بنگلورو:۔کرناٹک میں کانگریس حکومت بڑی تیزی کے ساتھ بی جے پی کے نقش وقدم پر چل رہی ہے،اپنے دفترمیں وزیر اعلیٰ سدرامیانے جہاں مسلم آئی اے ایس اور کے اےایس افسروں کو دوررکھا وہیں اور بی جے پی کے منتخب شدہ سنگھ پریوارکی سوچ رکھنےوالے رجنیش گوئل کوجئے رام جیسے افسروں کو اپنے ہی دفترمیں بحال ر کھا ہے ، وہیں آج بنگلوروکے پولیس کمشنرکے عہدے کو لیکر بھی متعصبانہ رویہ اختیارکیاہے۔آج کرناٹکا حکومت نےسینئرآئی پی ایس افسروں کا تبادلہ کیاہے،جس میں بنگلورو پولیس کمشنرکے عہدے پر1984بیاج کے آئی پی ایس افسر بی دیانند کو بنگلوروپولیس کمشنر کے عہدے پر فائزکیا گیا ہے ،جبکہ وہ انٹلی جنس ڈیپارٹمنٹ میںاے ڈی جی پی کے عہدے پر فائزتھے۔اسی طرح سے ایم اے سلیم جو 1993 بیاج کے آئی پی ایس افسر ہیں ، اُنہیں سی آئی ڈی، اسپیشل یونٹ کے ڈی جی پی کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے ۔ دراصل ایم اے سلیم ،دیانندسے سینئرافسر ہیں،ان کی سینئریاٹی کے مطابق بنگلورو کمشنر کا عہدہ انہیں دیاجاناچاہیے تھا،لیکن کانگریس حکومت نے ایسانہ کرتے ہوئے بی جے پی کے طریقہ کارپر چلنے کا ثبوت دیاہے ۔ بنگلورو میں 81-1980 کے درمیان نظام الدین نامی آئی پی ایس افسرکو بنگلورو کمشنرکا عہدہ دیا گیا تھا،اس کے بعد ایک بھی مسلمان بنگلورو کمشنر کے عہدے پر فائز نہ ہوسکا۔لیکن اس دفعہ ایک مسلمان کو پولیس کمشنر بنانے کا سنہرا موقع تھا،لیکن کانگریس حکومت نے سرے سے خارج کردیا۔اب سوال یہ ہے کہ ریاست بھر میں کانگریس حکومت کو لانے کیلئے جستجو کرنےوالے مسلم تنظیمیں ،مسلم متحدہ محاذ، عمائدین ، علماء اور خود ساختہ دانشوران نے جو محنت کی تھی،کیا وہ ان سماجی حقوق کو دلانےکیلئے آوازا ٹھائینگے ؟ کیا ان تنظیموں اور ذمہ داروں کا کام صرف کانگریس کو ووٹ دلوانا تھا ، کیاان لوگوں نے صرف الیکشن پیاکیج پر کام کیا ہے ؟ کیا الیکشن پیاکیج کی ویالیڈیٹی ختم ہوچکی ہے؟۔ایسا نہیں ہے توکانگریس کو ووٹ دلوانے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاستی حکومت کے سامنے کھل کر ان معاملات پر گفتگو کر یں ۔
