نوشتۂ دیوار

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔ 9902672038
چاند اپنی پوری تابناکی کے ساتھ آسمان کے عرش پر متمکن تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ آج اپنی جلوہ گری کے عروج پر پہنچ کر زمین پر اتر آیا ہو، اور اپنی نرم و نازک روشنی سے تاج محل کے اطراف میں ایک جادو سا بکھیر رہا ہو۔ فضا میں چاندنی کا ایسا جال بُنا ہوا تھا کہ ہر شے اس میں گم، مگن اور محوِ تماشا تھی۔ میں تاج محل کے صدر دروازے سے کچھ ہی فاصلے پر تھا۔ ہوا میں ایک خوشگوار نمی اور خاموشی کی نرمی گھلی ہوئی تھی ۔ ابھی میری نگاہوں نے اس حسنِ ازلی کو براہِ راست نہیں دیکھا تھا، مگر دل میں ایک انجانی دھڑکن، ایک بینام سا جذبہ جاگ اُٹھا تھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے میں وقت کے کسی مقدس لمحے کی دہلیز پر کھڑا ہوں۔ دروازے کے قریب کچھ جوڑے ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے واپس لوٹ رہے تھے، ان کے چہروں پر ایک عجیب سا سکون اور مسکراہٹ تھی، جیسے انہوں نے عشق کے مزار سے اپنی محبت کے لیے کوئی سند حاصل کر لی ہو۔ کچھ چہروں پر اُمیدوں کی چمک تھی، وہ اندر داخل ہونے کے لیے بیتاب تھے، گویا وہ اپنی اپنی کہانیوں کا ایک نیا باب تاج محل کے سایے میں رقم کرنے جا رہے ہوں۔
ہر ایک کے دل میں اپنی اپنی کہانی تھی ۔کسی کی محبت پہلی نظر میں جنم لے چکی تھی، تو کوئی بچھڑ جانے والے لمحوں کو یاد کرنے آیا تھا۔ کہیں وعدوں کی تجدید تھی، تو کہیں خوابوں کی تعبیر کا انتظار۔ چاندنی میں نہائے تاج محل کے آس پاس، محبت اپنی ہزاروں صورتوں میں سانس لے رہی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے شاہجہان اور ممتاز کی روحیں اب بھی اس فضا میں موجود ہوں، جو ہر عاشق کے دل میں محبت کی مشعل روشن کر دیتی ہیں۔میں نے آہستہ آہستہ قدم بڑھائے۔ ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی۔ مجھے لگا کہ میں کسی داستان کے صفحے پر داخل ہو رہا ہوں، جہاں وقت رُک جاتا ہے، اور محبت ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ چاندنی، خاموشی، اور تاج محل، تینوں مل کر ایک ایسا سماں باندھ رہے تھے جو دل کی گہرائیوں تک اُتر جائے، اور انسان کو خود اپنی محبت پر ایمان لانے پر مجبور کر دے ۔ جب میرا گائیڈ مجھے لے کر تاج محل کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوا تو منظر ایسا تھا جیسے خواب اور حقیقت کے درمیان کوئی لطیف سا پردہ ہو۔ سامنے چاند اپنی چودہویں کی چمک میں پورے جوبن پر تھا، اور اس کی دودھیا روشنی تاج محل کے سنگِ مرمر پر کچھ اس طرح بکھر رہی تھی جیسے قدرت نے چاندنی کو اپنے نرم ہاتھوں سے اس پر نچھاور کیا ہو۔تاج محل چاندنی میں نہایا ہوا ایک جادوئی پیکر معلوم ہو رہا تھا، جیسے کسی عاشقِ صادق کے دل کی پاکیزگی پتھروں کی شکل میں ڈھل گئی ہو۔ اس کے بلند میناروں پر جب چاند کی روشنی  پڑتی تو وہ ستاروں کی مانند چمک اٹھتے، اور مرکزی گنبد ایسا لگتا جیسے آسمان نے اپنا سب سے حسین موتی زمین پر رکھ دیا ہو۔چاندنی کی ہلکی لپٹیں عمارت کے گوشے گوشے کو اپنے دامن میں سمیٹتی ہوئی، اسے ایک ماورائی حسن عطا کر رہی تھیں۔ فضا میں جیسمن کے پھولوں کی خوشبو رچی بسی تھی، جو ہوا کے ہلکے جھونکوں کے ساتھ مل کر تاج محل کے گرد ایک روح پرور ماحول پیدا کر رہی تھی ۔ لگتا تھا جیسے قدرت نے محبت، چاندنی اور خوشبو کو ایک ساتھ بٹھا کر یہ شاہکار تخلیق کیاہو ۔
میں چند لمحوںکیلئےساکت کھڑا رہا، نہ بولنے کی سکت رہی، نہ پلک جھپکنے کی۔ اس لمحے چاند، تاج محل اور میرا وجود ایک ہی دائرے میں گم ہو گئے۔ نہ وقت کا احساس رہا، نہ فاصلوں کا۔ بس ایک خاموش سرور تھا جو دل سے آنکھوں تک اتر آیا، جیسے تاج محل نے اپنی ازلی خوبصورتی سے میری روح کو چھو لیا ہو۔
میں تاج محل کے سنگ مرمر میں لپٹے حسن کو دیکھ کر جیسے مبہوت سا کھڑا تھا۔ چاندنی میں نہایا ہوا یہ عجوبہ فن اپنی شان و شوکت سے نگاہوں کو مسحور کر رہا تھا۔بے ساختہ میں نے دل کی گہرائیوں سے کہا،‘‘واقعی، کیا خوبصورت عمارت ہے!’’میرے لبوں سے نکلے یہ الفاظ جیسے میرے قریب کھڑے گائیڈ کے دل پر چوٹ بن کر گرے۔ اس نے ایک تلخ مسکراہٹ کے ساتھ آہستہ کہا،کیا خاک خوبصورت ہے صاحب! یہ حسن نہیں، ایک بادشاہ کی محبت میں حد درجہ اسراف کی داستان ہے۔ ایک زن مرید بادشاہ نے اپنی بیوی کی یاد میں اتنی بے بہا دولت، اتنا قیمتی وقت، اور ہزاروں مزدوروں کی محنت صرف اس سنگی خواب پر قربان کر دی۔اس کی آواز میں شکایت کم، درد زیادہ تھا ۔ وہ بولا،کاش یہی بادشاہ اس جوشِ محبت کو انسانیت کی خدمت میں ڈھالتا! اگر تاج محل کی جگہ وہ درسگاہیں تعمیر کرتا، جہاں علم کی شمعیں جلتی رہتیں، اگر یتیموں کے سروں پر دستِ شفقت رکھا جاتا، اگر بیماروں کے لیے شفا خانے بنتے، اور محروموں کو سہارا دیا جاتا، تو آج یہ سرزمین جہالت اور غربت کے اندھیروں میں نہ ڈوبی ہوتی۔گائیڈ کی آنکھوں میں ماضی کا ملال اور حال کی سچائی جھلک رہی تھی۔ وہ بولا،اسلام نے ہمیں انسانیت، مساوات، اور خدمتِ خلق کا درس دیا ہے، مگر ہم نے سنگ تراشی کو ترجیح دی اور دلوں کی تعمیر بھول گئے۔ اگر وہ بادشاہ اسلام کے اس پیغام کو عام کرتا، تو آج مسلمان صرف تاریخ کے حاشیے پر نہ ہوتے، بلکہ علم و عدل کے میناروں پر فائز ہوتے۔میں خاموش تھا۔ تاج محل کا حسن اب بھی سامنے تھا، مگر گائیڈ کے الفاظ نے اس کی چمک میں ایک اداس سایہ ڈال دیا تھا۔ مجھے یوں لگا جیسے سنگِ مرمر کے ہر ریشے میں وہی سوال گونج رہا ہو ۔
کیا واقعی یہ محبت کی نشانی ہے، یا ایک قوم کی محرومی کا سنگین استعارہ؟میں گائیڈ کی طرف دیکھتا رہا، جیسے وہ الفاظ نہیں، اپنی روح کے زخم بیان کر رہا ہو۔ اس کے چہرے پر ایک عجیب سا اضطراب تھا، آنکھوں میں درد کی دھند، جیسے صدیوں کی محرومی وہاں بسی ہو۔ جب اُس نے میری طرف دیکھا تو لمحہ بھر کو خاموشی طاری ہو گئی۔ ہماری نگاہیں ٹکرائیں۔ایک لمحے کے لیے وہ گویا آئینہ بن گیا، جس میں میں نے اپنے ہی ماضی کا عکس دیکھا۔ وہ دھیرے سے بولا،صاحب، مجھے معاف کرنا۔میں شاید کچھ زیادہ ہی جذباتی ہو گیا۔اس نے نظریں جھکا لیں، جیسے اپنی سچائی سے شرمندہ ہو۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا،بھائی، تم نے جو کہا، وہ دل سے کہا۔ حقیقت اکثر تلخ ہوتی ہے، مگر یہی تلخی جاگنے کی دعوت دیتی ہے۔
میں ابھی اس کے دردناک سچ سے پوری طرح سنبھلا بھی نہ تھا کہ اس نے دوسرا تیر چلایا۔ صاحب!وہ بولا،اب ہمیں ماضی کے کارنامے اور مسلم سائنسدانوں کی قصے بھی دہرانا چھوڑ دینا چاہیے،یہ وقت کا زیاں ہے، یہی وقت ہمیں سائنسی ترقی اور نئیایجادات کی تحقیق میں لگانا  چاہیے ۔ ماضی کی دیواروں پر فخر کرنے سے حال کے اندھیرے تو روشن نہیں ہوتے۔اس کے الفاظ میرے دل میں بجلی کی طرح گرے۔ میرے قدموں تلے زمین جیسے کھسک گئی۔ میں کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر لفظوں نے زبان کا ساتھ چھوڑ دیا۔ میں نے جیب سے پرس نکالا، چند نوٹ نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اب میں وہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔ لیکن وہ مسکرا دیا۔ ایک عجیب، درد بھری مگر مطمئن مسکراہٹ۔ صاحب ،آج میری آمدنی زیادہ ہوگئی ہے ۔میں آپ سے فیس نہیں لوں گا ۔ میری اصل کمائی تو یہ ہے کہ آپ نے میری بات دل سے سنی۔ میں نے اصرار کیا، مگر وہ پیچھے ہٹ گیا، اور جانے سے پہلے صرف اتنا بولا۔ صاحب، میری باتوں کو نوشتہ دیوار سمجھ لیجیے۔پھر وہ بھیڑ میں گم ہو گیا۔