
از:۔ محمد ہاشم القاسمی ۔9933598528
امریکی اخبار ’’دی نیویارک ٹائمس‘‘ میں شائع ایک رپورٹ کے مطابق مودی سرکار نے 2017میں ہتھیاروں کی خریداری کیلئے دو ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے کے تحت اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس خریدا تھا ۔
پیگاسس کو ’’ الٹیمیٹ اسپائی ویئر ‘‘ کہا جاتا ہے ، اسرائیلی جاسوسی کمپنی این ایس او کے ذریعہ تیار کردہ اس اسپائی وئیر کا استعمال جاسوسی یا نگرانی رکھنے کے طور پر کیا جاتا ہے ۔ ’’کیو سوئیٹ اور ٹرائی ٹینڈ ‘‘ کے ناموں سے بھی مشہور خفیہ سافٹ ویئر واٹسپ کال یا ویب سائٹ لنک کے ذریعہ فون کو ہیک کر سکتا ہے،اسپائی ویئر عام طور پر اپنے شکار کو راغب کرنے کے لئے ایک طرح ’’ فیشنگ لنک ‘‘ کے ساتھ ٹیکسٹ میسج کا استعمال کرتے ہیں اور اس کے بعد اس لنک کو استعمال کرتا ہے وہ اس کے پاس وارڈ ، فون نمبر ،میسج، اور تصویر چوری کر سکتے ہیں ۔
پیگاسس ایک اسپائی ویئر ہے ، جسے جاسوسی کمپنی این ایس او گروپ نے تشکیل دی تھی ، جس کی بنیاد سال 2010 میں رکھی گئی تھی ، این او سی کے بانی نیو کارمی ، شیلیو ہولیو اور اومری لاوی ہیں ، ایک عالمی غیر سرکاری تنظیم کے مطابق یہ فارم ایک ایسا سافٹ ویئر تیار کرنے کیلئے قائم کیا گیا تھا ، جو ڈیجیٹل رازداری کو نظر انداز کرتے ہوئے کسی بھی ڈیجیٹل آلات تک رسائی کیلئے خفیہ ادارہ اور لاانفارسمینٹ کی مدد کر سکے۔
تا ہم اس جاسوسی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ صرف سنجیدہ جرائم اور دہشت گرد ی سے نمٹنے کیلئے گورنمنٹ اجنسی اس کا استعمال کرتی ہیں ۔ ’’ سٹیزن لیب ‘‘ کی 2018کی ایک رپورٹ کے مطابق ، یہ اسپائی ویئر مبینہ طور پر 45ممالک میں استعمال کیا جا رہا ہے ، جن میں بھارت، بحرین، قازقستان، میکسیکو، مراکش، سعودی عرن، اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں ۔
نیو یارک ٹائمس نے ۲۸ ؍ جنوری کو ایک رپورٹ شائع کیا کہ ہندوستان نے 2017میں ۲؍ بیلین ڈالر کے دفاعی پیکج کے حصے کے طور پر اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس خریدا تھامرپورٹ کے مطابق ملٹری گریڈ اسپائی ویئر اور میزائیل سسٹم پیکج کے مرکزی حصے تھے۔
جولائی میں دنیا بھر میں کئی تنظیموں نے پیگاسس کے استعمال کی اطلاع دی تھی ، جسے این ،ایس ،او گروپ نے تیار کیا ہے، ہندوستان میں ’’ دی وائر نے اطلاع دی تھی کہ پیگاسس استعمال کرتے ہوئے 161 ہندوستانیوں کی جاسوسی کی گئی ہے، اس فہرست میں وکلاء، کارکن، سیاستدان ، صحافی اور بہت سے لوگ شامل تھے۔
امریکی روزنامہ ’’ دی نیو یارک ‘‘ کے مطابق اسرائل نے اسپائی ریئر کو کئی ممالک کو فروخت کیا ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں قوم پرست رہنماؤں کی نسل کے ہاتھوں میں جاسوسی کا یہ طاقتور آلہ آگیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کے ساتھ بھارت کے تعلقات ٹھنڈے تھے، لیکن جالائی میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اسرائیل کا اپنا پہلا دورہ کیا ، یہ پہلا موقع تھا جب کسی بھارتی وزیر اعظم نے سرکاری طور پر اسرائیل کا دورہ کیا تھا ۔ نیویارک تائمس نے نشاندہی کی کہ دورے کے دوران مودی اور ان کے اسرائیلی ہم منصب بنجامن نتن یاہو کا ’’ مقامی ساحل پر ننگے پاؤں چہل قدمی کرنا ‘‘ ایک خاص لمحہ تھا ۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کی اس گرم جوشی کی خاص وجہ یہ تھی کہ ان کے ملک نے تقریباََ ۲ بلین ڈالر مالیت کت جدید ترین ہتھیاروں اور انٹلی جنس سامان کے پیکج کی خرید و فروخت پر اتفاق کیا تھا۔ جس میں پیگاسس اور میزائل سسٹم بنیادی طور پر شامل تھے ، مہینوں بعد نتن یاہو نے ہندوستان کا ایک غیر معمولی سرکاری دورہ کیا تھا ۔
نیویارک تائمس کا مزید کہنا ہے کہ اس کے بعد اسرائیل اسپائیسی ویئر بیچنے کے فوائد حاصل کرتا دکھائی دیا ۔
بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے یروشلم دورے کے فوراًبعد نتن یاہو نے ہندوستان کا دورہ کیا اور 2019 میں یونیسکو میں ہندوستان نے اسرائیل کے حق میں ووٹ دیا تھا ۔جو ہندوستان کی سابقہ خارجہ پالیسی کے خلاف تھا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی مودی حکومت نے ابھی تک واضح طور پر یہ نہیں بتایا ہے کہ آیا اس نے کبھی اسپائی ویئر خریدا ہے اور وہ اس معاملے پر سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے سے متعدد بار انکار کر چکی ہے ۔ پیگاسس کے بارے میں پہلی رپورٹس سامنے آنے کے بعد اپوزیشن نے اس معاملے کو پارلیمنٹ میں اٹھایا ، قائدین نے بھر پور احتجاج کیا اور حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں درخواستیں دائر کیں ۔سپریم کورٹ نے الزام کی جانچ کے لئے ایک پینل تشکیل دیا ہے اس کی انکوائری جاری ہے ۔28 جنوری کو نیو یارک ٹائمس میں یہ سنسنی خیز خبر شائع ہونے کے بعد کانگریس پارٹی کی طرف سے پریس کانفرنس میں کہا گیا کہ ’’ جاسوسی کیلئے عوام کے پیسے کا غلط استعمال کرتے ہوئے پیگاسس معاملے میں حکومت نے پارلیمنٹ میں اپنی غلط اطلاعات دی ہیں لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور حکومت کو اب جواب دینا پڑیگا ،انہوں نے کہا کہ نہ صرف راہل گاندھی بلکہ سابق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کے او ایس ڈی ، سابق وزیر اعلیٰ وسندھرا راجے اور مرکزی وزیر اسمرتی ایرانی کی بھی جاسوسی کی گئی ہے۔کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی حکومت پر سنگین الزامات لگائے ہیں ، انہوں نے کہا مودی حکومت نے ہماری جمہوریت کے بنیادی اداروں ،سیاست دانون ، اور عوام کی جاسوسی کے لئے پیگاسس کو خریدا ہے، فون ٹیپ کر کے حکمراں جماعت ،اپوزیشن کو نشانہ بنایا ہے راجیہ سبھا میں حزب اختلاف کے قائد ملک ارجن کھڑگے اور کانگریس کے میڈیا سربراہ رندیپ سنگھ سرجے والا نے ہفتہ کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ’’ مودی حکومت نے پیگاسس جاسوسی معاملے میں جس طرح سے عوام کا پیسہ برباد کیا ہے وہ غداری ہے ، اس کے ذریعے حکومت نے ملک میں سیاستدانوں ، ججوں ، صحافیوں ، اور دیگر کی جاسوسی کی ہے، انہوں نے اسے سنگین جرم قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے عوام کے ساتھ غداری قرار دیا ، اور کہا کہ یہ واضح ہے کہ حکومت نے پارلیمنٹ میں جھوٹ بولا، جب کہ کانگریس ایک عرصے سے کہ رہی ہے کہ مودی حکومت اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعہ غیر قانونی اور غیر آئینی جاسوسی کررہی ہے ، اور کہا کہ اس معاملے کی جامع سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے ، انہونے بتایا کہ کانگریس پارٹی اس معاملے میں حکومت سے پارلیمنٹ میں جواب طلب کریگی اور حکومت کو پارلیمنٹ میں اس کی وضاحت دینی ہوگی ، کانفرنس میں مزید بتا یا گیا کہ 2017 میں اسرائیل سے یہ ٹکنا لوجی خریدی تھی اور اس کی وجہ سے اس عرصے کے دوران قومی سلامتی کونسل کا بجٹ33کروڑ روپے سے بڑھ کر 333کروڑ روپے ہو گیا ہے۔
جاسوسی اسکینڈل پر نئے انکشافات کے فوراًبعد پارٹی کے حکمت پالیسی سازوں نے اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے ساتھ مساوات کے لئے نئی حکمت عملی بنانا شروع کردی ہے ۔اور اس کی ذمہ داری راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملیکارجنا کھرگےکو سونپی گئی ہے ، مانا جارہا ہے کہ ترنمول کانکریس پارٹی ،شیو سینا سمیت کئی دیگر پارٹیاں بھی اس معاملہ پر کانگریس کے ساتھ آسکتی ہیں اور حکومت سے اس پر بات کرنے کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے ۔
جاسوسی کو لیکر ممتا بنرجی پہلے ہی حکومت کی تنقید کرتی رہی ہیں ، خیال کیا جا رہا ہے کہ پارلیمنت میں بجٹ پیش ہونے کے بعد اس سیاسی ایجنڈے کو لیکر دونوں ایوانوں میں سخت ہنگامہ آرائی ہوسکتی ہے ۔ ع آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
