از:۔مفتی محمد شوکت علی،خطیب وامام مدینہ مسجد،ساگر

یہ بات ہر مسلمان بخوبی جانتے اور مانتے بھی ہیں کہ نماز روزہ کی طرح زکوٰۃ بھی مذہب اسلام کا ایک اہم بنیادی رکن اور حصہ ہے ۔جس طرح سے اپنے ذمہ سے فرائض کی ادائیگی سے فرض ادا ہو اسی طرح زکوٰۃ اد کئے بغیر ادا نہیں کہ اسکا ادا کرنا ہر سال ضروری ہے اس کا تارک گنہگار موجب غضب جبار میں گرفتار مستحق نار ہوتا ۔زکوۃ نہ دینے والے کے حق میں جہنم کی خبر دی گئی ہے اور ادا کرنے والے کے حق میں متقین ہونے کا تحفہ ہے ۔ زکوٰۃ کی فرضیت قرآن اور حدیث کی روشنی سے ثابت کہ اسکا منکر کافر مرتد اور بدین ہے ۔
زکوٰۃ ایک ایسی عبادت ہے جس کو ایک الگ ہی مقام و مرتبہ حاصل ہے کہ وہ مالی عبادت ہے کہ بندہ مال ومتاع درہم اور دینار دیکر اللہ کی راہ میں ثواب کے ساتھ اپنے نصیب کو اونچا کرتا ہے ۔
زکوٰۃ کو ادا کرنا مکمل ایمان ہونے کی پہچان قرار دیا ہے کہ سرکار دوجہاں ﷺنے ارشاد فرمایا کہ تمہارے اسلام کا پورا ہونا یہ ہے کہ اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرو اور مزید یہ بھی کہ زکوٰۃ ادا کرنے سے بہت ساری خوشیاں نصیب ہوتی ہیں اور مال ہلاک ہونے سے محفوظ رہتا ہے ۔ زکوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ زکوٰۃ ادا کرو اور مال پاک اور بڑھاو اس لئے کہ اس کا معنی یہی ہوتا ہے ۔مال کو پاک اور پاکیزگی ہونے کا معنی یہ کہ اللہ نے جو حق ہمارے مال و دولت میں مقرر کیا ہے اس کو خلوص دل اور رضامندی کے ساتھ ادا کیا جائے جس کے سبب مال پاک اور صاف ہوتا ہے ۔اور مال میں اضافہ کا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے دئے ہوئے مال سے اسی کی راہ میں حقداروں کو اس کا حق دینا اور خرچ کرنا اپنی دولت کو بڑھانا ہے جس سے مال میں برکت پیدا ہوتی ہے ۔
یہ بات بھی روشن ہے کہ اللہ نے سب سے زیادہ مالدار ارب پتی خربپتی قوم مسلم کو بنایا ہے زمانے کی عروج ترقی بلندی اس قوم کے سپرد کیا اس قوم شان شوکت دینے کی تھی اور زکوۃ بھی ان ہی مالدار لوگوں پر فرض کیا ہے۔مگر دور حاضر میں قوم کی حالت دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سب غریب مفلس اور ناتواں قوم مسلم ہے جبکہ معاملہ ایسا نہیں ۔یہ حالتیں جو ہوی ہیں اس کے کئ اہم وجوہ ہیں سب پر روشنی ڈالنا ممکن نہیں ہے ۔مگر سب سے اہم وجہ یہ مالدار حضرات زکوۃ نکالنے میں کوتاہیوں کے شکار ہوچکے ہیں جس کا نتیجہ شہر گاوں مقدس مقامات اور مساجد کے سامنے بھیک مانگنے کی تعداد روز بروز بڑھ رہا ہے اس وجہ سے اس قوم کی حالت دن بدن خستہ ہوتی جارہی ہے ۔
لہذا میں تمام مسلمانوں سے بالخصوص اہل ثروت سے گزارش کرتا ہوں کہ زکوۃ ہرسال نکلا کریں تاکہ جو غریب مسکین یتیم اور بیوائوں، وہ سب بھی اپنے بچوں کے ساتھا اپکی کی خوشی کے ساتھ اپنی خوشیاں ملا کر زندگی گزر بسر کرنے کریں اور بر وقت زکاۃ صدقات جب نکلنا اور صحیح مستحقین کو ملنا شروع ہوجائیگا اسی دن سے غریبت اورافلاسی رفتہ رفتہ ختم ہوتی ہوی نظر ائے اور قوم ترقی کی اور بڑھتی ہوی نظر آئیگی۔
