قانون ہاتھ میں نہ لیں مسلمان،مسلم پرسنل لابورڈ کی اپیل

سلائیڈر نیشنل نیوز
لکھنؤ:۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں مسلمانوں سے قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لینے کی اپیل کی گئی۔یہ بھی کہا گیا کہ عدالتیں مسلمانوں کو انصاف کی آخری امید ہیں۔ ساتھ ہی اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملک میں قانون پر عمل درآمد کے بغیر مکانات گرائے جا رہے ہیں۔ نیز، احتجاج کے اپنے آئینی حق کا استعمال کرنے والوں کو ثبوت کے بغیر گرفتار کر کے سالوں تک جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف مذمتی تحریک منظور کی گئی۔ذرائع کے مطابق بورڈ کی مرکزی کمیٹی تشکیل دے دی گئی ہے، جب کہ ریاستوں کے لیے کمیٹیاں بنانے کا عمل جاری ہے۔ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ اگر یہ مسئلہ مذاکرات سے حل نہ ہوا تو آئینی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے پرامن مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ اجلاس میں ملک کی مختلف عدالتوں میں زیر التوا مسلم پرسنل لا سے متعلق مقدمات کا بھی جائزہ لیا گیا۔عدلیہ کو شہریوں کے لیے امید کی آخری کرن قرار دیتے ہوئے اپیل کی گئی کہ عدالتیں اقلیتوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا جائزہ لیں اور انہیں انصاف فراہم کریں۔ میٹنگ میں کچھ ریاستوں میں شہریوں کو ان کے حق سے محروم کرنے کے لیے لائے جانے والے قانون کے خلاف مذمتی تحریک منظور کی گئی، جس میں کہا گیا کہ کسی بھی مذہب کو اپنانا اور اس کی تبلیغ کرنا آئین کا دیا ہوا حق ہے۔ وقف املاک کے تحفظ اور جدید تعلیم کی وکالت کی گئی۔ بورڈ نے نکاح نامہ کا مسودہ تیار کر لیا ہے۔ اجلاس میں اس کے نکات پر غور کیا گیا۔ میٹنگ میں نائب صدر مولانا ارشد مدنی، جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، مولانا خالد رشید فرنگی محلی، آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی سمیت بورڈ کے 40 اراکین موجود تھے۔ بورڈ نے اپنے اراکین کے لیے ضابطہ اخلاق بھی وضع کیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ ممبران بورڈ کی لائن سے ہٹ کر کوئی بیان نہیں دیں گے۔ ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ بورڈ ممبران کا طرز عمل اچھا ہونا چاہیے۔ میٹنگ میں شرکت کے لیے گوہاٹی سے آئے حافظ رشید چودھری نے آسام میں کم عمر لڑکیوں سے شادی کے پرانے معاملات میں مسلم مردوں کے خلاف قانونی کاروائی کا معاملہ اٹھایا۔انہوں نے کہا کہ اس کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔