شیموگہ:۔روز بروز سبزیوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے جس سے غریب اور متوسط طبقے کا جینا مشکل ہو گیا ہے۔خاص طور پر سبزیوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں۔ دو دن پہلے ٹماٹرکی قیمت20 سے40 روپئے تھی لیکن اب اس کی قیمت 80 روپے ہے۔مارکیٹ میں ٹماٹر نہ ہونے کی وجہ سے قیمت زیادہ ہے۔ خاص طور پر اخبارات اور نیوز میڈیا میں، بنگلورو میں ٹماٹر کی قیمت 100 روپے ہے۔ شیموگہ کی سبزی منڈی میں آج ٹماٹرکی قیمت 80 روپے فی کلو کی قیمت سے تجاوز کرنے کی خبریں آرہی ہیں۔اچانک ٹماٹرکی قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے عوام کو کافی مشکلات کا سامنا کرناپڑرہاہے۔ٹماٹر کی قیمت میں اضافے کے بعد دیگر سبزیوں جیسے پھلیاں، گاجر، بینگن، مولی، گوبھی۔ آلو اور مٹر سمیت سبزیوں کی قیمتوں میں ڈیڑھ گنا اضافہ ہو گیا۔ اس کے علاوہ بھاجی پتہ کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں۔کوتمیری( دھنیا ) جو 10 روپے میں2 مل رہے تھے،اب وہ صرف 10 فی ہوگئی ہے،اس کے ساتھ ہی تمام ہری سبزیوں کی قیمتوں میں بھی کافی اچھال آیاہے۔اس کے علاوہ پھلوں کی قیمتوں میں بھی 200 روپے فی کلو اضافہ ہوا ہے۔ انار 300 سے تجاوز کر گیا۔ نارنگی اور موسمبی 200 روپئے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ ایک ہفتہ قبل آم کی عام قیمت 60 روپے فی کلو تھی، اب یہ 100 روپے کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ جیک فروٹ اور پپیتے جیسے پھلوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔چاول، دالوں اور تیل جیسی روزمرہ کی ضروریات کی قیمتوں نے تو عوام کا جینا محال کیاہواہے۔توردال جو 120 روپے میں دستیاب تھی اب وہ بڑھ کر 160 روپے ہو گئی ہے۔ ماش کی دال جو پہلے130 فی کلو میں دستیاب تھی،لیکن اب اس کی قیمت160 روپئےہوچکی ہے۔ 1 لیٹر تیل جو پہلے 120 روپے میں ملتا تھا اب 150 روپے تک پہنچ گیا ہے۔ چاول کی قیمتیں بھی آسمان چھورہی ہیں۔۔ چینی(شکر) گڑ کے علاوہ مختلف قسم کے آٹے، گندم، باجرہ، خاص طور پرلال مرچ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک کلو مرچ 200 سے 250 کے درمیان تھی لیکن اب یہ بڑھ کر 600 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح زیرہ جیسے مصالحے کی قیمت 350 روپے سے بڑھ کر 600 روپے فی کلو ہو گئی ہے۔ مرچ پاؤڈر 186 روپے سے بڑھ کر 400 روپے فی کلو،کالی مرچ پاؤڈر 380 روپے سے بڑھ کر 520 روپے فی کلو ہو گیا۔جون کے آخری ایام تک بھی شیموگہ ضلع سمیت مختلف علاقوں میں بارش تو ہورہی ہے لیکن مناسب بارش نہ ہونے کی وجہ سے ضروری اشیاء میں اضافہ ہورہاہے۔ریاست کے مختلف مقامات پر کسان فصل تو بوچکے ہیں ،لیکن بارش کی کمی کی وجہ سے فصلیں نہیں اُگ پارہی ہیں۔ تمام جھیلیں اب بھی خالی ہیں اورندیاں بھی خشک ہوچکی ہیں۔لنگن مکی ڈیام اب صرف چند دنوں کے لیے بجلی پیدا کرنے کی سہولت ہے۔تنگا بھدرا ندیوں میں بھی پانی کم ہوگیا ہے۔ جو ن کے مہینے میں جو بارش ہونی تھی وہ ابھی تک نہیں ہوپائی ہے ،ان تمام وجوہات کے باعث سبزیوں سمیت روزمرہ کی ضروری اشیائے کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
