مسلم ووٹوں کی تقسیم کا خمیازہ کتنا بھاری ہوگا;اترپردیش اسمبلی الیکشن خدشات اور حل

سلائیڈر مضامین
اترپردیش اسمبلی الیکشن میںکانگریس ،ایس پی، عاپ اور بی ایس پی کے علیحدہ علیحدہ الیکشن لڑنے کا اعلان حیران کن ہے ،ان راہناؤں کے فیصلے سے یہ بات پکی ہوگئی کہ بی جے پی کی خاطر جیت کی راہ ہموار کرنے کے لئے، سیکولر ووٹوں بالخصوص مسلم ووٹوں پر اس بار سب مل کے فاتحہ پڑھیں گے۔اور تابوت میں آخری کیل ٹھوکنے کا کام مجلس اتحاد المسلمین ،راشٹریہ علماء کونسل ،پیس پارٹی  اور دیگر چھوٹی پارٹیاں کریں گی
آپ کو معلوم ہے  یہ سب سیکولر جماعتیں ہمیشہ بی جے پی کے قدم روکنے کیلئے مسلمانوں سے ووٹ کرنے کے وعدے لیتی رہتی ہیں اور مسلمان ووٹ دیتے بھی شاید اسی لئے ہیں تاکہ سنگھیوں کے بڑھتے قدم رکیں، لیکن غور کریں تو معلوم ہوگا کہ کتنی  خود پرست جماعتیں ہیں یہ ،  کہ اپنے مفاد کی خاطر علحدہ علحدہ الیکشن لڑنے تیار ہیں لیکن کسی سے اتحاد کرنے کو تیار نہیں ، اگر اگلی بار بھی بی جے پی حکومت بنی تو ذمہ دار کون ہوگا؟یہ سوال ابھی سے گردش کررہا ہے ۔
اب ذراعلیحدہ علیحدہ الیکشن لڑکر جیت کے زعم میں مبتلا جماعتوں کا جائزہ لیتے ہیں۔
مجلس اتحاد المسلمین :۔یہ بات ہضم نہیں ہوتی ہے کہ مجلس نے سو سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیونکر لیا؟جس پارٹی کے پاس کوئی زمینی پکڑ نہ ہو، کوئ علاقائی مضبوط چہرہ نہ ہو، سوائے زبانی جمع خرچ کے وہ اتنا بڑا فیصلہ بغیر کسی اتحاد کے کیسے کرسکتی ہے،
اویسی صاحب یہ اسمبلی الیکشن ہیں، کوئ بلدیاتی انتخابات نہیں ہیں کہ جتنی مرضی امیداوار کھڑا کردیں
اور پھر یوپی اسمبلی الیکشن ہوں تو اسمبلی حلقوں کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، اوپر سے آپ کسی مسلم پارٹی سے اتحاد کرنے کو بھی تیار نہیں ہیں۔کیونکہ آپ کی جماعت اپنے اکیلے پر مسلم قیادت کا لیبل لگانا چاہتی ہے،
آپ تو بمشکل دوچار سیٹیں جیت جائیں گے لیکن نقصان کتنا ہوگا اسکا اندازہ بھی نہیں کرسکتے ،
پیس پارٹی:۔ان کے پاس سوائے ڈاکٹر ایوب کے کوئ مضبوط لیڈر نہیں ہے لیکن جانے کیوں یوپی کے مسلمانوں کی قیادت کا اکیلے بوجھ اٹھانے کے لئے تیار کھڑے ہیں، حالانکہ ۲۰۱۷کے اسمبلی الیکشن میں علحدہ الیکشن لڑنے کا تجربہ ہوچکا ہے۔
اگر پیس پارٹی اور مجلس اتحاد المسلمین نے اس وقت ملکر الیکشن لڑا ہوتا تو شاید اتنی بری ہزیمت کا سامنا نہ کرنا پڑتا،
اسی طرح راشٹریہ علماء کونسل ہے: ۔نہ جانے کن بنیادوں پر یہ بھی اکیلے ہی الیکشن لڑکر جیتنے کے لئے تیار بیٹھے ہیں ، ایمانداری سے پوچھیں اپنے دل سے کہ کیا آپ واقعی کچھ سیٹں جیت سکتے ہیں ؟
یاد رہے سوائے ووٹوں کی تقسیم کے اور کچھ ہاتھ نہیں لگے گا اس بار بھی، اگر اتحادی محاذ نہ تشکیل دیا گیا ،
سماج وادی پارٹی:۔اس بار بھی اگر رویہ نہ بدلاتواکھلیش  یادو کو پھر ان کی،،یادو سب سے پہلے کی پالیسی ،، لے ڈوبے گی،اس بار وہ چاہے جتنے مسلم سمیلن کریں  فایدہ نہیں ہوگا۔مسلمانوں نے  بی جے پی سے خفیہ عاشقی اور اعظم خان کی صورت میں اپنے تئیں محبت کو دیکھ لیا ہے۔
،،عاپ،، نے بھی مکمل سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کیا ہے جس کا مکروہ چہرہ پچھلے ایک دو سال میں کئی بار سامنے آچکا ہے ،، یہ بھی ووٹ تقسیم کرکے بی جے پی کو سہارا دیں گے لکھنؤ تک پہنچنے میں۔
بہن جی مایاوتی جن کے سیاسی نظریہ کا  اونٹ کبھی اس کروٹ بیٹھتا کبھی اس کروٹ ، کبھی وہ بی جے پی کی زبان بولتی ہیں کبھی مسلم ہمنوا بنتی دکھائی دیتی ہیں ، ان سے خود دلت خوش نہیں ہیں ، مزید یہ کہ چندر شیکھر آزاد کی شکل میں دلتوں  کو ایک جرأت مند لیڈر بھی ہاتھ لگ گیا یے، جس کی وجہ سے بہن جی اور پریشانی میں ہیں
کانگریس اگر اپنی بقاء کی جنگ جیت لے وہی سب سے بڑی کامیابی ثابت ہوگی کانگریسیوں کیلئے ظاہر ہے یہ سب مسلم علاقوں میں مسلم امیدوار کھڑا کرکے بی جے پی کی راہ ہموار کریں گے
*حل*:۔سیاست میں ہوشیار لوگوں کا کردار اہم ہوتا ہے ، سیاسی تبدیلی سے ملک و قوم پر بڑا اثر پڑتا ہے، اسی لئے ضروری ہوتا ہے کہ ہر باشعور انسان سیاسی اعتبار سے علم وآگہی رکھے ۔کسے معلوم تھا کہ اورنگ زیب عالمگیر رح کے دور حکومت میں جو قوم سیاسی اعتبار سے صف اول میں شامل ہے، جو قوم ملک کی تعمیر و ترقی میں ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہے، اس کا ستارہ اورنگزیب رح کی وفات کے بعد ایسا ڈوبے گا کہ دوبارہ طلوع ہونے کا نام نہیں لے گا ۔آزاد بھارت کی تاریخ میں مسلمانوں کا سیاسی شعور ہمیشہ ہی قابل قبول پوزیشن میں نہیں رہا،
ہماری سیاسی زندگی ختم ہوگئی ہے اس کا واضح ثبوت یہ ہےکہ آزادی کے بعد سے لیکر اب تک بھی ہمارے پاس کوئی مضبوط سیاسی جماعت نہیں ہے ۔یوں تو ملک بھر میں آئے دن الیکشن ہوتے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ یوپی کا الیکشن بھارت کی سیاست میں سب سے اہم مانا جاتا ہے، کہاجاتا ہے کہ دلی میں کون بیٹھے گا، یہ وپی الیکشن کے نتائج تقریباً طے کردیتے ہیں۔یوپی الیکشن کو سیمی فائنل سمجھا جاتا ہے، جیتنے کیلئے عزت، وقار، سب داؤ پر رکھ کر الیکشن لڑا جاتا ہے ۔اس بار یوپی کا الیکشن اور مسلمانوں کا رول مستقبل میں اہم رول ادا کرے گا۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان کیا کریں؟:۔
کرنے کے بہت سارے کام ہوسکتے ہیں،سب بنیادی کام یہ کرنا چاہیے کہ اس وقت بالخصوص مسلم قیادتیں اپنی سیاسی روٹی الگ الگ چولہوں پر نہ سیکیں بلکہ مل کر ،خوب مظبوطی سے اتحادی مورچہ بناکر الیکشن لڑیں
کیونکہ آپ کے پاس بہت سارے علاقے ہیں جہاں مسلم اکثریت ہے ، جہاں ہر بار ووٹ علیحدہ الیکشن لڑنے کی وجہ سے تقسیم ہوتی ہے۔اپنی انا کو چھوڑ دیں مسلمانوں کی صورتحال کو دیکھیں آپ حکومت نہیں بنا سکتے لیکن آپ اتنی زبردست پوزیشن میں ہوں گے کہ آپ کے بغیر ان شاءاللہ حکومت بھی نہیں بنے گی۔شاملی ، دیوبند ، سہارنپور ، میرٹھ ، مرادآباد ، سنبھل ، بہرائچ ،اور اس پٹی میں جتنے بھی مسلم ضلع ہیں وہاں مسلم امیدوار ٹھہرائیں وہاں کے مسلمانوں کو پابند کریں کہ ہمارے اتحادی امیدواروں کو ووٹ دیں۔ملی جلی آبادی والے علاقوں میں دلتوں کو ٹکٹ دیں ، چھوٹی چھوٹی بچھڑی ذاتوں کے لوگوں کو عہدے دیکر ان کی برادری سے ووٹ لیں ۔زمینی سطح پر محنت کرنے والے افراد تیار کریں۔دلتوں اور مسلمانوں کی پسماندگی کے مسئلے کو خوب اُچھالیں، سو فیصد یقین ہے فایدہ ہمارا ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر:ظفر لکھیم پوری