حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی 

مضامین
از:۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان(شیموگہ)اسسٹنٹ پروفیسر۔شعبئہ اردو، کرناٹک اسٹیٹ اوپن یو نیورسٹی،میسور۔9845916982
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
خدا کرے کہ جوانی تیری رہے بے داغ
 کائنات میں 18؍ہزار مخلوقات موجود ہیںبیشک اُس کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی ذات گرامی نے کی ہے اُن مخلوقات میں انسان کو جو شرف عطا ہے وہ کسی اور کے حصے میں نہیں ۔یعنی اشرف المخلوقات کاسند ہر لحاظ سے قابل قدر ہے خود اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ لَقَدۡ خَلَقۡ الانسان فی احسنِ تَقۡوِیۡم ( انسان کو ہم نے حسین پیرائے میں بنایا ہے )لیکن وقت اور زمانے کے اعتبار سے انسان اپنا وجود کھوتاجارہاہے ۔ نت نئے سائنسی ایجادات نے انسانی زندگی کو آسان بنادیا ہے۔ لیکن اس ضمن میں غور وفکر کیا جائے توکچھ اس طرح کا منظر نامہ دکھائی دیتاہے کہ انسان اپنے مقام مرتبے ،آداب ولحاظ کو گنواتا رجارہاہے ۔ انسانی جسم میں ویسے توبہت سارے اعضاء ہوتے ہیں۔ جیسے دل ہے ،دماغ ہے ،لیکن دو نوں کا معاملہ الگ الگ ہے ۔دل کی باتوں کودماغ زیادہ اہمیت نہیں دیتا ۔اور دل ہے کہ مانتا نہیں۔دور حاضر میں دماغ پوری طرح حاوی ہوگیاہے ۔جدید ٹکنالوجی نے انسان دماغ کو اور پاگل بنادیا ہے اسے اب سکون کی تلاش ہے لیکن وہ سکون مادی چیزوں میں تلاش رہا جیسے ،پیسہ ،زر ،زیور ،گھر ،دکان ،کھیت ،باغ ،تجارت وغیرہ ۔ لہٰذا ان چیزوں کو حاصل کرنے کی خاطر حلال ،حرام ہر طرح سے لالچی وحر یص کا نمونہ بن کر ،خوشی کو تلاش رہاہے ۔انسانی اعضا میں سب سے خوبصورت آنکھیں ہیں۔لہٰذا حیا کاتعلق آنکھ سے ہے ۔ شرم وحیا ایک عظیم زیور ہیںلیکن ایسا لگتا ہے کہ انسان آج ان قیمتی چیزوں سے دور ہوتا جارہاہے۔ جمالیاتی حسن کے نام پر انسان نے زندگی کوجہنم بنادیا ہے ۔آرائش وزیبائش ،بنائو سنگھار کو اتنی اہمیت دی جارہی ہے کہ اب اس کااصل مقام ہی ختم ہوتاجارہاہے۔ پچھلے دور کے اداب زندگی ،رہن سہن ،کھانا پینا ،بیٹھنا اٹھنا ،چال چلن ،طور طریقے ،پہناوا غرض کہ ہماری مکمل زندگی دائرے تہذیب سے نکل گئی ہے۔ا یسا محسوس ہوتاہے کہ ہم تہذیب کے قد وخال ،آداب ولحاظ بھول گئے ہیں۔
بیکاری وعریانی ومئے خواری وافلاس
کیا کم ہیں فرنگی مدنیت کے فتوحات 
ہے دل کے لئے موت میشنوں کی حکومت
احساس ِ مروت کو کچل دیتے ہیں آلات 
مغربی طرزِمعاشرہ ہماری نس نس میں سماگیا ہے ۔ہمارا پہناوا زوال پذیر معاشرے کا پروردا بن گیاہے ۔ شرم وحیا ،غیرت واحساس تو کب کے دم توڑ چکے ہیں۔آج دنیامیں یہودی چالیں کام کر گئی ،نصاریٰ کے نظام کو اپنا کرحقیقی زندگی کے وجود ہی کو ختم کرچکے ہیں ۔ تین چار دہائیوں کے پہلے والے زندگی کو لوگ مذاق سمجھ رہے ہیں گویا ایسا لگتاہے کہ فیشن کے سارے اُصول وضوابط خود دھوکر پی لئے ہیں ۔ یا اصل حقیقت بھول گئے ۔ بے حیائی وبے شرمی کو باعث عزت ووقارسمجھا جارہاہے۔بزرگوں کی عظیم وراثت کو ایک جھٹکے میں ختم کردیا ۔ صالح ورایات کی اہمیت پر حقیقت اور پہچان کو سرے سے خارج کردیا ۔ پیار ، محبت ،خلوص ،ہمدردی ، وفا ،انسانیت ،شرافت کے درد ویوار ہلا کے رکھ دئے ۔
اب باقی صرف بیکاری، عریانی و مئے خواری نظر آتی ہے۔ رشتوں کی عظمت ختم ہوگئی ،آپسی بھائی چارگی ،شرم وحیا ،زبان وبیان کی پاکیزگی ختم ہوگئی ۔ غلط سوچ ،بے ہودہ باتیں ، گالی گلوج ،پھکڑ بازی زیادہ جوتی پیضہ ،پھدّا مزاق ، ہماری زندگی کاحصہ بن گئے ہیں۔ جدید پہناوے سے جسموں کی نمائش کو کامیابی وترقی یافتہ زندگی کا نمونہ سمجھاجارہاہے ۔پکنک ،ہوٹل ،ٹور، سیر وتفریح ،کلب ،ناچ گانا ،فاسٹ فوڈ، چائنس ، گمیز، مسیج ،واٹس آپ ،فیس بک،انسٹا گرام ،ٹوئٹ وغیرہ ابلیس کے مشن کو پورا کرر ہے ہیں۔
 ہمارے بچے اور نوجوان ان تمام چیزوں کو اپنی زندگی کا واحد ذریعہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ یوںلگتاہے کہ ان چیزوں کے بغیر جینا ناممکن ہے ۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ انسان الکٹرانک مشینوں کے بیچ میں اپنے آپ کو کھو دیا ہے ۔ انسان خود کی بنائی ہوئی میشنوں کا گرویدہ ہوگیا ۔ انسان کائنات کی تخلیق کو بھول بیٹھا ہے۔
گنوادی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی 
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا 
 نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے اہم جز ہوتے ہیں ۔ان کے کندھوں پر قوموں کی تقدیریں لکھی ہوتی ہیں۔آج کامعاشرہ زوال پذیر تمدن کی نشاندہی کررہاہے ۔نوجوان دنیا میں جگ  مگ اوررنگین زندگی کو پسند کرنے لگے ہیں۔اپنی صلاحیتوں کوبے کار میں ضائع کررہے ہیں ۔معاشرہ تباہیاں و بردیاںکے مناظردیکھنے لگاہے ۔ ہمیں اُس کااحساس تک نہیں غیرت مر چکی ہے اچھی سوچ ختم ہوچکی ہے۔تبدیلی کاکوئی اشارہ نہیں ملتا آج کوئی صحیح اور حکمت والی باتیں کریں مزاق کانمونہ بنایا جاتاہے۔ صحت مند روایات کو ختم کرکے فرسودہ وبیکار چیزوں کو زندگی کاحصہ بنایا جارہاہے۔مادہ پرستی نے حقیقی زندگی کے طور طریقوںکوکاری ضرب لگائی ہے۔ سماج کاہرطبقہ ،ہر حصہ عظیم فتنوں کے زد میں آگیا ہے ۔برے بھلے کے فرق کومحسوس کرنے کاوقت بھی ہمارے پاس نہیں ہے ۔ اس گندے ماحول میں اگر کسی نے اپنی آنکھ سے ، اپنے خیال فکر سے اپنی سوچ سے اپنے قول و عمل سے اپنے کردار و گفتار سے نیک ثابت ہوجائے تو سمجھ جائے کہ وہ اس دور کا مجاہد ہے ۔جس کی جوانی بے عیب ہو جس کی جوانی بے داغ ہو یقین مانئے وہ اس دور کے سب سے اچھے اورباکردار لوگوں میں شمار ہوگا ۔