اس بات سے کسی کو انکار نہیں کہ آج ساری دنیا ایک عجیب بیماری سے جوجھ رہی ہے جسے کورونا یا کوویڈ- 19 کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ وبا جو ایک چھوٹے سے ننگی آنکھوں سے نظر نہ آنے والے حیاتیاتی وجود یا وائرس سے پھیلتی ہے اور آج اس نے ساری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس وبا سے بچنے کی تمام تر تراکیب میں سب سے زیادہ زور لاک ڈون پر دیا گیا اور اس لاک ڈون نے انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو بری طرح متاثر کیا اور معاش کے بعد سب سے زیادہ جو شعبہ اس سے متاثر ہوا وہ ہے تعلیم کا ،لہذا اسی موضوع پر اپنی تحقیق کو پیش کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش کی ہے۔
بحران کا آغاز:۔کورونا وائرس کی بیماری جسے کوویڈ- 19 کہا جاتا ہے ہندوستان میں 30 جنوری 2020 کو پہلی بار ریاست کیرالہ میں پایا گیا، اور ریاست کرناٹک میں 8 مارچ 2020 میں پہلا معاملہ منظرعام ہوا۔بھارت اس وقت دنیا بھر کے تمام تصدیق شدہ کو وہ معاملات میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اور براعظم ایشیا میں پہلی پوزیشن پر ہے۔کورونا وائرس کی وبا کی وجہ سے تمام ملک میں 25 مارچ 2020 اور کیرالا میں اس سے دو دن پہلے یعنی 23 مارچ 2020 کو مرکزی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا جو آج تک کسی نہ کسی طریقے سے جاری ہے ۔
لاک ڈائون ہدایات کا اثر:۔حکومت ہند نے لاک ڈاؤن نافذ کے سلسلے میں ہدایات کی فہرست جاری کی جس کو سارے ملک میں لاگو کرنا لازمی تھا،اس فہرست کی ایک ہدایتی یہ بھی تھی کہ تمام تعلیمی اداروں کو بند کیا جائے۔!جس کی وجہ سے تقریبا ڈیڑ ملین (15 لاکھ) اسکول بند ہو گئے اور دینی تعلیمی ادارے بھی سارے بند ہویئے مگر ان کا کوئی اعدادوشمار دستیاب نہیں ہے۔
کوویڈ-19 وبا کے ایک سال بعد:۔کوویڈ- 19 وبا کے ایک سال بعد بھی دنیا کی نصف یعنی آدھے کے قریب طلبا جزوی یا مکمل طور پرتعلیمی اداروں نہ کھلنے سے متاثر ہیں، ان حالات کے نتیجے میں سو ملین (100 کروڑ)سے زائد اضافی بچے پڑھنے کی کم سے کم مہارت کی سطح سے نیچے آنے کا سخت اندیشہ ہو گیا ہے۔عالمی ادارہ یونیسکو کے انسٹیٹیوٹ برائے شماریات کے 30 جون 2019 کے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں اسکولی بچوں کا اندراج 29،48،93،120رہا جبکہ اسکولی داخلہ لینے کی عمر کی آبادی 36،88،16،440رہی اور اساتذہ کی تعداد 1،18،60،191 ہے۔
یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل کی بات:۔ یونیسکو کے ڈائریکٹر جنرل آڈری آزولے کا ماننا ہے کہ تعلیمی اداروں کی طویل اور بار بار بندش طلبہ پر بڑھتی ہوئی نفسیاتی اور سماجی نقصان بڑھا رہی ہے۔سیکھنے کے ذرائع کے نقصانات کا اضافہ ہو رہا ہے۔ اور ڈراپ آؤٹ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔جس سے کمزور طبقہ کے افراد غیر متناسب طور پر متاثر ہو رہے ہیں۔لہذا مکمل اسکولوں کی بندش ایک آخری حربہ ہونا چاہیے۔ اور انہیں محفوظ طریقے سے دوبارہ کھولنا اولین ترجیح ہونی چاہئے۔
یونیسکو کےاعدادوشمار اور حکومت:۔ یونیسکو کےاعدادوشمارکے مطابق ہندوستان میں 30 جون 2019 تک اسکول پورے پچیس ہفتے مکمل بند رہے اور 40 ہفتے جزوی طور پر کھلے رہے۔ اس کے سدباب کے طور پر حکومت سے آن لائن چینلیں، آئی۔سی۔ ٹی (انفرمیشن و کمیونیکشن ٹیکنالوجی)، ڈیجیٹل کتب خانہ اور ٹی وی چینلوں کے ذریعے کوشش ہوئی، مگر ڈیجیٹل ڈویڈ(جس سے مراد ڈیجیٹل اور انفرمیشن ٹیکنالوجی تک باقاعدہ، موثر رسائی رکھنے والوں اور اس رسائی سے محروم افراد کے درمیان فرق ہے) ۔اس ڈیجیٹل تقسیم کے وجہ سے اس کے خاطر خواہ اثر دیکھنے کو نہیں مل رہا ہے۔
اسکولوں کی کوشش:۔ایک طرف تھوڑے بہت اسکولوں نے جہاں آن لائن کلاسوں کی شروعات کی تو بہت سارے اسکول ہر طرح سے بند رہے۔ آن لائن کلاس کے لیے انٹرنیٹ کی ضرورت تو لازمی ہے مگر اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہندوستان بھر میں صرف دو ہی ریاستی کیرالہ اور ہریانہ ایسی ہیں جہاں چالیس فیصد دیہی گھرانوں میں انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہیں۔ اور دوسری ریاستوں میں تقریباً دس فیصدسے بیس فیصد تک ہی دیہی گھرانوں میں انٹرنیٹ کی پہنچ ہے۔اور شہروںمیں موبائل نیٹ ورک کے معیار کا مسئلہ مسلسل بنا ہوا ہے۔
اعلی تعلیمی نظام:۔ہندوستان کے پاس حکومتی طور پر قائم شدہ اعلی تعلیم کا نظام امریکہ اور چین کے بعد تیسرا بڑا نظام ہے تعلیم پر ملک گیر سروے(All India Survey of Higher Education AISHE-2020) کے مطابق اس وقت ملک میں 1,043 یونیورسٹیاں 43343 کالج اور11779 انفرادی ادارے ہیں ،جن میں 1019 یونیورسٹیاں 39955 کالج ہیں، 396 یونیورسٹیاں نجی ہیں اور 420 یونیورسٹیاں دیہی علاقوں میں قا ئم ہیں، 17 یونیورسٹیاں صرف عورتوں کے لیے مخصوص ہیں، 522 جنرل 177 ٹکنیکل 63 زراعت سے وابستہ ہیں، 66 میڈیکل 23 قانون 12 سنسکرت اور 2 اردو او ر9 دوسری زبانی یونیورسٹیاں اور باقی 145 یونیورسٹیاں دیگر زمروں کے ہیں۔ کالجوں کی شمار بتاتے ہیں کہ شہربنگلور میں 1009 کالج ہیں جو ملک بھرمیں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ دوسرے نمبر پر جے پور جہاں 606 کالج ہیں۔60.56 فیصدکالج تو دیہی علاقوں میں قائم ہیں۔ 78 فیصدکالج نجی ہیں، ان میں 65 فیصد سرکاری امداد سے باہر ہیں، اور 13فیصد سرکاری امداد حاصل کرتے ہیں۔ اعلی تعلیم میں کل اندراج 38.5ملین ہونے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔ ان میں19ملین لڑکوں اور 18 ملین خواتین ہیں۔18 تا23سال کی عمر کے گروپ کا ہندوستان میں اعلی تعلیم میں مجموعی اندراج کا تناسب 27 فیصد ہے۔تقریباً 79 فیصدطلبہ انڈر گریجویٹ لیول پروگرام میں داخل ہیں۔ BA میں سب سے زیادہ طلباء ہیں۔ اس کے بعد بی ایس سی اور بی کام کا نمبر آتاہے ۔ انڈرگریجویٹ سطح پر سب سے زیادہ تعداد 32.7 فیصد آرٹس، ہومینیٹز، سوشل سائنس میں داخل ہیں۔ جس کے بعد سائنس 16 فیصد کامرس 14.9 فیصد اور انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی 12.6فیصد پر ہیں۔ 5.5 فیصد طلبہ مسلم اقلیت سے تعلق رکھتے ہیں ۔پوسٹ گریجویٹ سطح پرایم اے میں زیادہ تعداد ہے۔ اس کے بعد ایم ایس سی اور ایم بی اے ہے۔آرٹس میں ہی سب سے زیادہ 20.7 لاکھ طلبہ نے تعلیم حاصل کی ہے۔
کویڈ-19 سے پیدا شدہ مختلف صورت حال کا جائزہ،سرپرستوں کی صورت حال :۔بہت سے گھرانوں کی آمدنی کا ذریعہ تو روز کی کمائی سے ہوتا تھا، ان کے بعد ان کے پاس کمانے کا کوئ ذریعہ نہ رہا، جس سے بہت سارے لوگوں کو غربت کی سطح پر پہنچا دیا ۔ اس طرح سرپرستوں کے پاس نہ تو پیسہ تھا کہ وہ بچوں کو اسکول بھیج سکیں نہ یہ خیال آیا کہ پڑھائی کیسے ہو ؟ جس کے نتیجے میں بچوں کو بھی گھر کی مالی حالت سدھارنے کیلئے استعمال کرنے لگے، اس کی وجہ سے ان بچوں کا مستقبل بھی مشکوک بن سا گیا ہے۔ اور یہ حالات سماج کو ایک طویل مدتی مسئلہ کی طرف پہنچا رہے ہیں۔این۔ ایس۔ ایس۔ وہ۔ 2014 (National Sample Survey Office)رپورٹکے مطابق گھرانوں کی کمائی کا بیس فیصد حصہ تعلیم پر خرچ ہوتا ہے ، یہی وجہ ہےکہ حکومت نے اسکول فیس نہ بڑھانے کا حکم نامہ جاری کیا ۔ جس کے نتیجے میں بہت سارے سرپرست اپنے بچوں کی اسکول فیس بھر نہیں پایئے۔ایسے ہی بڑے بچوں کے اسکولوں کا حال رہا جہاں فیس بھرنا سرپرستوں کے لیے ہمالیہ عبور کرنا جیسا تھا۔
اساتذہ کی صورت حال:۔جہاں بہت سارے سرپرست اپنے بچوں کی اسکول فیس دینے سے قاصر رہے تو دوسری طرف اسکول انتظامیہ کو اساتذہ کی تنخواہ دینے میں دشواری ہو رہی ہے، اس سے حاصل یہ ہوا کہ بہت سارے اساتذہ کو اپنے محبوب پیشے سے ہٹا دیا گیا۔ اور وہ معمولی سے دستی کام کاج کر کے اپنی روزی کمانے پر مجبور ہو گئے۔تاہم ایک مثبت ( پازیٹیو)بات یہ ہو ئی کہ اس وبا نے محرک ( Trigger) کا کام کیا اور بہت سے اساتذہ کو نسبتا کم وقت میں اختراعی حل ( Innovative Solutions) وضع کرنے پر زورپڑھا، سیکھنے کا مواد انٹرایکٹیو ایپس، غیر ہم آہنگ ( Non-interactive) لرننگ ٹولس جیسے گوگل کلاس روم ، ٹیچ منٹ وغیرہ ،یا ہم آہنگ(Interactive ) آمنے سامنے ویڈیو ہدایات کا استعمال کے ٹولس جیسےزوم گوگل میٹ وغیرہ کا استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔
اسکولوں اور کالجوں کی صورت حال:۔ کوویڈ 19کو عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ۔ایچ ۔او ۔نے وبائی مرض قرار دیا، اور پوری دنیا میں خوف کا احساس پیدا ہوگیا، جب ہندوستان میں کوویڈ 19 کا پہلا معاملہ سامنے آیا تھا تو ریاستی حکومتیں مرکزی ہدایات کےمطابق بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئےتمام ممکنہ احتیاطی اقدامات اٹھائیں، اور ان میں تعلیمی ادارے بند کرنا، ہاسٹل خالی کرنا ،امتحانات ملتوی کرنا ،جلسوں میں تقاریب کی بندش وغیرہ شامل رہیں ،کورونا وائرس نے ہندوستان کے تعلیمی نظام کے ایک بڑے حصے کو توڑ کر رکھ دیا، آف لائن کلاس سے آن لائن کلاس میں تبدیل کرنا کلاس نوٹس کو پی ڈی ایف میں ویڈیو لیکچرز اور ای کتابوں کے مجموعے مہیا کرنے سے زیادہ ہے۔کالج تو آن لائن اور آف لائن صورتحال کے مطابق جاری تو رہے مگر وہاں پر بھی ڈیجیٹل ڈویڈ حاوی رہا جس کے باعث تھوڑے امتحانات ہوئے اور تھوڑے منسوخ ہوگئے ۔ ڈیجیٹل شد لرننگ مواد کو سیاق و سباق اور بائٹ سائز بنانا ہوتا ہے، تاکہ اسے کرارہ دلکش اور قابل فہم بنایا جاسکے ،تعلیمی تبادلوں اورفیلڈ ٹرپس کا حالانکہ کوئی متبادل نہیں ہے۔ملک میں سکینڈری اسکول اپنے معیار میں ایک دوسرے سے بڑے پیمانے پر مختلف ہیں جس کی وجہ سےوبا نے بچوں تک مواقع کی رسائی میں گہرا فرق ظاہر ہوا، لاک ڈاؤن کے دوران صرف مٹھی بھر سرکاری و نجی ا سکول ہی آن لائن تدریس کے طریقے اپنا سکے۔ اور بچوں کو یہ سارا دن مشغول ومصروف رکھنے میں کامیاب ہوسکے،اس وبائی مرض نےہندو ستان کے یونیورسٹی سسٹم کی خامیوں کو بے نقاب کیا ،متعدد اداروں میں ای ٹیچنگ یا ای لرننگ کی سہولیات نہیں تھی، اور زیادہ تر پروفیسر ان ٹیچنگ طریقوں سے اچھی طرح واقف نہیں تھے۔جہاںآن لائن وسائل کی دستیابی تھی اس کے باوجود سماجی نظام میں عدم مساوات کی وجہ سے علم کی منتقلی موثر نہیں رہی۔ر یا ستی یا نجی کالجوں یا یونیورسٹیوں میں طلبہ کی ایک بڑی اکثریت ناقص معیار ،اہل حوصلہ ا فزافیکلٹی کی کمی یا پسماندہ طبقوں سے آنے کی وجہ سے مسلسل انٹرنیٹ کنکشن کے متحمل نہیں تھے ۔بورڈاور یونیورسٹیوں کے حتمی امتحانات اور داخلی امتحانات ملتوی ہونے کی وجہ سے اداروں کیلئے داخلہ کا سارا عمل مکمل کرنا ایک بڑا کام بن گیا ہے۔
لاک ڈاؤن نے بہت سارے آمدنی کے ذرائع بند کر دیے جس سے وہ لوگ جن کی کمائی گھر سے کام (ورک فرم ہوم)سے نہیں ہوسکتی تھی بری طرح معاشی طور پر بدحال ہو گئے۔ کیونکہ نظام تعلیم بھی مالی تعاون کے بنا نہیں چل سکتا، وہ بھی اسی طرح متاثر ہو گیا، طالب علم بس گھر میں قید ہو گئے، اور ان کے لیے تعلیم و رہنمائی کے دروازے ایک دم سے بند ہوگئے، جس کا اثر ان کی سیکھنے کے معیار پر بھی ہوا ، حالانکہ حکومت نے آن لائن تعلیم کی حوصلہ افزائی کرتی رہی، مگر اس کی طالب علموں تک رسائی پچاس فیصد سے بھی کم رہی ، تھیوری کے مضامین تو آن لائن میں پڑھانا تو ممکن تھا، مگر عملی مضامین کو آن لائن میں سکھانا لگ بھگ ناممکن تھا اس کے نتیجے میں طلبا عملی مہارت حاصل کرنےسے قاصر رہے۔حالانکہ وہی ان کو روزگار کے میدان کی اہم ضرورت تھی، جب اعلی تعلیمی اداروں پر نظر ڈالیں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تمام ادارے آن لائن تعلیم کو جاری رکھا مگر وہاں بھی ڈیجیٹل ڈویڈ اور معاشی عدم توازن کے ہونے سے تمام طلبا کو اس نئے ذریعہ سے فائدہ امید کے مطابق نہیں ہوا ۔
انجینئرنگ، میڈیکل،اور دیگر پیشہ وارانہ اداروں کو معیاری تعلیم دینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ،جس کا اثر یہ ہوا کہ یونیورسٹیوں نے ایک ایک سمسٹر کے امتحانات کو منسوخ کردیا، ایک طریقے سے جہاں اسکولوں میں امتحانات منعقد نہیں ہوئے تو دوسری طرف بنا پڑھائی کے ہی تمام طلباء کو اگلی کلاس میں ترقی دے دی گئی۔ بچوں کو اپنی کلاس کے اسباق کو سیکھے بغیر آگے کردیا گیا، جس سے ان کے معیار تعلیم پر خاطر خواہ اثر پڑا، اور ان کی سیکھ نے کی مہارت بھی کم ہوئی۔ دوسری طرف فارغ ہوئے گریجویٹس کیلئےروزگار کے مواقع تنگ ہوگئے اور آمدنی کے ذرائع بالکل ہی محدود ہو گئے ۔
اس بے مثال لاک ڈاون کی وجہ سے تحقیقی تجربات میں رکاوٹ اور بیجا مواد کی غیر نگرانی کی وجہ سے تباہی نے محققین کےتحقیقی نتائج کو بھی پٹری سے اتار دیا۔بڑے پیمانے پر ای -وسائل کا محدود استعمال ،کورس کے مواد کی غیر موثر ترسیل اور امتحانات میں روانی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک اس بحران کے دوران دوسرے ابھرتے ہوئے ممالک سے مطابقت نہیں رکھتا۔
بدقسمتی سےتکنیک پر مبنی تعلیم زیادہ سیدھی ہوتی ہے، اور انفرادی طور پر طلبہ کی مدد نہیں کر سکتی۔ بہت سے فارغ طلبا نوکری کے انٹرویو کی تلاش میں ہیں، اور اپنے اسناد اور مارک شیٹ کے انتظار میں ہیں۔
اعلی تعلیم کے شعبے پر وبائی امراض کا سنگین اثرکسی ملک کے معاشی مستقبل کاحقیقی فیصلہ کرے گا کیونکہ لاکھوں پہلے ہی سےروزانہ کی کمائی خوراک اور رہائش سے محروم ہوچکے ہیں۔
دینی درسگاہوں کی صورت حال:۔اگر عصری تعلیم کا حال جسےبہت ساری جگہوں سے معاونت تھی یہ تھا تو دوسری طرف ہمارے دینی درسگاہ بھی کورونا وبا کے اثرات سے محفوظ نہیں رہے۔ اسکولی بچوں کیلئے قائم دینی مکاتب تقریبا بند ہو چکے ہیں۔ جس سے بچوں کی بنیادی تعلیم دینی تعلیم پر بری طرح اثر پڑا اور ساتھ ہی اخلاقی تعلیم اور اقدار کو سیکھنے سکھانے کے مواقع تنگ ہوتے چلے گئے ۔
اگر خالص دینی مدارس (یا دار العلوم) پر نظر ڈالیں تو یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ یہ بھی اس بحران سے بہت زیادہ متاثر ہوئے ہیں ۔ کچھ مدارس بند رہنے کے باوجود بڑے طالب علموں کے لئے آن لائن کے ذریعے تعلیمات کو جاری رکھا مگر یہاں بھی ڈیجیٹل ڈویڈ اور معاشی اسباب کی وجہ سے حاضری کم ہی رہی، مدارس میں نئے داخلے تو بالکل ہی نہیں تھے اور پرانے طلبااپنے گھروں کی مالی حالت کے پیش نظر چھوٹے موٹے کاموں میں لگ گئے اور اپنی دینی تعلیم کو خیر آباد کہہ دیا تو کچھ تو پھر سے راہ سے بھٹک گئے اور پرانی روش پر آگئے۔مدارس کی آمدنی کا واحد ذریعہ عوامی چندہ تھا جو حالات کے نذر ہوگیا بیماری و بے روزگاری اور معاشی تنگدستی کا شکار رشتہ دار، ووست و احباب کی لازمی امداد کی وجہ سے مدارس کی تقریبا 70 فیصد تک کی آمدنی کم ہو گئی جس کے نتیجے میں بہت سے اساتذہ کو اپنے پسندیدہ درس و تدریس کے اہم کام سے دستبردار ہونا پڑا۔
پریشانیوں نے اساتذہ کے دروازں پر قدم جما دیا، اور انکی ایمانی قوت کی آزمائش دور آگیا، ان میں سے کچھ ذریعہ معاش بدل کر حالات کا مقابلہ کرنے پر مجبور ہوئے تو بہت سارے جو سالوں سے درس و تدریس میں ہی تھے مشکل حالات سے نبرد آزما ہونے لگے۔
تعلیم نسوان پر یہ بات سامنے آئی کہ تمام مدارس کا کل ایک فیصد ہی طالبات کے لیے نظام موجود تھا جو اب مکمل طور پر بندش کا شکار ہو گیا، جس سے ہماری نسلوں کو تعمیر کرنے والے خواتین کو بنانے میں بہت ہی کاری ضرب لگی ہے، اور تو اورنہ تواان مدارس کی آمدنی کے ذرائع پہلے سے تھے اور نہ ان کی کوئی ٹھوس فکر سامنے آئی ۔
نتیجہ:۔تعلیمی درسگاہوں اور اداروں کی بندش سے طالب علموں کی صحت ،تعلیم ،اور ترقی ،خاندانی آمدنی، اور مجموعی معیشت پر واضح منفی اثرات مرتب ہوئے ،جس کے شاہد گواہ ہم سب ہیں۔اس بحران کا المیہ و افسوسناک پہلو یہ تھا کہ تدریس و تعلیم کو ضروری خدمت نہیں سمجھا گیا، جس سے حکومت کی جانب سے مناسب مالی اور تکنیکی وسائل کو وقف نہیں کیا گیا ، بحران کے دوران سب کے لئے مفت معیاری عوامی تعلیم کے حق کو یقینی بنانے کے لئے بہت ہی کم مقدار میں اقدامات ہوئے۔اساتذہ، اسکولوں اور اسکولی نظام پر دباؤ کم ہونے کے بجائے بڑھتا گیا، جو اسکول کھلے رہے ان کو بھی خاطرخواہ (اضافی) امداد نہیں ملی ۔معاشی سست روی کی وجہ سے روزگار کا خسارہ نجی شعبے میں تنخواہ کی ادائیگی کی صلاحیت کو بھی متاثر کر سکتا ہے ،جو کہ ملک میں طلبا کے ایک بڑے حصے کو روزگارمہیا کرتا ہے ،سکڑتی ہوئی ملازمتیں آنے والے دنوں میں کساد بازاری کے امکان کی طرف اشارہ کرتی ہے، تعلیمی تفاوت ،سماجی اور معاشی تفاوت کا سبب بن سکتا ہے، اس طرح ہونے والوں اور نہ ہونے والوں کے مابین تفریق پیدا ہوتی ہے۔
اس وباسے پیدا شدہ بحران نے شدید طور پر دونوں دینی اور عصری تعلیمی نظام پر بری طرح سےمتاثر کر دیا ہے ، عصری تعلیمی نظام کے مسائل کوکسی نہ کسی طرح حکومت نمٹنے اور حل کے طریقے تلاش کر ہی لیگی مگر دینی تعلیم اور دینی تعلیمی ادارے جس طرح کے بحران سے دو چار ہیں اس کا حل تلاش کرنا لازمی بن گیا ہے۔
اس بحران نے مستقبل کے بارے میں بہت زیادہ خدشہ بھی پیدا کیا ہے اور یہ واضح نہیں ہے کہ اسے معمول پر آنے میں کتنا وقت لگے گا۔ اب ماہرین تعلیم پر ذمہ داری ہے کہ وہ کیسے اس کا حل نکالتے ہیں اور حکومتوں کو اس سے آگاہ کرتے ہیں۔ علماء ، دانشمند اور مخیر حضرات پر ایمانی وانسانی اقدار کی بقا کیلئے دینی تعلیم اور دینی تعلیمی اداروں کے بحران کا موثر سدباب کرنا ناگزیر ہوگیا ۔
آن لائن موڈ سے تعلیم لاک ڈاؤن کے بعد بھی مزید جاری رکھا جا سکتا ہے ،کیونکہ حکومت کی نئی تعلیمی پالیسی- 2020 اس بات کو لازم قرار دیتی ہے، اور اس سے یہ امید کی جارہی ہے کہ یہ ایک مرحلے پرپہنچے گا جب بہترین اساتذہ دنیا بھر کے طلبا کو دستیاب ہونگے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ اس بحران سے واحد چاندی کی لکیر ہوگی۔
از:۔شیخ احمد اللہ اجمل
لکچرر، صدر شعبۂ انجینیرنگ سرکاری پالیٹکنک سورب ،مقیم شیموگہ۔
لکچرر، صدر شعبۂ انجینیرنگ سرکاری پالیٹکنک سورب ،مقیم شیموگہ۔

