دہلی:۔سپریم کورٹ نے عبوری روک لگانے کے حکم کے باوجود تریپورہ میں مبینہ فرقہ وارانہ تشدد سے متعلق سوشل میڈیا پر مواد شیئر کرنے والے لوگوں کو نوٹس جاری کرنے پر تریپورہ پولیس کی پیر کو سرزنش کی۔جسٹس ڈی وائی چندر چوڑ اور جسٹس سوریہ کانت نے ریاستی وکیل کو خبردار کیا کہ اگر تریپورہ پولیس لوگوں کو ہراساں کرنا بند نہیں کرتی ہے تو وہ ہوم سکریٹری اور متعلقہ پولیس افسران کو طلب کرے گی۔سپریم کورٹ میں صحافی سمیع اللہ شبیر خان کی درخواست پر سماعت ہوئی۔ شبیر خان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 41اے کے تحت ان کے سامنے پیش ہونے کیلئے تریپورہ پولیس کی طرف سے انہیں جاری کئے گئے نوٹس کے خلاف یہ درخواست دائر کی تھی۔بنچ نے کہاکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ کو مطلع کریں کہ وہ اس طرح لوگوں کو پریشان نہ کریں، کسی کو سپریم کورٹ آنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ ایذا رسانی نہیں تو کیا ہے؟۔بنچ نے کہاکہ اگر ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ پولیس سپرنٹنڈنٹ لوگوں کو نوٹس جاری کر کے حکم کی تعمیل سے بچنے کی کوشش کر رہا ہے، تو ہم انہیں عدالت میں بلائیں گے اور ان کی جوابدہی طے کی جائے گی۔ ہم سیکرٹری داخلہ سمیت ہر کسی کو عدالت میں پیش ہونے کو کہیں گے۔ایک بار جب ہم اس سلسلے میں حکم جاری کر دیں تو آپ کو ذمہ دارانہ رویہ دکھانا چاہیے۔
