از:۔ثمینہ تاج۔معلمہ،وزڈم انگلش اسکول شیمو گہ ۔ 9538174617
پچھلے چند سالوں سے یہ بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ ۱۲ربیع الاول کو میلاد منایا جارہا ہے یا میلہ ؟
اتفاق سے پچھلے کچھ سالوں سے غیر مذہب کا تہوار گنیش اور میلاد دونوں بیک وقت آرہے ہیں تو یہ اندازہ لگانا مشکل ہو رہا ہے کہ ہمارے نوجوان گنیش کے تہوار میں ناچ رہے ہیں یا کوئی اور تہوار منا رہے ہیں۔
کیونکہ *میلاد منارہے ہیں۔ یہ کہتے ہو ۓ تو شرم آرہی ہے. جس طرح سے جلوس میں شریک نوجوان شراب اور گانجہ کے نشے میں دھت ڈی جےاور میوزک پر تھرکتے ہیں ان نوجوانوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ ان نوجوانوں کو میلاد کے "م ” کا بھی مطلب معلوم نہیں ہے.
قصور ان نوجوانوں کا نہیں ہے بلکہ قصور ہمارے قوم کے نام نہاد راہنماؤں، ذمہ داروں، اور دین کے ٹھیکیداروں کا ہے ۔ بیچارے ان نوجوانوں کو تو یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ۱۲ ر بیع الاول کو وہ کس عظیم شخصیت کا یوم پیدائش منارہے ہیں،رحمت العالمین،سردارِ انبیاء ، تاجدارے مدینہ حضرت محمدﷺ کا یا حضرت ٹیپو سلطان شہید رحمتہ کا یا کسی اور مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہجہان و اورنگ زیب کا۔۔۔۔
عجیب فتنہ گری ہےکلما پڑھنے والے کلما پڑھانے والے، ساری دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام دینے والے کی ولادت پر ہمارے نوجوان جو دہشت مچاتے ہیں کہ خدا کی پناہ۔ انھیں یہ احساس تک نہیں رہتا کے وہ کس کامیلاد منارہے ہیں وہ کس عظیم شخصیت کی محفل سجارہے ہیں جس عظیم الشان شخصیت کامیلاد وہ منارہے ہیں اُنکا پیغام کیا تھا وہ سارے عالم کیلئےرحمت بنکر آئے تھے نہ کے زحمت۔
میں یہ نہیں کہہ رہی ہوں کے میلاد منانا نہیں چاہیے بلکہ جس طرح سے آجکل لوگ منا رہے ہیں اسکا اسلامی تعلیمات سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے اور میلاد منانے کا یہ طریقہ بلکل غلط ہے۔
ڈی جے ، ناچ گانا، آتش بازی، نشے میں دھت ہو کر راستوں پر ناچنے سے انھیں لگتا ہے وہ دین پھیلا رہے ہیں ۔ارے نادانوں ایسے تو تم لوگ میلاد کے نام پر شہر میں دہشت پھیلا رہے ہو۔ غیروں کو یے کہنے کا موقع دے رہے ہو کہ مسلمان دہشت گرد ہیں دین ہمارے ہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے ،ہم خود اپنی تباہی کا سامان اکٹھا کر رہے ہیں ۔ تمہارے ان کرتوتوں کو دیکھ کر غیر تو غیر خود مسلمانوں کا سر شرم سے جھکا جارہا ہے۔
علامہ اقبال نے بھی کیا خوب کہا ہے
وضع میں تم ہو نصاریٰ تو تمدن میں ہنود
یہ مسلمان ہیں جنہیں دیکھ کے شرمائے یہود
اور پھر سونے پہ سہاگہ اس جلوس کو دیکھنے کیلئے آئی ہوئی ان خواتین کا ہجوم۔ انکے بارے میں تو کیا ہی کہنا۔ *الامان الحفیظ*۔ بس زبان پر بے ساختہ اکبر آلہ آبادی کا یہ شعر مچل رہا ہے۔
بے پردہ جو کل آئی نظر چند بیبیاں
اکبر زمیں میں غیرت قومی سے گڑ گیا
پوچھا جو ان سے آپ کا پردہ وہ کیا ہوا
کہنے لگیں کہ عقل پہ مردوں کے پڑ گیا
میں ہمارے ان دین کے ٹھیکیداروں سے، ان ذمہ داران قوم سے پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا ہم میلاد کو میلاد کے طریقے سے نہیں منا سکتے ؟ کیا اس مبارک موقع پر ہم امن و شا نتی کا پیغام عام نہیـــــں کرسکتے ؟ کیا ہم یہ آتش بازی ، نشہ، ناچ گانا ، ڈی جے وغیرہ رد کر کے سکون و امن سے درود و سلام پڑھتے ہوئے اپنے آقاﷺ کی بارگاہ اقدس میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے راستے سے تکلیف دینے والی چیزوں کو ہٹاتے ہوئے بغیر شور و غل کے بڑے ہی ادب و احترام کے ساتھ جلوس نہیں نکال سکتے ؟؟؟
کیا ہمارے قوم و ملّت کے ذمہ داران ہمارے ان بھٹکے ہوئے نوجوانوں کی راہنمائی نہیں کرسکتے ؟
کیا میلاد کے جلوس کا انعقاد کرنے والی کمیٹی کی یہ ذمہ داری نہیـــــں بنتی کہ وہ ہمارے ان نادان نوجوان کو سمجھائیں یا انھیں اس گستاخی سے روکے ؟؟؟
کیا ہمارے آئمہ شہر ان نوجوان نسل کو جلوس میں غیر شرعی امور سے بچنے اور اس مبارک موقع پر عوام الناس میں زیادہ سے زیادہ رفاہی کام انجام دینے کی جانب متوجہ نہیں کرسکتے ؟؟؟
کیا انکے زبانوں پر تالے پڑے ہوے ہیں ؟کیوں انکے نصیحتوں اور بیانوں میں وہ تاثیر ختم ہو گئی ہے ؟؟؟
یا پھر وہ بھی جان بوجھ کر تماشائی بنے ہوےَ ہیں ۔ ہزاروں خدا کو ماننے والے کافر جب ایک ہوسکتے ہیں تو ایک خدا کو ماننے والے کیوں ٹکڑوں میں بٹ کر دین کا مذاق بنا رہے ہیں۔ یہ سب کام کرکے ہم لوگ میونسپالٹی کے دفتر میں تو مسلمان ہو سکتے ہیں لیکن اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی نظر میں ہرگز بھی نہیں۔کیا آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ میلاد مصطفیٰ ﷺمیں تلوار بنا نے ، مقدس مقامات کے ماڈل بناکر نمائش کرنے یا پھر اپنے اسلاف کے کٹ آوٹ بنا کر لگا دینے سے دین پھیل جائیگا ؟
نہیں ہرگز بھی نہیں۔ ارے نادانوں غیروں کو اگر متاثر کرناہی ہے ، انھیں نیچا دکھانا ہی ہےتو تلوار کے زور پر نہیں بلکہ اپنے حسن و اخلاق سے اپنے کردار کی پاکیزگی سے متاثرکرو، اسلام نام ہی ہے امن کا ،پیار و محبت کا، بھائی چارے کا، معاف کرنے کا، حرام چیزوں سے بچنےکا۔
آجکل کے نوجوان میلاد النبی کے نام پر ہر وہ کام کر رہے ہیں جو شریعت میں سراسر حرام ہیں ۔
افسوس صد افسوس۔ اس بات کا کہ اسی میلاد کے جلوس میں ،ہماری مسجدوں کے ذمہ دار، ہماری قوم کے لیڈران و عماءدین شہر بھی شامل رہتے ہیں، جو غیر شرعی کام ہوتے ہوئے دیکھنے کے باوجود بھی گاندھی کے تین بندروں کی طرح جلوس میں شامل رہتےہیں ۔اب گلہ یا شکایت کریں بھی تو کس سے کریں۔
اب یہاں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ
دل کے پھپھولے جل اٹھے سینے کے داغ سے
اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے
میلاد منانا اچھی بات ہے آپ شوق سے میلاد منائے، لیکن غور طلب بات یہ ہےکہ میلاد منانے کا طریقہ کیا ہے ؟
اس دن ایصال ثواب یا دیگر اعمال خیر کرکے غیر مسلموں میں آپﷺ کی زندگی کے مقدس حالات اور سیرت مبارکہ کا ذکر کیجئے، درود شریف کی کثرت کیجئے، حضور ﷺکے نام پر یتیموں اور غریبوں کو کھانا کھلائیے،مریضوں اور بیماروں کی عیادت کیجئے، نمازوں کا اہتمام کیجئے، گناہوں سے توبہ کیجئے،اپنی کوتاہیوں کو درست کیجئے، اپنے معاملات کو صحیح کیجئے، کہنے کا مطلب یہ ہے کہ صرف جلوس نکالنا ، نعرے پکارنا ، اپنے گھر وں،گلی محلوں کو سجانا ہی میلاد نہیں ہے۔ اور اگر جلوس نکال ہی رہے ہو تو ادب کے ساتھ ، با وضو ہوکر سر کو جھکاکر نبی ﷺ کی سنتوں کو ادا کرتے ہوئے جلوس نکالیں تاکہ غیر مسلموں کو بھی پتہ چلے کے اسلامکیا ہے اور اسلامکا پیغام کیا ہے چونکہ ہم مسلمان ہیں ، اور مقدس دنوں کے حساب سے چلتے ہیں تو حضور ﷺ کی یاد منانا درست ہے ، انکا میلاد منانا اور انکے بتائے ہوئے طریقے پر نا چلنا یہ درست نہیں ہے۔ اگر میلاد منانا درست ہے اور آپ صحیح معانوں میں خدا اور اسکے رسول کو راضی کرنے کیلئےمیلاد منارہے ہیں تو پھر جنکا میلاد آپ منارہے ہو انکی تعلیمات پر بھی عمل پیرا ہوجانا چاہیے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم غلط طریقے سے میلاد مناتے مناتے ہمیشہ کیلئے ہمارے جلسے و جلوس پر پابندی عائد ہو جائے۔
حضور ﷺ کی یاد منانی ہو تو ہمیشہ یاد رکھناچاہئے کہ حضور ﷺ کے تعلیمات کیا ہیں۔ ہلہ گلہ ،شور شرابا ، نہ ہوبلکہ ہمارے اندر سنجیدگی ہو ، ادب پیدا ہو، تاکہ دیکھنے والوں میں دینی شعور بیدار ہو، بچوں اورنئی نسل میں دین کی روشنی پیدا ہو۔ آپ کی سنجیدگی اور برد باری کو دیکھ کر غیر بھی اسلام کی طرف راغب ہوں، کہیں ایسا نہ ہو کہ میلاد مناتے مناتے آپ اتنا بہک جائیں کے آپکے غلططریقہ کار اور گانے بجانے کو ہی نئی نسل دین نا سمجھ بیٹھے اور یہ نہ کہے کہ ہمیں نہیں پتہ قرآن و حدیث کیا ہے، ہم تو بس اپنے بڑوں کے پیچھے چلیں گے۔
اللہ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنی روایات کو صحیح طور پر اپنے آنے والی نسلوں تک پہنچا سکیں۔ ہماپنی وراثت میں دین کا صحیح طریقہ چھوڑ جائیں ۔
ورنہ آج میلاد اور جلوس کے نام پر جو کچھ ہو رہاہے اسے دیکھنے کے بعد تو ہم درود پڑھنے کی بجائے *اناللہ وانا الیہ راجعون*پڑھنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں اللہ تعالی ہمیں ابلیس کی طرح علم اور تکبر سے نہیں بلکہ علم کے ساتھ ساتھ ادب اور عمل سے بھی نوازے۔ اور ہمارے رہنماؤں میں وہ انداز بیان پیدا کرے ،جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے۔آمین یا رب العالمین۔
آخر میں مولانا الطاف حسین حالی کی اس نظم کے ساتھ اپنا یہ مضمون ختم کرنا چاہونگی کہ۔۔۔
کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر
جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر
جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر
کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر
مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں
پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں
وہ دین جس سے توحید پھیلی جہاں میں
رہا شرک باقی نہ وہم و گماں میں
وہ بدلا گیا آکے ہندوستان میں
ہوا جلوہ گر حق زمین و زماں میں
ہمیشہ سے اسلام تھا جس پہ نازاں
وہ دولت بھی کھو بیٹھے آخر مسلماں
نبی کو چاہیں خدا کر دکھائیں
مزاروں پر دن رات نذریں چڑھائیں
شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں
اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں
نہ توحید میں کچھ خلل اس سے آئے
نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے
