شیموگہ:۔کوروناکی ابتدائی ایام میں وباء کے پھیلائو کو لیکر میڈیامیں جس طرح سے متنازعہ رپورٹیں پیش کی جارہی تھیں،اُن رپورٹوں کے بعد مسلمانوں کو نہایت پریشانیوں کا سامنا کرناپڑاتھا، خصوصاً تبلیغی جماعت کے کارکنوں ،تبلیغی جماعت اور مرکز نظام الدین دہلی کو نشانہ بنایاگیاتھا،اس دوران کوروناکی وباء کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو میڈیا کے ذریعے سے کی جارہی بدنامی سے ذہنی پریشانیوں کا سامنا کرناپڑاتھا۔ان معاملات کولیکر جہاں عام مسلمانوں میں غم وغصے کی لہر اُمنڈ آئی تھی،وہیں کئی تنظیموں کے ذریعے سے میڈیا پر شکنجہ کسنے کیلئے پیش رفت بھی کی گئی تھی۔شیموگہ سے بھی سیٹیزن یونائٹیڈ مومنٹ کی جانب سے سی یو ایم کے رکن مزمل انورنے سورنا ٹی وی اور کنڑا پربھا کے خلاف عدالت میں معاملہ درج کروایاتھا۔ دریں اثناء نیوز براڈ کاسٹنگ اسٹانڈریڈاتھاریٹی میں ایک شکایت درج کی گئی تھی جس میں سورنا ٹی وی کنڑا،نیوز18 کنڑا اورٹائمز نائو کی جانب سے مسلمانوں کو بدنام کرنے کی بات کہی گئی تھی۔اس سلسلے میں این بی ایس اے نے شکایت کو قبول کرتے ہوئے معاملے کی سنوائی کی اور تینوں چینلوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب دائر کرنے کا حکم دیاتھا۔معاملے کی سنوائی کرتے ہوئے این بی ایس اے نے پایاکہ تینوں چینلوں نے قانون کی دھجیاں اڑائی ہیں اور اپنے میڈیا کا غلط استعمال کرتے ہوئے مخصوص طبقے کو نشانہ بنایا ہے۔تبلیغی جماعت کو بلاوجہ بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور میڈیا کا یہ طرزِعمل غیر قانونی و غیراخلاقی ہے۔تینوں چینلوں کو این بی ایس اے نے قصوروار ٹھہراتے ہوئےجرمانہ عائدکیاہے،جس میں ٹائمز نائو کو سنسر کرنے کاحکم دیا گیاہے،سورناٹی وی پر ایک لاکھ روپئے کا جرمانہ اور نیوز 18پر50ہزار روپئے کا جرمانہ عائدکیا ہے ۔ یہاں پرسوال جرمانہ کی رقم کا نہیں ہے بلکہ نیوزچینلوں کو قصوروار ٹھہرانے کا عمل اہم ہے۔
