مدد کا منصوبہ ۔۔۔۔

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

ا:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327
کورونا کی دوسری لہر کے بعدملک بھر میں جو حالات پیدا ہوئے ہیں اس سے پھر ایک مرتبہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ایک عام انسان ہی دوسرے عام انسان کے کام آسکتا ہے۔ حکومتوں سے حد سے زیادہ امید لگانا اس وقت بے وقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، حکومتیں جتنے منصوبوں کا اعلان کرتی ہیں وہ صرف انکے مفادات تک ہی رائج ہوتے ہیں ،عام لوگوں کیلئے نہیں، ایسے میں مسلمانوں کی ذمہ داری بھی بہت زیادہ ہے۔کیونکہ مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت میں شمار ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو ہمیشہ سے ہی دوسرے درجے کے شہریوںکا مقام حاصل ہوا ہے ایسے میں مسلمان اگر کوشش کریںتو اسلامی طریقہ کار کا استعمال کرتے ہوئے کافی حدتک راحت پاسکتے ہیں ۔ اسلام میں بیت المال کا نظام بہت ہی موثر طریقے سے چلایا جاسکتا ہے۔ مگر کچھ ہی علاقوں میں بیت المال قائم کیا جاتا ہے اوراس بیت المال کو صرف ظلم وزبردستی کے تحت استعمال کیا جاتاہے۔ خاص طور سے بیت المال کی مقصد کو ہی مسلمان سمجھ نہیں پائے ہیں۔ مسلمانوں کے نزیدک بیت المال کا مقصد سال میں ایک دفعہ شادی بیاہ کروانا، ختنہ کی تقاریبات کروانا، اورزیادہ سے زیادہ لاوارث میتوں کی تجہیز وتدفین کروانا ہی اس کا مقصد بن چکا ہے۔ اسکے علاوہ عام فلاحی کاموں کے موقع پر بیت المال مفلوج ہوجاتا ہے۔ بھارت کے مسلمانوں میں جب بھی کوئی فلاحی کام کی بات آتی ہے تو وہ صرف چند ایک تنظیموں سے توقع کرتے ہیں، جبکہ وہ خود بھی مقامی سطح پر بیت المال کو عمل میں لاسکتے ہیں۔ ہمارے یہاں جن نمائندوں کا تذکرہ کیا جاتا ہے وہ بھی ہر سال زکوۃ ، صدقہ ، خیرات وصول کرتے ہیں۔ لیکن انکی وصولی کے تعلق سے کبھی بھی حساب کتاب ظاہر نہیں کرتے،مثال کے طور پر جمعیت العلماءہند کی بات ہی کرلیں، اس تنظیم کے ذریعہ جلسوں کےتعلق سے اخبارات میں اشتہار تو دئے جاتے ہیں، انکے منصوبوںو اغراض کے تعلق سے ویب سائٹ پر تفصیلات تو دی جاتی ہےلیکن حساب کتاب واخراجات کی تفصیلات ویب سائٹ پر دکھائی نہیں دیتی ، بہر حال ہم بات کررہے تھے بیت المال کی ۔ جسطرح سے ہمارے یہاں ہرمسجدکے ماتحت محلے کے فائدے کیلئے جنازہ، جنازے کی گاڑی، تدفین کا سامان وغیرہ دستیاب رہتا ہے۔ اسی طرح سے زندہ رہنے والوں کیلئے بھی کچھ منصوبے بنائے جاتے ہیں تو یقیناً اس سے بہت بڑا کام ہوسکتا ہے۔ کوویڈ کے دوران کئی ایسے لوگ جو دوسروں کے سامنے مانگ نہیں سکتے ، انہوں نے اپنی ضروریات کو پورا کرنے کیلئے مجبوراً سودی قرض اٹھایا ہے، اب انکے سامنے ان قرضوں کی ادائیگی کی صورتیں بھی نہیں ہیں۔ کئی لوگ علاج کیلئے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے بے وقت اورلاعلاج ہوکر مرگئے ہیں، کئی بچوں کی تعلیمی اخراجات کی ادائیگی مشکل ہوچکی ہے ، ایسےمیں یہ لوگ جائیں تو کہاںجائیں۔ مسجدوں میں بیان تو یہ ہوتا ہے کہ سود نہ لیں، غریبوں کی مدد کریں، ضرورتمندوں کا سہارابنیں وغیرہ وغیرہ لیکن جب کوئی راہ نہیں نکلتی ہے تو لوگوں کو سودی قرضے لینا ہی پڑتا ہے۔ محلے میں کون کیسی حالت میں ہے یہ آسانی سے جانتے بھی نہیں ہیں۔ اگر ہر مسجد میں ایک بیت المال قائم کیا جائے اوراس بیت المال کے ذمہ داران لوگوں کے ساتھ باہمی تال میل قائم کرتے ہوئے محلے کے حالات جانیں، کون کس حالت میں ہے یہ جان لیں تو بیت المال کے ذریعہ سے کافی مدد ہوسکتی ہے۔ آج ہم کئی واقعات یہ بھی دیکھ رہے ہیںکہ کچھ خواتین چند پیسوں کی خاطر گمراہ ہورہی ہیں یا پھر غلط راہ اختیار کررہی ہیں، اکثر پولیس تھانے میں انہیں لے جایا جاتا ہے توانکا کہنا ہوتا ہے کہ وہ مجبورتھیں ، پیسوں کی ضرورت تھی اس لئے وہ غلط راہ اختیار کرنے کیلئے مجبور ہوئی تھیں۔ بھلابتائے کہ جس قوم کی حالت اس قدر بدتر ہوجائےاور عورتیں اپنےمردوںکی بے روزگاری، مجبوری یا لاپرواہیوں کی وجہ سے غلط راہ اختیار کرنے لگیں گی اورقوم کے امراء ،شرفاء، اورعمائدین اپنے اسٹیٹس کو مینٹین کرتے رہیںگے تو بھلا کیسے یہ قوم عروج حاصل کریگی۔ ایسے ہی حالات کورونا کے دوران علماء واساتذہ کے بھی رہے ہیں۔ کئی پرائیوٹ مینجمنٹ اسکولوں نے اساتذہ کا ہاتھ چھوڑ دیا تو وہیں کئی مدارس نے اپنے معلمین کو انکی ذمہ داریوں سے برخواست کردیا۔ جو قوم اپنے اساتذہ، علماء اورمعلمین کی عزت نہیں کرتی، اس قوم میں علم کے چراغ کہاں سے جلیںگے، ان تمام حالات کا ایک ہی حل یہ ہےکہ ہر مسجد کے ساتھ ایک بیت المال بنایا جائےاور اس بیت المال کے ذریعہ لوگوں کی امداد کی جائے۔ بیت المال کا آغازکابھلے ہی چھوٹے پیمانےپر کیا جائے، لیکن وقت کا تقاضہ ہے کہ اسکی شروعات کی جائے ، یقیناً اس سے بہت بڑا کام ہوسکتا ہے۔