بنگلور:۔ریاست کرناٹک کےامیر شریعت مفتی صغیر احمد رشادی نے یہاں ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ مسلمان سوریہ نمسکارکے یوگامیں شرکت نہ کریں،انہوں نے کہاکہ ہمارا ملک دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہے، یہاں کی گنگا جمنی تہذیب ہی اس کی شان اور اس کی خوبصورتی ہے، یہاں ہر ایک کو اپنے مذہب، عقیدے اور نظریات پر عمل کرنے کا دستوری حق حاصل ہے، اور یہ حق دستور کے ان بنیادی اصولوں میں سے ہے جو نا قابل ترمیم اور نا قابل تنسیخ ہیں، حکومت نے ملک کی75ویں آزادی کی سالگرہ کی مناسبت سے پورے ملک میں سوریہ نمسکار کا غیر آئینی پروگرام چلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔مزید انہوں نے کہاکہ وزرات تعلیم کی جانب سے26جنوری2022 یومِ جمہوریہ کو بڑے پیمانے پر موسیقی پروگرام کے ساتھ سوریہ نمسکار پروگرام منعقد کرنے کا اعلان تو کیا ہے لیکن اس کو لازمی اور ضروری قرار نہیں دیاگیا۔جو اس عقیدے کے ماننے والے ہیں اور جن کے نزدیک یہ درست ہے وہ اس میں شرکت کریں گے لیکن مسلمانوں کا عقیدہ ہی توحید ایک خدا کے علاوہ کسی کی الوہیت کو تسلیم کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور سوریہ نمسکار میں سورج کو خدا تسلیم کرنے اور اس کی پوجا کرنے کی بات ثابت ہوتی ہے، جو غیر اسلامی اور غیر شرعی ہے- مسلمانوں کیلئے نا قابل قبول اور نا قابل عمل بات ہے، اور مسلمان اس شرکیہ عمل اور شرکیہ نظریہ سے بری ہیں – لہٰذا مسلمان والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی جاتی ہے کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو اس قسم کے کسی بھی غیر شرعی پروگراموں میں ہرگز شریک نہ کروائیں اور اپنے دین و ایمان کی حفاظت کا فریضہ انجام دیں –۔
