کرناٹک ہائی کورٹ نے شاہین اسکول انتظامیہ کے خلاف بغاوت کا مقدمہ خارج کیا

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو :۔وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی حکومت پر تنقید کرنے والے ایک ڈرامے میں طنزیہ تبصرہ کرنے پر سنگھ پریوارکے رہنمائوں کی جانب سے ریاست کے مشہور تعلیمی ادارےشاہین اسکول انتظامیہ کے خلاف درج بغاوت اور دیگر الزامات عائدکئے گئے تھے جسےآج کرناٹک ہائی کورٹ کی گلبرگہ بنچ نے مسترد کردیا۔جسٹس ہیمنت چندن گوڈر نے شاہین اسکول مینجمنٹ کی جانب سے سینئروکیل امیت کمار دیش پانڈے کی سماعت کے بعد کیس کو منسوخ کردیا۔جنوری 2020 میں جماعت چہارم کے طلباء کے ذریعہ سی اے اے مخالف تھیم پر مبنی ڈرامہ کرنے پر کرناٹک کے بیدر کے معروف شاہین اسکول کے خلاف بغاوت کا مقدمہ درج کیا گیا تھا،جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ اسکرپٹ کے ڈرامے میں فرقہ وارانہ اور مودی مخالف نعرے تھے۔بیدر پولیس نے نیلیش رکشیال کی شکایت پر آئی پی سی کی دفعہ 504، 505 (2)، 124 (A) اور 153 (A) کے تحت ایف آئی آر درج کی تھی۔شاہین گروپ آف انسٹیٹیوشن نے ان الزامات کا مقابلہ کیا اور کہا کہ پولیس بچوں کے ساتھ "ملک دشمن” سلوک کر رہی ہے اور روزانہ اسکول جاتی ہے۔17 اگست 2021 کو کرناٹک ہائی کورٹ کی بنگلور بنچ نے ایک بیان دیا جس میں کہا گیا کہ اسی کیس کے سلسلے میں بچوں سے پوچھ گچھ کے دوران مسلح پولیس افسران کی موجودگی سے 2015 کے جوینائل جسٹس ایکٹ اور بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کی گئی۔موڈیگیرے حلقہ کی موجودہ ایم ایل اے نینا جیوتی جھاور نے بچوں کے حقوق کے سلسلے میں یہ درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ 85 طلباء، جن میں سے کچھ کی عمریں نو سال سے کم تھیں جن سے پوچھ تاچھ کی گئی جس کا بچوں کی نفسیات پر برا اثر پڑاہے۔معاملے شنوائی کرنے کے بعد ہائی کورٹ کی گلبرگہ بینچ نے شاہین انتظامیہ پر عائد مقدمات کو منسوخ کرنے کا فیصلہ سُنایا۔اس موقع پر شاہین گروپ آف انسٹیٹیوشن کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نےعدالت سے انصاف ملنے پر وکلاء، میڈیا اور دیگر دوستوں کا مشکل وقت میں تعاون کرنے پر شکریہ ادا کیا۔