افسانچہ:۔آسودگی

مضامین

از:۔حفصہ بیگ

آج یوں ہوا کہ میں صبح ہی سے نڈھال تھی نیند کا غلبہ آنکھوں پر اس طرح سایہ فگن تھا جیسے پلکوں پر کسی نے سیسہ رکھ دیا ہو سارا دن سر درد کی ٹیسیں کسی ان کہی الجھن کی مانند ذہن میں اُبھرتی ڈوبتی رہیں بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے کالج پہنچی قدم جیسے اپنے بوجھ سے خود ہی شاکی تھے۔۔
مگر وہاں کا ماحول اللہ خیر کرے دیکھتے ہی طبیعت اور بھی مکدّر ہو گئی حالاں کہ اسٹاف روم نہایت ٹھنڈی خاموش اور بظاہر پُرسکون جگہ ہے دیواریں ساکت پنکھے مدھم اور فضا میں ایک مہذب سی سنجیدگی رچی بسی لیکن انہی دیواروں کے درمیان موجود چند چہرے۔۔جانے کیوں مجھے سانپوں سے کم محسوس نہ ہوتے ان کی سرد مہری ان کی خاموش نظریں اور باتوں کی مدھم سرگوشیاں ایسی تھیں جیسے سکوت کے پردے میں کوئی زہر آلود لہر چل رہی ہو وہ ٹھنڈک اور وہ خاموشی میرے لیے سکون نہ رہی بلکہ عذاب بن کر دل و دماغ پر اترنے لگی جیسے جمود بھی کبھی کبھی شور سے زیادہ تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔۔
بہرکیف جیسے تیسے دن کٹ ہی گیا جب کالج سے نکل کر باہر آئی تو یوں محسوس ہوا جیسے کسی بند کمرے سے کھلی ہوا میں قدم رکھا ہو سڑک کے کنارے بس کے انتظار میں بیٹھ گئی سامنے گاڑیوں کا ہجوم تھا بسوں کی آوازیں ہارنوں کا تسلسل لوگوں کی چہل پہل ایک مسلسل شور ایک بے ترتیب ہنگامہ مگر حیرت یہ کہ اسی بے ترتیبی میں مجھے ایک انجانا سا سکون محسوس ہونے لگا۔۔۔ جیسے باہر کا شور میرے اندر کےاضطراب کو اپنے ساتھ بہا لے جا رہا ہو۔۔۔۔
اتنے میں میری بڑی کولیگ آ گئیں قدرے تعجب سے پوچھنے لگیں۔۔ارے نِدا یہاں اس طرح کیوں بیٹھی ہو؟
میں نے دھیرے سے مسکرا کر جواب دیا میڈم کالج کے اندر کے سکون سے زیادہ مجھے اس راستے کا شور اچھا لگ رہا ہے۔۔
وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہیں گویا میرے جملے کے مفہوم کو پرکھ رہی ہوں پھر خاموشی سے میرے پاس آ کر بیٹھ گئیں۔۔۔ ہم دونوں کچھ نہ بولیں سڑک کا شور اپنی پوری شدت سے جاری تھا اور ہم اسی شور کے دامن میں عجیب سی طمانیت سمیٹے بیٹھی تھیں۔۔