داونگیرے:۔ملت تعلیمی ادارہ جات کے بانی و سکریٹری سید سیف اللہ نے سید محمد ولی رحمانی کے کے سانحہ ارتحال کو عالم اسلام کیلئے ایک عظیم نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ ولی رحمانی کی شخصیت میں کی صفات یکجا ہو گئی تھیں۔ ان کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع و عریض تھا ان کی موت سے زندگی کے مختلف شعبہ جات میں افسوس کی لہر دوڑ گئی ہے ۔مرحوم کو علم و ہنر اور تدبر ورثے میں ملا تھا ۔ وہ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک محرک وفعال قسط دان تھے ان کے اندر جرأت وبے باکی اور قوت فیصلہ کی کثرت تھی ۔ وہ ایک اسلامی اسکالر اور ماہر تعلیم تھے ۔ معتدل و متوازن شخص اور کشادہ نظر تھے مجھے اور ہزاروں تشنگان حق کے لیے چشمہ فیض تھے۔ ان خیالات کا اظہار ملت تعلیمی ادارہ داونگرے میں مولانا ولی رحمانی کے تعزیتی اجلاس میں میں کیا ۔انہوں نے مزید کہا کہ مولانا خانقاہ رحمانی کے سجادہ نشین، امیر شریعت بہار جھارکھنڈ ، اڈیسہ،آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری تھے ۔ وہ بہار اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر بھی رہے ۔ خانقاہ کی سجادہ نشینی کے بعد انہوں نے سیاست سے سبکدوشی حاصل کرلی لیکن قوم کی فلاح و بہبودی اور نسل نو کے روشن مستقبل کی خاطر عصری تعلیم کے لیے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ مولانا رحمانی کی رحلت بہت عظیم سانحہ ہے ۔اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے ۔ اس موقع پر الحاج سید علی ، ڈاکٹر داؤد محسن ذوالقرنین باشاہ ذاکر حسین کلپا، شکیل احمد طاہر کے علاوہ ملت ادارے کے تمام اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف موجود رہے دعا کے ساتھ محفل اختتام پزیر ہوئی۔
