شیموگہ:سیاسی لیڈران غریب طبقے کے نوجوانوں کےخون سے ووٹ حاصل کرنے کے کام کرنے کیلئے ہاتھ نہ ڈالیں ۔ کسی بھی ذات کے خون سے سیاست نہ کریں ،اگر ایساہوتاہے تو اس خاندان کی بدعا سیاستدانوں کو تباہ کردیگی۔ اس بات کااظہارمعروف سنتھ ونئے گروجی نے کیاہے۔آج شام شہرکے گاندھی پارک میں شانتی نگرکے معاملے کو لیکرامن کا پیغام عام کرنے کیلئے منعقدہ پروگرام میںانہوں نے بات کرتے ہوئے کہاکہ سیاست دانوں کو ہوش کے ساتھ بات کرنی چاہیے کہ سب انسان ہیں۔ بدکرداروں کی کوئی ذات یا مذہب نہیں ہوتا،ایسے لوگوں کو مذہبی حلقوں میں شامل نہ کریں۔تمام مذاہب کو انسانی نقطہ نظر سے دیکھنا چاہیے۔ آج انسانیت پر مبنی مذہب کی ضرورت ہے۔ہمارے مندر، چرچ اور مسجد میں آنے والے لڑکے شور مچاتے ہیں۔ انہیں مزید تعلیم کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے مزید محنت کی ضرورت ہے۔مختلف مذہبی رہنمائوں کی موجودگی میں منعقدہ اس تقریب میں شیموگہ کےبسواکیندراکے بسوامرلو سدھاسوامی جی نے بات کرتے ہوئےکہاکہ آج مذہب سڑک پر آ گیا ہے، اس کیلئے مذہبی رہنماء ذمہ دارہیں،مذہبی رہنمائوں کو چاہیے کہ ہماری ناکامیوں کی وجوہات پر بحث کریں اور اس کا حل تلاش کریں،ہماری ذمہ داری اور کوشش کو بڑھانا چاہیے۔ ورنہ تمام مذاہب کے لوگ اس طرح کی مذموم حرکت کا شکار ہوں گے۔ معاشرے اور ملک کو ایک الگ پیغام جاتا ہے۔ فرقہ وارانہ کشیدگیوں کی وجہ سے ہماری ریاست داغدار ہوگی، ترقی میں تعطل پیداہوگا۔اس موقع پر عبدالطیف تنگل نے بات کرتے ہوئے کہاکہ شرپسندوں کی اصلاح کے لیے کام کیا جانا چاہیے، مسجد میں خطبہ سننے والے اگر برائی چاہتے ہیں تو تبلیغ کرنے والاکون ہوگا؟ سینکڑوں پلیٹ فارمز پر امن اور ہم آہنگی کے پیغامات دیے جا رہے ہیں، لیکن یہ شرپسندوں تک پیغام نہیں پہنچ رہاہے۔جن نوجوانوں سے ہم سماجی کی بھلائی چاہ رہے تھے وہ سماج کےدشمن بنتے جارہے ہیں۔اس موقع پر اڈوکیٹ شریپال نے ابتدائی کلمات پیش کئے،کرن کمار،گرومورتی ،اسماعیل ،محمد لیاقت ،شی جو پاشاہ،سریش ارسالو،ملیکارجنا ،جگدیش وغیرہ موجودتھے۔
