درودِ ابراہیم کی فضیلت 

مضامین
القول البدیع،، نامی کتاب میں ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں  کہ تمام علما اس بات پر متفق ہیں کہ رسول اکرم ﷺ پر درود وسلام بھیجنا ہر مومن پرفرض ہے ، قرآنِ کریم کی اس آیت کی وجہ سے جس میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ بیشک اللہ تعالی اور فرشتے درود بھیجتے ہیں نبی پاک ﷺ پر اے ایمان والو تم بھی درود وسلام بھیجو نبی ﷺ پر( القرآن )
  سب سے افضل درود
تمام درودوں میں سب سے افضل درود دودِ ابراھیمی ہے ،چونکہ آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو یہ درود سکھایاہے اور پیغمبر ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام پر اور ان کی ساری آل پر بھی اس میں درود بھیجا گیا ہے ۔
مگر آپ ﷺ کا درودِ ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام کی طرف منسوب کرنا اور اسی درودِ ابراھیمی کو نمازوں کیلئے منتخب کرنا اس اہم نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے، چنانچہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ ،، میں ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام کی دعا کا ثمرہ ہوں ۔ یہاں پر دعا کی وضاحت کرنا مقصد نہیں بلکہ حضرت ابراھیم علیہ الصلاۃ والسلام کاایک خاص نرالی شان اور بہت ہی ممتاز وبے مثال ہو ایسے پیغمبر کی بعثت کیلئےبارگاہِ الہ العامین میں دعا کرنا اس بات سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ اس دعا کی اہمیت کے متعلق سامنے ہیں ۔
( ١ )آپ ﷺ حضر ابراھیم علیہ السلام کی نسل سے ہیں( ٢)حضرت ابراھیم علیہ السلام نے تعمیرِ کعبہ کے وقت مکہ والوں کیلئے ایک عظیم الشان پیغمبر کی بعثت کیلئے دعا کی تھی ( ٣) آپ ﷺ کی بعثت حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اسی دعا کانتیجہ و ثمرہ ہے ۔ لہذا اب درود ابراھیمی میں حضرت ابراھیم علیہ السلام کے ذاتی کمال کی طرف اشارہ مقصود نہیں بلکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام کی اس دعا کی طرف اشارہ کرنا مقصد ہے جس کے نتیجہ میں سارے عالمَوں کیلئے نبی آخرالزماں ﷺ کا وجود ظہور میں آیا ۔ اللہ نے آپ ﷺ کو حضرت ابراھیم کی اولاد میں پیدا کیا۔
جیساکہ حضرت ابراھیم علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے حکم سے بیت اللہ کی تعمیر کے موقع پر بہت ساری آزمائشوں ، مجاہدوں اور امتحانات سے گزررہے تھے تو ان تمام قربانیوں کے بعد اللہ ربّ العالمین کی بارگاہِ قدس میں اہل مکہ کیلئے اور ساری انسانیت کی فلاح وبہبود کیلئے خاتم النبیین و سیّد المرسلین ﷺ کو مانگا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل میں آپ ﷺ کو پیدا فرمایا ۔ تو حضرت ابراھیم علیہ السلام کو امت محمدیہ ﷺ سے ایک خاص مناسبت اورگہرا تعلق ہے اور امت محمدیہ ﷺ کو حضرت ابراھیم علیہ السلام نے ہی  ھو سمّاکم المسلمین کہہ کر نام رکھا تھا ۔ تو غرض حضرت ابراھیم علیہ السلام پر جس طرح اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت اور انکی نسلوں میں پیغمبروں کا مبارک سلسلہ نیز ملکوں ،علاقوں ، شہروں اور آبادیوں میں برکتوں اور رحمتوں کا نزول ہوا اوریہ تمام مکہ میں نظر آرہاہے یہی وجہ ہیکہ رسول اللہ ﷺ نے درود ابراھیم کی تعلیم دی اور نمازوں میں قیامت تک درود ابراھیم کو پڑھنے کا حکم دیا ،آپ ﷺ نے فرمایا
کما صلّیتَ علی ابراھیم وعلی آل ابراھیمَ
پھر آپ ﷺ نے فرمایا
کما بارکتَ علی ابراھیم وعلی آلابراھیم انَّکَ حمید مجید
تو حضرت ابراھیم کی برکتوں کا بھی آپﷺ نے اس طرح تذکرہ فرمایا ، یہاں درودِ ابرھیمی کی تعلیم کی حکمت آپ ﷺ کے نزدیک یہ تھی کہ ابو الانبیا حضرت ابراھیم علی نبیّنا علیہ الصلاۃ والسلام کی بے مثال قربانیوں ،آزمائشوں ، مشقتوں ، اوالعزم کارناموں کی یاد ہمیشہ باقی رہے اور میری امت کے اندر بھی اس طرح کی قربانیوں اور آزامائشوں پر صبر آزما رہنے کی صلاحیتیں پیدا ہوں ۔ جس سے میری امت بھی انوار و برکات اور خدا وند قدوس کی رحمتوں اور روحانی ومادّی برکتوں سے قیامت تک مالامال ہوتی ر ہے ۔
درود وسلام پڑھنے کا حق کیسے اداہوگا ؟
اب درود ابراھم نماز میں پڑھنے سے درود وسلام کا حق ادا ہوگا یا نہیں ؟ تو معلوم ہواکہ صرف درود ابراھیم پڑھنے سے حق ادا نہیں ہوگااس درود ابراھیمی میں آپ ﷺ کا تذکرہ نہیں ، لیکن نماز میں قعدہ تشہدکے اندر آپ ﷺ پر پہلے سلام عرض کیا جاتا ہے ( السلام علیک ایّھاالنبیُّ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ) پھر اس کے بعد درود ابراھیم پڑھاجاتاہے ورنہ صرف درود ابراھیم پڑھنے اور لکھنے سے  اللہ کے حکم پر عمل نہ ہو گا ۔
حضرات صحابہ ،تابعین وتبعِ تابعین اور ائمہ محدّثین وسلفِ صالحین کسی نے بھی آقا ﷺ کے نام گرامی کے بعد چاہے پڑھنے یا لکھنے کی نوبت ہو درود ابراھیم کو لکھا اور نہ پڑھا اسم گرامی ﷺ آنے کے بعد ۔وجہ اسکی اس میں یہ ہیکہ لفظِ سلام کا تذکرہ نہیں ہے جسکا آیت میں حکم ہے ۔بخاری ومسلم اور نہ حدیث کی کسی کتاب میں آپ ﷺ کے نام گرامی کے بعد درودابراھیم کسی نے لکھاہو ۔تو معلوم ہواکہ درود کے ساتھ صلاۃ وسلام دونوں ضروری ہیں ۔
اب آپ ﷺ کا حکمِ تعلیمی بھی دیکھ لیں ۔ حضرت ابو مسعود انصاری ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے ہم اس وقت سیدنا سعد بن عبادہ ؓ کی مجلس میں تھے تو سیّدنا بشیر بن سعد ؓ نے آپ ﷺ سے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ ﷺ پر درود پڑھنے کا حکم فرمایا ہے تو ہم آپ ﷺ پر کیسے درود پڑھیں ? آپ ﷺ خاموش رہے ،یہاں تک کہ ہم نے آپ ﷺ کی خاموشی کی وجہ سے یہ خواہش کہ کاش بشیر بن سعد ؓ آپ ﷺ سے سوال ہی نہ کرتے ۔ تو آپ ﷺ نے پھر فرمایا یوں کہا کرو
 اللھمّ صلِّ  علی محمد وعلی آل محمد کما صلّیتَ علی آل  ابراھیم وبارک علی محمّد وعلی آل محمد کما بارکت علی ابراھیم فی العالمین انَّکَ حمیدمجید
 تو ہوا مکمل درود و صلاۃ ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا ،
 والسلام کما قد علمتم
یعنی مجھ پر سلام پیش کرنا تم جانتے ہی ہو ۔بغیر سلام کے صلاۃ نہیں اور صلاۃ کے بنا سلام نہیں ۔ آپ ﷺ نے لفظ” قد” کا استعمال فرمایا جو یقین  کا معنی پیدا کرتا ہے (الموطا للامام مالک) درود ابراھیم خیر وبرکت ، بزرگی والا درود شریف ہے ۔
درود اراھیم امتِ محمدیہ کیلئے ایک تحفہ
درود ابراھیم امت محمدیہ کیلئےایک تحفہ ہے اسی لئے آپ ﷺ نےحضرت ابراھیم اور آل ابراھیم پرہر نماز میں ان کے حق میں دعا کرنے کا حکم فرمایا ۔تو اس سے معلوم ہواکہ آپ ﷺ کو حضرت ابراھیم اور آل ابراھیم سے بے حد انسیت و محبت ہے اور یہ درود بزرگی والاہونے کی وجہ سے علما نے لکھا ہے کہ اس کو پابندی کے ساتھ پڑھنے سے ہمارے تمام حاجات اور امور انجام پزیر ہوتے ہیں ۔ سب سے اہم بات یہ کہ یہ درودِ ابراھیمی زبانِ رسالت ماب ﷺسے نکلا ہوا بابرکت درود شریف ہے ۔آپ ﷺ دو یا تین یا چار رکعت والی نماز کے قعدہ اخیرہ میں ہمیشہ درود ابراھیمی پڑھا کرتے تھے ۔
درود ابراھیم میں آل رسول سے مراد تین اقوال ہیں (١) آل رسول ﷺ سے مراد تمام امت محمدیہ ( ٢) بنو ھاشم بنو عبد المطلب ( ٣) آپ ﷺ کی ذرّیت اور آپ ﷺ کے اہل بیت ۔ان آل رسول کے بھی اس امت محمدیہ ﷺ پر بہت زیادہ احسانات ہیں لہذا ان پر بھی صلاۃوسلام بھیجنا ضروری ہے جس طرح حضرت ابراھیم اور انکی آل پر ضروری ہے ۔ یہ درود ابراھیم بے انتہا بابرکت، عظمت وبزرگی والا درود شریف ہے ۔
از:۔ عبدالجلیل القاسمی چنئی.9042957806