اخلاقی و ثقافتی اقدار پر موجودہ فلموں کا حملہ

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا ،ہبلی۔990267208
موجودہ دور میں فلمیں محض تفریح کا ذریعہ نہیں رہیں بلکہ یہ معاشرتی اقدار اور نوجوان نسل کی ذہنی تشکیل میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ بدقسمتی سے آج کی بیشتر فلموں میں وہیات نغمے، ذو معنی مکالمے اور غیر ضروری ننگا پن اس قدر عام ہو چکا ہے کہ یہ چیزیں رفتہ رفتہ ہماری سماجی اور اخلاقی قدروں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ فلمیں جو کبھی اصلاحِ معاشرہ اور مثبت پیغام کی حامل ہوا کرتی تھیں، آج زیادہ تر تجارتی مفاد اور وقتی شہرت کے لیے فحاشی کو بطور ہتھیار استعمال کر رہی ہیں۔ نئی نسل، جو ابھی فکری اور اخلاقی تربیت کے مراحل سے گزر رہی ہے، ان فلموں سے گہرے طور پر متاثر ہو رہی ہے۔ وہیات مناظر اور ذو معنی الفاظ، جا بجا بیہودہ گالیوں کا استعمال وغیرہ نوجوانوں کے ذہن میں غلط تصورات کو جنم دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں حیا، شرم اور خاندانی اقدار جیسی بنیادی خصوصیات کمزور پڑنے لگتی ہیں۔ اس کا اثر نہ صرف ان کے رویّوں پر پڑتا ہے بلکہ ان کی سوچ، گفتگو اور طرزِ زندگی بھی بے راہ روی کا شکار ہو جاتی ہے۔ اس طرح موجودہ فلمیں نئی نسل کو تعمیر کے بجائے تباہی کے دہانے پر لا کھڑا کر رہی ہیں۔
آج سے کوئی پچاس ساٹھ برس پہلے سماجی نوعیت کی متعدد ایسی فلمیں بنتی تھیں جو محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتیں، بلکہ معاشرے کے لیے ایک مضبوط اخلاقی اور اصلاحی پیغام بھی اپنے اندر سموئے ہوتی تھیں۔ یہ فلمیں انسانی اقدار، جذبات، رشتوں کی حرمت اور زندگی کی تلخ و شیریں حقیقتوں کی عکاسی کرتی تھیں۔ جن لوگوں نے کابلی والا، دو بیگھا زمین، پیغام،بھابی، اور گمراہ جیسی فلمیں دیکھی ہوں، وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ محض کہانیاں نہیں تھیں بلکہ انسانی درد، سماج کی اصلاح، احساس اور قربانی کا زندہ عکس تھیں۔ خصوصاً ”فلم کابلی والا” تو باپ اور بیٹی کے پاکیزہ اور بے لوث رشتے کی ایسی دل کو چھو لینے والی تصویر پیش کرتی ہے جو دیکھنے والے کے دل میں دیر تک نقش رہتی ہے۔ یہ فلم عظیم ادیب رابندر ناتھ ٹیگور کی کہانی پر مبنی تھی اور جس کسی نے بھی یہ فلم دیکھی ہوگی، اس کی آنکھیں یقیناً اشکبار ہوئی ہوں گی۔ ایک ایسا باپ جو اپنی معصوم بیٹی کی محبت میں پردیس میں دن کاٹتا ہے، اس کی یاد میں تڑپتا ہے اور ہر اجنبی چہرے میں اپنی بیٹی کی جھلک تلاش کرتا ہے۔یہ منظر انسانی جذبات کی انتہا کو چھو لیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلم بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ یہ تو ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے اپنی بات، اپنا پیغام اور اپنے خیالات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس ذریعہ اظہار کا استعمال اس قدر بے جا، سطحی اور غلط رخ پر ہونے لگا کہ اس کا اصل مقصد پسِ پشت چلا گیا۔ نتیجتاً آج کی بیشتر فلمیں اصلاح کے بجائے محض جذبات کو بھڑکانے اور اخلاقی اقدار کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں، جسے کوئی بھی شریف النفس اور سنجیدہ ذوق رکھنے والا فرد دیکھنا پسند نہیں کرتا۔
سنہ 1972 میں ریلیز ہونے والی فلم ”کوشش” گلزار صاحب کی ہدایت کاری کا ایک نادر اور یادگار شاہکار ہے۔ یہ فلم ایک ایسے گونگے اور بہرے جوڑے کی زندگی کی کہانی بیان کرتی ہے جو شدید غربت اور معاشی تنگی کے باوجود اپنی اولاد کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس فلم کی سب سے بڑی انفرادیت یہ ہے کہ اس میں نہ کوئی روایتی نغمہ ہے، نہ رومانوی مناظر کی بھرمار، نہ دل لبھانے والے مکالمے؛ بلکہ پوری فلم اشاروں کی زبان میں آگے بڑھتی ہے اور خاموشی کے پردے میں انسانی جذبات، احساسات اور قربانیوں کی ایک ایسی دنیا آباد کرتی ہے جو ناظر کے دل میں براہِ راست اتر جاتی ہے۔ درحقیقت یہ فلم سماج کے ان افراد کے لیے ایک بلیغ اور حوصلہ افزا پیغام ہے جو پیدائشی طور پر گونگے اور بہرے ہیں، کہ وہ ہرگز خود کو کمزور، کمتر یا بے بس نہ سمجھیں، بلکہ اعتماد، محنت اور عزم کے ساتھ زندگی کی راہوں میں قدم بڑھائیں۔ مجھے یہ فلم آج سے تقریباً ترپن برس قبل اپنے والدِ محترم کے ساتھ دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا، جو خود بھی پیدائشی گونگے اور بہرے تھے۔ اس فلم نے مجھ پر اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ مجھے اس کے مرکزی کردار میں اپنے والد کی جھلک نظر آنے لگی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے یہ فلم محض کسی کہانی کی عکاسی نہیں بلکہ میرے اپنے گھر کی خاموش مگر باوقار زندگی کا عکس ہے۔ اس تجربے کے بعد میرے دل میں اپنے والد صاحب کے لیے محبت، عقیدت اور احترام کئی گنا بڑھ گیا۔ میں پورے وثوق کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ یہ فلم یقیناً سماج کے اس طبقے پر گہرے اثرات مرتب کرنے والی رہی ہوگی جو پیدائشی طور پر گونگے اور بہرے ہیں۔ اس یقین کی بنیاد یہ ہے کہ میرے والد صاحب نے بھی اس فلم سے نہایت مثبت اور عملی نتیجہ اخذ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ شدید غربت اور معاشی مشکلات کے باوجود، ایک کچے سے مکان میں رہتے ہوئے بھی، انہوں نے اپنے پانچوں بچوں کو اعلیٰ تعلیم سے آراستہ کیا۔ آج میرے دو بھائی ڈاکٹر ہیں اور دو بھائی اپنا کامیاب کاروبار چلا رہے ہیں۔ یہ سب کچھ دراصل میرے والد کی خاموش جدوجہد، قربانی اور بلند حوصلے کا ثمر ہے۔کسی موقع پر مجھے خود گلزار صاحب کو خط لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس خط میں میں نے فلم ’’کوشش‘‘کا خصوصی طور پر ذکر کیا اور یہ بھی لکھا کہ میں نے یہ فلم اپنے والد صاحب کے ساتھ دیکھی تھی۔ ساتھ ہی میں نے ان سے یہ سوال بھی کیا کہ آج کے دور میں، جب سینکڑوں کروڑ کے بجٹ والی فلموں کا راج ہے، کیا کوئی فلم ساز ”کوشش” جیسی سادہ، خاموش اور بامعنی فلم بنانے کی جرات کر سکتا ہے؟ میرے لیے یہ لمحہ نہایت مسرت اور فخر کا باعث تھا کہ گلزار صاحب کو میرا خط بے حد پسند آیا۔ خط موصول ہوتے ہی انہوں نے خود فون کے ذریعے مجھ سے رابطہ قائم کیا اور تقریباً آدھے گھنٹے تک نہایت خوشگوار گفتگو ہوتی رہی۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی دو کتابیں ’’بال و پرسارے‘‘ اور ” A Poem A Day ” بطور تحفہ مجھے ارسال فرمائیں۔ آج تک گلزار صاحب سے میرا فون پر رابطہ قائم ہے، جو میرے لیے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
معاشرے کی اخلاقی بگاڑ میں جہاں فلم سازوں نے اپنا حصہ ادا کیا ہے، وہیں خود سماج بھی اس برائی کو نہ صرف ہاتھوں ہاتھ لیتا رہا ہے بلکہ عملاً اس کی حوصلہ افزائی میں پیش پیش نظر آتا ہے۔ فلمی دنیا کے ایک معروف کہانی کار اور نغمہ نگار سے جب یہ سوال کیا گیا کہ سماج کو‘‘چولی کے پیچھے کیا ہے’’جیسے سطحی اور بازاری نغمے کیوں پیش کیے  جا رہے ہیں اور آخر فلم ساز معاشرے کو کس سمت لے جانا چاہتے ہیں، تو انہوں نے نہایت معنی خیز جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے نغمے کو لکھنے، اس پر موسیقی ترتیب دینے اور اسے فلم بند کرنے میں زیادہ سے زیادہ سو افراد شریک ہوتے ہیں، مگر اسے پسند کرنے، سر آنکھوں پر بٹھانے اور مقبول بنانے والے کروڑوں لوگ ہوتے ہیں، جو دراصل فلم سازوں کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ وہ اسی نوعیت کا مواد مزید پیش کریں۔ مزید برآں انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ جب کسی فلم میں کسی مذہب کے عقائد یا جذبات کو معمولی سی ٹھیس پہنچتی ہے تو نام نہاد مذہبی ٹھیکیدار فوراً سڑکوں پر نکل آتے ہیں، فلموں کی نمائش رکوا دی جاتی ہے اور پوسٹر پھاڑ دیے جاتے ہیں، لیکن جب یہی فلمیں فحش اور بیہودہ مناظر و نغمات سے بھرپور ہوتی ہیں تو لوگ جوق در جوق سینما گھروں کا رخ کرتے ہیں اور معاشرے کے یہ خود ساختہ ٹھیکیدار خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس اخلاقی ابتری میں صرف فلم ساز ہی نہیں بلکہ پورا سماج کسی نہ کسی درجے میں شریکِ جرم ہے، جو شعوری یا لاشعوری طور پر اس برائی کو قبول کرکے اسے فروغ دینے کا ذریعہ بن رہا ہے۔
فلموں کے معیار کو پست کرنے میں جہاں فلم سازوں کا قصور ہے، وہیں عوام کا کردار بھی کسی سے کم نہیں۔ اس ضمن میں ایک نہایت معنی خیز واقعہ قابلِ ذکر ہے۔ جب معروف فلم ساز کمال امروہی کا انتقال ہوا تو بی بی سی کے ایک نمائندے نے ممتاز اداکار راج کمار سےجو کمال امروہی کی شہرآفاق اور ادبی حیثیت رکھنے والی فلم پاکیزہ میں ان کے ساتھ کام کر چکے تھے۔یہ سوال کیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ’’پاکیزہ‘‘جیسی عظیم اور کامیاب فلم بنانے کے بعد ان کی فلم ’’رضیہ سلطان‘‘ بری طرح باکس آفس پر ناکام ثابت ہوئی؟ کیا اس ناکامی کو کمال امروہی کی حیثیتِ ہدایت کار ناکامی سمجھا جائے؟ اس سوال کے جواب میں راج کمار نے نہایت سنجیدگی اور بصیرت کے ساتھ کہا تھا کہ ایک زمانہ تھا جب اردو زبان بولی اور پڑھی جاتی تھی، لوگوں کا اپنا ایک ذوق، مزاج اور جمالیاتی معیار ہوا کرتا تھا، مگر اب صورتِ حال یہ ہے کہ اردو زبان کا رواج کم ہو چکا ہے اور عوامی ذوق بھی نچلی سطح پر آ گیا ہے۔ اس کے برعکس کمال امروہی اپنے مقام اور اپنے فنی معیار پر ثابت قدم رہے۔ انہوں نے اپنے فن میں کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا۔ چنانچہ عوامی سطح پر نہ اترنے اور ذوقِ عام سے ہم آہنگ نہ ہونے کے باعث رضیہ سلطان ناکام قرار پائی، ورنہ فن کے اعتبار سے وہ فلم بھی اپنے مقام پر ایک اعلیٰ درجے کا شاہکار تھی۔
نغمہ نگاروں کا بھی ایک سنہرا عہد تھا جب فلموں کے لیے لکھے گئے گیت محض تفریح کا ذریعہ نہیں ہوتے تھے بلکہ باقاعدہ ادبی مقام و مرتبہ رکھتے تھے۔ اُس دور میں شاعری فلمی پردے تک محدود نہیں رہتی تھی بلکہ دلوں میں اتر کر فکر و احساس کی تربیت کرتی تھی۔ ساحر لدھیانوی جیسے عظیم شاعر کی مثال ہمارے سامنے ہے، جن کا مجموع? کلام ”تلخیاں” آج بھی اردو ادب میں ایک معتبر اور مستند حیثیت رکھتا ہے۔ اسی مجموعے کی مشہور نظم ”کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے” کو فلم ”کبھی کبھی” میں شامل کیا گیا، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اُس زمانے میں فلمی نغمات کس قدر بلند ادبی سطح کے حامل ہوتے تھے۔ اسی طرح ساحر لدھیانوی فلم ”سادھنا” کا لکھا ہوا شہر آفاق نغمہ ”عورت نے جنم دیا مردوں کو،  مردوں نے اُسے بازار دیا” جو اداکارہ وجنتی مالا پر فلمایا گیا تھا، اپنی معنویت اور فکری گہرائی کے اعتبار سے آج بھی زندہ و تابندہ ہے۔ اس نغمے کی ادبی اور سماجی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ تقریباً تین دہائیاں قبل ہندوستان کی معروف دینی و سماجی تنظیم تحریکِ اسلامی نے عورت کی عظمت کے موضوع پر ملک گیر سطح پر ایک ہفتہ منایا تھا، اور اس موقع پر ایک آڈیو کیسٹ جاری کی گئی جس میں عورت کے مقام و مرتبے کو اجاگر کرنے والے منتخب کلام شامل کیے گئے تھے۔ ان منتخب کلام میں ساحر لدھیانوی کا یہی نغمہ بھی شامل تھا، جو اس بات کا مظہر ہے کہ یہ اشعار محض فلمی گیت نہیں بلکہ ایک فکری دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج نہ تو فلموں میں ایسے صاحبِ فکر اور صاحبِ درد لکھنے والے باقی رہے اور نہ ہی ویسے ذوق رکھنے والے ناظرین، جو لفظوں کی تہہ میں چھپے ہوئے معنی اور پیغام کو سمجھ سکیں۔ یہ محض فنی زوال نہیں بلکہ ہمارے اجتماعی فکری شعور کا ایک بہت بڑا اور دردناک المیہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ فلم بذاتِ خود کوئی بری چیز نہیں، بلکہ یہ تو ایک مؤثر ذریعہ ہے جس کے ذریعے اپنی بات، اپنا پیغام اور اپنے خیالات عوام تک پہنچائے جا سکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ اس ذریعہ اظہار کا استعمال اس قدر بے جا، سطحی اور غلط رخ پر ہونے لگا کہ اس کا اصل مقصد پسِ پشت چلا گیا۔ نتیجتاً آج کی بیشتر فلمیں اصلاح کے بجائے محض جذبات کو بھڑکانے اور اخلاقی اقدار کو مجروح کرنے کا ذریعہ بن گئی ہیں، جسے کوئی بھی شریف النفس اور سنجیدہ ذوق رکھنے والا فرد دیکھنا پسند نہیں کرتا۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ فلم ساز حضرات اپنی سماجی ذمہ داری کو محسوس کریں اور ایسی فلمیں تخلیق کریں جو اخلاقی تربیت، مثبت سوچ اور معاشرتی اصلاح کا ذریعہ بن سکیں، تاکہ تفریح کے ساتھ ساتھ نسل نو کی درست رہنمائی بھی ہو سکے۔
جدید ٹیکنالوجی نے جہاں انسان کی زندگی کو سہولت، سرعت اور وسعت عطا کی ہے، وہیں اس نے فحش فلموں اور بے ہودہ مواد کے لیے بھی دروازے پوری طرح کھول دیے ہیں۔سینماگھروں میں دکھائی جانے والی فلموں پر کم از کم سینسر بورڈ  ادارہ موجود ہے جو فلموں پر کسی نہ کسی حد تک اخلاقی نگرانی رکھا کرتا ہے  (گو کہ یہ اِدارہ بھی اپنے قدر ومنزلت کھو چکا ہے) اور یوں سماج کو مکمل بے راہ روی سے بچانے کی ایک کمزور  سی دیوار ضرور قائم ہے، مگر آج او ٹی ٹی پلیٹ فارمز اور ویب سیریز کے نام پر جو کچھ پیش کیا جا رہا ہے، وہ اکثر نہ کسی ضابطے کا پابند ہے اور نہ ہی کسی اخلاقی حد کا لحاظ رکھتا ہے۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس بے لگام فحاشی کو کون قابو میں رکھے گا؟ کون ہے جو اس سیلاب کے آگے بند باندھے گا جو خاموشی کے ساتھ ہمارے گھروں میں داخل ہو چکا ہے؟ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ موبائل فون اور انٹرنیٹ کی آسان دستیابی نے نو عمر بچوں اور نوجوانوں کو ایک ایسی دلدل میں دھکیل دیا ہے جہاں سے نکلنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ ایسے نازک اور خطرناک ماحول میں اصل ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ صرف اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت ہی نہیں بلکہ ان کی ڈیجیٹل زندگی پر بھی گہری نظر رکھیں۔ یہ دیکھیں کہ ان کے بچے کن مناظر کو دیکھ رہے ہیں، کن خیالات سے متاثر ہو رہے ہیں اور کن راستوں پر قدم رکھ رہے ہیں۔ اگر آج والدین نے بروقت توجہ نہ دی تو یہی بے توجہی کل ایک ایسے اخلاقی زوال میں بدل سکتی ہے جس کا خمیازہ صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا معاشرہ بھگتے گا۔
یہی وقت ہے کہ نوجوان نسل خوابِ غفلت سے بیدار ہو کر اپنی فکری و اخلاقی طاقت کا احساس کرے، کیونکہ تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تقدیر ہمیشہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ اگر آج کے نوجوان عزم و استقلال کے ساتھ موجودہ فلموں کے منفی اور گمراہ کن رجحانات کے آگے بند باندھ دیں، تو نہ صرف وہ اپنی ذات کو اخلاقی زوال سے بچا سکتے ہیں بلکہ پورے معاشرے کو ایک نئی سمت بھی عطا کر سکتے ہیں۔ انہیں یہ واضح پیغام دینا ہوگا کہ اب مزید بے راہ روی، فحاشی اور سطحی تفریح کو قبول نہیں کیا جائے گا، بلکہ ہم ایسی تخلیقات کے خواہاں ہیں جو دل کو روشن کریں، ذہن کو بیدار کریں اور کردار کو سنواریں۔ یقیناً جب فلم سازوں کی آمدنی گھٹے گی اور بازارِ لہو و ہوس کی چمک ماند پڑنے لگے گی تو بقول شاعر ’’دیا رنج بتوں نے تو خدا یاد آیا‘‘ کے مصداق وہ بھی اپنے طرزِ فکر پر نظرِ ثانی کرنے پر مجبور ہوں گے، اور یوں ایک دن یہی صنعتِ فلم دوبارہ سماجی اقدار، انسانی ہمدردی اور اخلاقی شعور کی ترجمان بن کر معاشرے کے لیے اصلاح و فلاح کا ذریعہ بن جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے