ نہیں ہیں یاتو یہ صرف اپنے وجودکو دکھانا چاہ رہے تھے یاپھر کسی کے کہنے پر ٹکٹ کا مطالبہ کررہے ہیں۔اتناہی نہیں وہ نہ تو خودکیلئے ہائی کمان پر دبائو ڈال رہے ہیں نہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے کے شرط رکھ رہےہیں۔محاورہ ہے کہ کھیل میں شامل ہیں ،کھانے میں نہیں۔اسی طرزپر مسلم دعویداروں کا رویہ ہے۔اگر اب بھی مسلم سیاسی لیڈران اپنےآپ کو بدلنے کیلئے تیارنہیں ہونگے تویہ آنےوالے دنوں میں پارٹی کے معمولی عہدے دینے سے بھی انکارکیاجائیگااوریہ بس جئے جئے انپا،جئے جئے تیمنا کہتے ہوئے پھرینگے۔