شیموگہ:۔شیموگہ کے راگی گڈے میں میلادجلوس میں پتھر مارے جانے کے معاملے کو لیکر جہاں مختلف شک وشبہات کا سلسلہ جاری ہے تو وہیں اس معاملے کے آدھے گھنٹے کے گذرنے کے بعد مقامی لوگوں نے روہن اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے پتھرائوکئے جانے کی بات تصدیق کی تھی،اُسی دن رات آٹھ بجے پولیس نے روہن اور اس کے 6/ ساتھیوں کوایک ہی گھر سے گرفتارکیاتھا،جس کی ویڈیو انقلاب نیوز کےپاس موجودہے۔گرفتاری سے قبل روہن اور اس کے ساتھی پولیس کے ساتھ حجت کررہے تھے،جس پر پولیس نے انہیں گھسیٹتے ہوئے باہر لایااور انہیں اپنی تحویل میں لیکر تھانے پہنچے۔جس وقت روہن کو تحویل میں لیاجارہاتھا،اُس دوران اس کے سرپر کسی بھی طرح کا زخم نہیں تھا،اب اس کے سرپر شدید زخم ہونے کی بات سامنے آرہی ہے۔ سوال یہ بھی اُٹھ رہاہے کہ کیا واقعی میں روہن اور اس کے ساتھیوں نے جلوس پر پتھرائو کیا تھا ؟اس تعلق سے بھی ایک ویڈیو دستیاب ہے،جس میں روہن کو لاٹھی پکڑے ہوئے دیکھاجاسکتاہے۔ان تمام باتوں کے درمیان شانتی نگرمیں معاملہ بگڑنے کی دو اہم وجوہات ہیں،جس میں پہلی وجہ یہ کہ عورتوں اور مردوں نے پتھرمارنےوالے روہن اور اس کے ساتھیوں کو عوام کے حوالے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے پولیس کے ساتھ سخت بحث ومباحثہ کیاجس پر پولیس برہم ہوئی۔اس کے بعد علاقے میں144 سیکشن کو نافذکئے جانے کے بعد لوگوں کو گھرواپس جانےکی صلاح دی گئی تھی،باوجود اس کے نوجوانوں کا ایک بڑا گروہ وہیں کھڑا رہااور نعرےبازی کرتا رہا۔پولیس کی طرف سے باربار سمجھانے کے بعد یہ لوگ موقع پر سے نہیں ہٹے،جس کی وجہ سے پولیس نے لاٹھی چارج کی تھی۔
