اسوسیشن آف مسلم گریجوئٹس کی جانب سے یونیفارم سیول کوڈ پر خصوصی پروگرام کاانعقاد ; یونیفارم سیول کوڈکا نفاذ بھارت کے آئینی تقاضوں کے برخلاف ہوگا:اڈوکیٹ سہیل احمد

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔اسوسیشن آف مسلم گریجوئٹس شیموگہ کی جانب سے یونیفارم سیول کوڈکے تعلق سے خصوصی پروگرام کا انعقادکیاگیاتھا،جس میں مقررِ خصوصی کے طورپراڈوکیٹ سہیل احمد شرکت کرتے ہوئے کہاکہ یونیفارم سیول کوڈ کا انعقاد بھارت میں نہ آزادی سے قبل تھا نہ ہی آزادی کے بعدیہ ممکن ہوسکے گا،اگر زبردستی اس قانون کو راےئج کیا جاتاہے تو اس سے نقصانات ہی ہونگے ۔ بھارت میں مختلف مذاہب،ذات اور زبان بولنےوالے لوگ ہیں،یہاں کی تہذیب الگ الگ ہے،ایسے میں یونیفارم سیول کوڈکا نفاذ بھارت کے آئینی تقاضوں کے برخلاف ہوگا،اس لئے اس قانون کی مخالفت کی جارہی ہے۔اس دوران اڈوکیٹ سید لیاقت نے بات کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں الگ الگ اور زبان بولنےوالے لوگ ہونے کے باوجوداتحادکے ساتھ رہ رہے ہیں،یہی بھارت کی حقیقی شناخت ہے،اگر یونیفارم سیول کوڈکونافذکیاجاتاہے تو اس سے بھارت کی یکجہتی پر منفی اثرات پڑینگے،الگ الگ ریاستیں ہیں،ہر ایک کی الگ تہذیب ہے،ہر
ایک کے مذہبی و ازدواجی طورطریقے الگ الگ ہیں،شادی،طلاق،املاک جیسے امور علیحدہ علیحدہ ہیں،ایسے میں یکساں سیول کوڈکا نفاذ بھارت کی سالمیت کیلئے نقصاندہ ہے۔اس موقع اڈوکیٹ ایچ بی پرویز احمدنے بات کرتے ہوئے کہاکہ بھارت میں گائوکشی قانون کا نفاذ1964 میں ہواتھا،اس کے بعدوقتاً فوقتاً اس میں تبدیلیاں آتی رہی ہیں،مگر اس وقت ریاست میں تحفظ جانور اور مذبح قانون کا نافذ ہے وہ بہت ہی نقصاندہ ہے،ایسے میں حکومتوں کی جانب سے بھی تعصب برتاجارہاہے،ہر ریاست میں گائوکشی کو لیکر الگ الگ قوانین ہیں،ریاست میں جو گائوکشی کا قانون ہے اس کے تحت مسلمانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے،عیدقرباں کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی نمائش نہ کی جائے۔اس نشست میں نظامت کے فرائض اڈوکیٹ شاہراز مجاہدصدیقی نے انجام دئیے،مہمانوں کا استقبال محمد لیاقت نے کیاہے۔