از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

شام کے چار بج چکے تھے۔ میں حسبِ معمول ڈرائنگ روم میںبیٹھا اخبار کے اوراق پلٹ رہا تھا کہ اچانک گیٹ کھلنے کی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی۔ میں نے نظر اٹھا کر کھڑکی سے باہر جھانکا تو میرا چھ سالہ نواسہ، محمد ابراہیم، جو فرسٹ گریڈ میں پڑھتا ہے،بھاری بھرکم اسکول بیگ کو اپنی پشت پر لادے ہوئے، تھکا ماندہ اور بوجھل قدموں کے ساتھ گھر میں داخل ہوا۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سی تھکان تھی، جیسے بچپن اس سے چھین لیا گیا ہو اور اسکول بیگ کابوجھ ڈھونا اسکی زندگی کامقصد بن گیا ہو۔ گھر میں قدم رکھتے ہی میری بیٹی نشاط کی آواز بلند ہوئی ابراہیم! جلدی سے فریش ہو کر آ جاؤ، پھر ہوم ورک کرنا ہے۔
چھوٹا سا بچہ خاموشی سے اندر چلا گیا۔ میں نے اخبار ایک طرف رکھ دیا اور اپنی آنکھوں کے سامنے کھلنے والے اس غیر فطری منظر کو دیکھنے لگا۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ دوبارہ آیا، صاف ستھرا لباس پہنے، مگر چہرے پر تھکن اور بیزاری نمایاں تھی۔ اس کی ماں نے اسکول بیگ کھولا، کتابیں اور کاپیاں ایک ایک کر کے نکالیں اور ہوم ورک کی فہرست مرتب کی۔انگلش کا کام ہوا تو ہندی شروع ہوا، ہندی کے بعد کنڑ۔ میں نے دیکھا، جیسے ہی ایک مضمون ختم ہوتا اور دوسرا کھلتا، ابراہیم کا چہرہ بجھ سا جاتا۔ وہ زبانِ حال سے کہہ رہا تھا کہ اس سے غیر فطری محنت لی جا رہی ہے۔ اس کا معصوم دل کھیلنے کودنے کو چاہتا تھا، لیکن نصاب کا بے رحم جال اسے قید کیے بیٹھا تھا۔ مجھے اچھی طرح معلوم تھا کہ اس کی یہ تھکن بلاوجہ نہیں ہے۔ صبح ساڑھے چھ بجے ہی وہ عربی مدرسے چلا جاتا ہے، ساڑھے سات بجے اسکول وین کا شور دروازے پر مچتا ہے، اور شام چار بجے واپسی کے بعد یہ ہوم ورک کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ میں خاموش بیٹھا، اپنی آنکھوں سے اس منظر کو دیکھ رہا تھا۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ ہم نے جو تعلیم حاصل کی تھی وہ کس قدر فطری اور سادہ تھی۔ ابتدائی تین سالوں میں مادری زبان، پھر چوتھی کلاس میں کنڑ، اور پانچویں جماعت سے انگریزی۔ ہر زبان کو سیکھنے کے لیے وقت ملتا تھا اور اس طرح ہماری زبان پے پکڑ مضبوط ہوتی جاتی۔کھیلنے کودنے کا موقع ملتا تھا، اور تعلیم بوجھ نہیں بلکہ مسرت کا باعث تھی۔ آج کے اسکولوں میں کہاں وہ کھیل کے میدان! ایک بڑے پلاٹ میں تین چار منزلہ عمارتیں کھڑی کر دی جاتی ہیں، بس ایک کمرہ ”انڈور گیمز” کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ اگر کہیں دو ایکڑ زمین بھی مل جائے تو وہاں بھی کھیل کے میدان نہیں بنتے، بلکہ مزید ادارے کھول کر ریونیو حاصل کرنے کے چشمے جاری کیے جاتے ہیںتاکہ روپیے ان سر چشموں سے اُبل پڑیں۔ مجھے وہ بچپن کے دن اچھی طرح یاد ہیں جب بارش کے بعد نالیاں پانی سے بھر جاتیں اور ہم کاغذ کی کشتیاں چھوڑتے ہوئے ان کا پیچھا کرتے تھے ۔ کبڈی، پتنگ بازی، بارش کے بعد قوسِ قزح کا نظارہ یہ سب بچپن کی باتیں اب تو قصہ پارینہ معلوم ہوتی ہیں۔ کبھی چاند گرہن ہوتا تو پورا محلہ چھتوں پر چڑھ کراسے دیکھتا، اور ہم بچے اس قدرتی مظہر کے اسرار میں کھو جاتے۔ آج کے بچوں کو یہ سب نصیب نہیں۔اب کون رات کے دس گیارہ بجے آسمان پے نِگاہ اٹھائے قدرت کے اس مظہر کو دیکھے اور سائنس کے اس اصول کو سمجھے جس کی بنا پر یہ واقعہ رونما ہو جاتا ہے۔ کون گھنٹہ بھر بیٹھ کر مکمل چاند گرہن کا نظارہ کرے بقول شاعر
کون جیتا ہے تری زلف کے سر ہونے تک
موبائل میں ساری معلومات دستیاب ہیں موبائل کی اسکرین ان کے لیے کائنات کا متبادل بن چکی ہے۔ بیٹی کی آواز نے میری سوچوں کا سلسلہ توڑ دیا۔ ہوم ورک ختم ہونے پر وہ اسکی ہمت افزائی کرنے لگی اور میں اس ہمت افزائی کے نفسیاتی پہلو کو اچھی طرح سمجھ لیا کہ اب میری بیٹی اپنے بیٹے کی پڑھائی کے لیے دوسرا محاذ کھولنے کی تیاری میں ہے۔ماں کی زبان سے اپنے لیے تعریف سن کر ابراہیم نے ذرا سی راحت محسوس کی۔ اس نے فوراً ہی ماں سے سوال کیا ’’ ماں ، بلیک ہول کیا ہے؟ اور پلوٹو کو سولر سسٹم سے کیوں نکالا گیا؟ اب وہ سولر سسٹم میں نہیں ہے تو اب پلوٹو کہاں ہے اور جب تھا تو اسکی جگہ کہاں تھی؟‘‘ بیٹی نے اسکے سوالوں کو آسان لفظوں میں سمجھایا، لیکن ابراہیم مزید سوال کرنا چاہتا تھا، اس بار ماں نے فرمان جاری کیا کہ شام کی چائے کے بعد اباکس ٹیوشن جانا ہے۔ یہ سن کر چھوٹے بچے کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ وہ سیدھا میرے پاس آیا، آنکھوں میں نمی اور لبوں پر احتجاج۔ اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہانانو! میں روبوٹ نہیں، انسان ہوں۔
یہ الفاظ میرے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئے۔ ایک چھ سالہ بچہ اپنی ہستی کو یوں بیان کرے تو میرے لیے لمحہ فکریہ تھا۔ کیا اس عمر میں بچوں کو اپنی انسانیت کی گواہی دینی چاہیے؟ میری بیٹی نے شکایت کی ”ابّا! پچھلے ٹیسٹ میں ابراہیم کے ہر مضمون میں چار چار مارکس کم آئے تھے۔” میں نے بیٹی سے کہا’’’ مارکس کو چھوڑ دو۔ یہ بلیک ہول اور پلوٹو کے بارے سوال کر رہا ہے۔ کیا یہ اس کی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت نہیں؟ یہی اصل تعلیم ہے!” میں نے ابراہیم کو قریب کر لیا۔ وہ آنکھوں میں آنسو لیے مجھ سے لپٹ گیا۔ میں نے محسوس کیا اس کے ننھے ہاتھ مجھے سختی سے جکڑے ہوئے ہیں، جیسے وہ اپنا سارا ذہنی دباؤ میرے اندر منتقل کرنا چاہتا ہو۔ چند لمحوں بعد جب اس کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑی ، میں نے اسے سینے سے الگ کیا اور کہا’’چلو اب ہم پارک میں چلتے ہیں۔ اس کے چہرے پر مسکان ابھری۔ اس نے میرا ہاتھ تھاما اور خوشی خوشی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ میں نے پلٹ کر بیٹی نشاط کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھیں گویا مجھ سے کہہ رہی تھیں۔آپ نئی نسل کی تعلیم کے تقاضے نہیں سمجھتے۔ لیکن میرا ماننا ہے کہ تعلیم کا اصل مقصد بچوں کو دباؤ میں لا کر مارکس دلوانا نہیں، بلکہ ان کے ذہن کو آزاد اور روشن کرنا ہے ۔ میں نے اپنی بیٹی سے کہا جب تک میں پارک سے واپس نہ آجاؤں مجھے علامہ اقبال کے اس شعر کا مفہوم سمجھا دینا
جھپٹنا،پلٹنا،پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اِک بہانہ
میں نواسہ کو لیے کر باہر نکل آیا۔ پارک کی سبز گھاس پر جب ابراہیم دوڑنے لگا تو اس کے قہقہے فضا میں گھل گئے جیسے وہ نصابی کتابوں اور اسکول بیگ کو اپنے لیے حصار سمجھتا ہو اور اسکی قید کو توڑ کر یوں باہر نکلا جیسے پرندہ قفس سے آزاد ہو کر بیحد و کنار فضاؤں میں پرواز کرتا ہے، جہاں ہر سانس آزادی کا گیت گاتی ہے اور ہر لمحہ نئی زندگی کی خوشبو بکھیرتا ہے۔ میرا دل کہہ اٹھا، یہ بچہ اسکول بیگ اور کتابوں کے اوراق کا قیدی نہیں بلکہ کائنات کا مسافر ہے۔ اگر ہم نے اس کی تخلیقی روح کو دبایا تو آنے والا کل اندھیروں میں ڈوب جائے گا۔ ابراہیم ایک تیتلی کا پیچھا کرتے ہوئے بھاگتا جا رہا تھا اور میں ایک درخت کے نیچے کھڑا سوچتا رہا یہ کہانی صرف ایک محمد ابراہیم کی نہیں، بلکہ لاکھوں بچوں کی ہے جو آج تعلیم کے نام پر کتابوں کا بوجھ ڈھوتے پھرتے ہیں۔ ان کے کاندھوں پر دس کلو کا بیگ ہے، لیکن دل پر اس سے کہیں زیادہ بھاری بوجھ۔ ان کے چہروں سے مسکراہٹ چھن رہی ہے ، کھیل کود اور تخلیقی سوالات کا حق چھینا جا رہا ہے۔ گویا تعلیم کا مطلب صرف امتحان میں نمبر لانا ہو گیا، سوچنے، سوال کرنے، اور زندگی کو سمجھنے کا ہنر جیسے تحلیل ہوتا جا رہاہے۔ اگر ہم نے وقت پر اپنی روش نہ بدلی تو آنے والی نسلیں اپنی معصومیت کھو کر مشینی طرز کی زندگی گزارنے پے مجبورہو جائیں گی۔ ابراہیم کی آنکھوں میں نمی اور لبوں پر وہ جملہ اب بھی میرے ذہن اور دل پر ہتھوڑے کی طرح برس رہا تھانانو! میں روبوٹ نہیں، انسان ہوں۔
یہ جملہ ہر استاد، ہر والدین، اور ہر تعلیمی پالیسی ساز کے لیے آئینہ ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم آنے والی نسل کو انسان بننے دیں گے، یا انہیں محض نمبر لانی والی مشینوں میں بدل ڈالیں گے سبھی ماہرین تعلیم اس بات سے متفق ہیں کہ بچہ کی تعلیم کا عمل فطری اور سہل ہو،نیز کتابوں کے بہُت زیادہ بوجھ سے آزاد ہو، مگر افسوس! علم و شعور کی صدا نقار خانے میں دب کر رہ جاتی ہے۔ مستقبل کے معماروں کی معصوم پکار آخر کوئی تو سنے۔
