مسیحا

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد ایس ملا، ہبلی۔9902672038
زندگی میں کچھ واقعات ایسے ظہور پذیر ہوتے ہیں جو شعور و تحت الشعور میں رچ بس جاتے ہیں۔حتیٰ کہ روزمرہ کی زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔ایسا ہی ایک واقعی طالب علمی کے زمانہ کا بھی ہے۔ جب میں انجنیرینگ ڈراینگ پیپر کا امتحان دینے کیلئے ایکزامنیشن ہال میں بیٹھا ہوا تھا ۔ سوالات پیپر کی فراہمی میں ابھی کچھ وقت باقی رہ گیا تھا تو میں اپنی آنکھیں موندھے متوقع سوالنامہ کے جوابات کیلئے ذہنی تیاری میں مصروف رہا۔ سوالنامہ کا بلیو پرنٹ ایسا ہوا کرتا تھا کہ ستر مارکس لیاپ ریوائٹیڈ جوائنٹ Lap Riveted joint یا بٹ Butt Joint کو حل کرنے ، ڈزایننگ، طریقہ کار معلوم کرنے اور پھر ڈراینگ بنانا ہوتا جس کے لئے تقریباََ ڈھائی گھنٹہ لگتے اور بقیہ آدھے گھنٹہ میں تیس مارکس کے لئے انجنیرینگ کے آلات و اشیاء کی شکلیں بنانی ہوتیں۔
سوالنامہ کو دیکھا تو بڑی خوشی ہوئی کیونکہ میجر سوال لیاپ جوائنٹ پر تھا جس کے لئے میں پوری طرح تیار تھا۔ ڈزایننگ طریقہ کا راور دیگر امور جو اس ڈراینگ کو بنانے کیلئے درکار ہوتے ہیں ان پر لکھنا شروع کیا۔بعد ازاں اس ڈزایننگ طریقہ کار کے حساب سے ڈراینگ بنانا شروع کیا ۔ ڈراینگ مکمل ہونے کے لئے ڈھائی گھنٹہ سے ذیادہ وقت لگا جس کی وجہ سے اب صرف بیس منٹ رہ گئے تھے۔ اور مجھے انجنیرنگ کے آلات کی ڈراینگ بنانی تھی۔ اسی ستر مارکس کے سوال کا جواب مکمل ہوا تو میری نظر اطراف بیٹھے کلاس فیلوس کے جوابی پرچہ ڈراینگ شیٹ پر پڑی تو پیروں تلے سے ذمین کھسک گئی کیونکہ تمام ساتھیوں کے ڈراینگ حسبِ معمول پورے ڈراینگ شیٹ کا احاطہ کئے ہوئے تھے جبکہ میرا جوابی ڈراینگ صرف بمشکل سے ہاتھ بھر کا رہا ہوگا ۔ میں نے جب دوبارہ ڈزایننگ طریقہ کار اور فارمولہ پر نظر ثانی کی تو اپنی غلطی کا پتہ چلا کہ میں دائرہ کے قطر کا جذر المربع معلوم کرتے وقت غلطی کر بیٹھا ہوں۔۔ کاش گر میں سامنے ٹیبل پر رکھے سائنٹفک کیالکولیٹر کا استعمال کیا ہوتا تو یہ فاش غلطی نہ کرتا۔ ذہن ماؤف ہوچکا تھا۔ حد سے بڑی خود اعتمادی نے مجھے شرمندہ کردیا۔ مجھے لگا کہ ٹیبل پر رکھا ہوا سائنٹفک کیالکولیٹر میرا منہ چڑا رہا ہو۔ اور کہہ رہا ہو کہ اگر تم میرا استعمال کرتے تو یہ نوبت نہ آتی نہ تمہیںملال ہوتا۔اگر میں سوالنامہ کے جواب کی جانکاری نہ رکھتا تھا الگ بات تھی۔ لیکن یہاں معاملہ ایسا بھی نہیں تھا۔ایک چھوٹی سی بھول نے سارا پرچہ بگاڑ دیا تھا۔ جس کی وجہ سے میں اپنے حواس اور ذہن کے انتشار پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگا۔ کیونکہ مجھے کچھ بھی سجھائی نہیں دے رہا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ذہن نے کام کرنا بند کردیا ہو۔بیس منٹ ابھی باقی تھے جس میں انجنیرینگ آلات کے ڈراینگ بنائے جاسکتے تھے۔ لیکن ستر مارکس کا ڈراینگ پیپر ہاتھ سے نکلتا دیکھا تو دل بیٹھ گیا اور گھنٹی بجتے ہی پیپر دے کر باہر نکل آیا۔
گھر کی سمت روانگی کے دوران رزلٹ کی تئیں خدشات نے جنم لینا شروع کیا۔ دل و دماغ میں ایک طرح کا خلفشار برپا تھا کہ رزلٹ آنے کے بعد والدین کا سامنا کیسے ہوگا؟ والد صاحب تو چونکہ پیدائشی گونگے اور بہرے تھے وہ تو بس اشاروں میں رزلٹ پوچھتے کہ آیا میں فرسٹ آیاہوں یا سکنڈ؟ ڈر تھا تو بس والدہ صاحبہ کا جو پہلے مارکس کارڈ دیکھیں گی پھر مجھ سے باز پرس ہوگی ۔ میں اپنی ناکامی کا چہرہ لئے والدہ سے آنکھیں ملانے کی جرأت کہا ں سے لاؤں گا؟ قدم گھر کی طرف بڑی مشکل سے اٹھ رہے تھے، دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں اس میں سما جاؤں، نہ رہے بانس نہ بجے بانسری۔ نہ رزلٹ دیکھنے کی زحمت ہو اور نہ رزلٹ کے انتظار کی کوفت۔ بقول شاعر’ کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک‘ ۔ لیکن دل کے چاہنے سے کیا ہوگا؟ حالات تو جوں کے توں رہے اور میں بوجھل قدموں سے گھر پہنچا۔ کھانے کیلئے طبیعت مائل نہ تھی اور سر در سے پھٹا جارہا تھا ۔یوں لگ رہا تھا جیسے انجنیرینگ ڈراینگ پیپر کی ناکامی میری جان لے کے رہے گی۔ مہینہ چونکہ اپریل کا تھا اس لئے گرمی بھی شدت کی تھی پھر ہوا یہ کہ اچانک بادل گھر آئے اور زوردار ہواؤں کے ساتھ موسلادھار بارش شروع ہوگئی ۔ اس دوران زوردار آواز کے ساتھ بجلی بھی چمکی، کچھ دیر بعد جب بارش تھمی تو شور مچا کہ پڑوسی محلہ میں بجلی گری ہے اور ایک درخت کے نیچے کھڑے تین معصوم بچے بجلی کا شکار ہوکر لقمۂ اجل بن گئے۔
اس افسوس ناک خبر سن کر میں بھی وہ سانحہ دیکھنے کیلئے گھر سے نکلا۔ میں نے دیکھا کہ حادثہ کا شکار بچوں کی عمریں بمشکل پانچ تا سات سال رہی ہونگی۔ جنہیں درخت کے نیچے لٹایا گیا تھا۔ یہ بڑا دل دہلانے والامنظر تھا۔ فوت ہونے والے بچوں کے والدین کی آہ وزاری پر وہاں موجود تمام لوگوں کی آنکھوں میں آنسوآگئے تھے اور میں بھی اپنے آنسوؤں کو روک نہ پایا۔اس واقعہ نے میری جان کھائے جارہی سوچ کا رخ ہی بدل ڈالا۔ کیونکہ جب میں نے غور کیا کہ زندگی کی عظیم نعمت سے محروم یہ بچے دارِ فانی کو الوداع کہہ گئے اور ان کی بدقسمتی کے آگے میرے معاملہ کی حیثیت ہی کیا ہے؟جس کے لئے میں گھلا جارہا ہوں۔ ٹھیک ہے۔۔ بس اتنا ہی نہ کہ میں انجینئرنگ ڈراینگ پیپرمیں ناکام رہوں گا ، تو کیا ہوا اگلی بار دوبارہ امتحان دیکر پاس ہوجاؤنگا۔ حیاتِ انسانی سے بڑھ کر کسی بھی امتحان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اس نئے خیال سے اک طرح کی طمانیت کا احساس جاگا اور پھر میں گھر پہنچنے کے بعد دیگر مضامین کی تیاری میں جُٹ گیا۔
چند دنوں کے بعد رزلٹ آیا جسے دیکھ کر میں ششدررہ گیا کیونکہ خلاف توقع مجھے مضمون انجینئرنگ ڈراینگ میں پاسنگ مارکس ملے تھے ۔ شاید پیپر جانچنے والے نے میری ابتدائی غلطی کو نظرانداز کرتے ہوئے ڈزایننگ ، طریقہ کار اور دیگر نقاط کو ترجیح دی، اس نے غالباََ میرا تجزیہ کرکے یہ فیصلہ لیا ہوگا کہ محض ایک غلطی کی وجہ سے پورے مضمون کو فیل کردینا مناسب نہیں ہے اس لئے اس نے میرے کام کو دیکھتے ہوئے مجھے پاس کردیا۔
پروفیشنل ایجوکیشن مکمل ہونے کے بعد ٹیکنیکل کالج میں بحیثیت لیکچرار سن 1984ء میں ملازمت کی شروعات ہوئی۔اور آج سے پینتیس سال پہلے میں پہلی بار پیپر جانچ کیلئے ڈپارٹمنٹ آف ٹیکنیکل ایجوکیشن بنگلور پہنچا۔ پیپر جانچ کے دوران بیشتر طلباء کے پرچے ایسے ملے جو پاسنگ بینچ مارک یا میعار کے قریب قریب دو یا تین مارکس کی کمی کے باعث پاس ہوتے ہوتے رہ گئے تھے۔ اس وقت مجھے اس’گمنام مسیحا‘ کی یاد آگئی جس نے میرے انجنیرنگ ڈراینگ پیپر کا تجزیہ کرکے مجھے پاس کیا تھا اور ایک خاموش سبق بھی دیا تھا کہ طلباء کی علمی اہلیت و قابلیت کی کس طرح جانچ ہونی چاہیئے۔ یہ بات آج بھی میرے ذہن میں تازہ ہے۔ چانچہ اسی جذبہ سے سرشار ہوئے میں ایسے طلباء کے جوابی پرچے جنہیں نظر ثانی کے بعد کچھ مارکس کی گنجائش نکل آتی تو میں ان کی اس کمی کو پورا کرتے ہوئے پاس کردیتا اور بعض دفعہ میں یہ بھی سمجھنے کی کوشش کرتا کہ آخر طالب علم کہنا کیا چاہ رہا ہے۔ گر وہ بات تو سمجھ سکا ہے تاہم الفاظ میں ڈھال نہیں پارہا تو میں ایسے طالب علم کو بھی قدرو منزلت کی نگاہ سے دیکھتا۔
اکثر مجھے پریکٹیکل ایکزامنیشن کیلئےٹیکنیکل کالجوں میں بحیثیت ایکسٹرنل ایکزامینر شریک ہونا پڑتا تو ہمیشہ میرے ذہن میں یہی خیال گونجتا رہتا کہ سال بھر محنت کئے ہوئے طالب علم کی صلاحیت اور علمی اہلیت کا اندازہ محض تین گھنٹوں میں نہیں کیا جاسکتا۔ اسلئے جو طلباء پراکٹیکل ایکزامنیشن میں نشاندہی پریکٹیکل کرنے سے قاصر ہوتے تو میں انہیں فیل کرنے کی بجائے مارکس کم کرکے دوسرا پریکٹیکل دیتا تاکہ ان کے پاس ہونے کے امکانات بنے رہیں۔ اور میرا ہمیشہ یہی رویہ رہا کہ میں امتحان میں طلباء کی پائی جانے والی غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے ان مین پوشیدہ مثبت تعلیمی پہلوؤں کو تلاش کرتا اور انہیں ترجیح دیکر فیل ہونے سے بچاتا۔ میں یہی سمجھتا کہ میرا یہ فعل ان طلباء پر کوئی احسان نہیں ہے بلکہ یہ ان کا حق ہے جو انہیں ملنا ہی چاہئے۔
میرا وہ گمنام مسیحا جس نے میرا پرچہ جانچا تھا اسے میں نے کبھی دیکھا نہیں، اس سے کبھی ملاقات بھی نہیں ہوئی۔ میں تو یہ بھی نہیں جانتا کہ وہ کس کالج سے وابستہ تھا۔ مجھے تو بس یہی یاد رہ گیا کہ اس نے جو فلسفہ مجھے دیا، اسی فکر کے تحت میں میں طلباء کی علمی اہلیت و قابلیت کو پرکھتا ۔ اسی کا سکھایا ہوا یہ گُر میں اپنی پوری ملازمت حتیٰ کہ ریٹائرمنٹ تک بھی روبعمل لاتا رہا۔جبکہ سالوں بعد آج بھی طلباء کے تئیں میرے مسیحا کی مثبت سوچ میرے دل و دماغ پر اپنے گہرے اور انمٹ نقوش چھوڑے ہوئے ہیں۔