فلسطین کیلئے ہم کیوں خاموش ہیں:تنویر ہاشمی

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر
بنگلورو:۔چند دنوں قبل اچانک اسرائیل پر حملہ ہوا جس سے عالم یہود لرزہ براندام ہوگیا۔ اسرائیل کی جانب سے جوابی کاروائی کی گئی جس کی وجہ سے غزہ و فلسطین میں ہر طرح کا نقصان ہوا۔ ادھر یہود و غیر مسلم مارے گئے ادھر اہل ایمان کی شہادتیں ہوئیں ۔نقصان جانبین میں کم و زیادہ کے فرق کا ہوا اور ہنوزجاری ہے۔ مسلسل جنگ کی وجہ سے دونوں ممالک میں بھیانک تباہی ہورہی ہے۔ اسرائیلی ظلم و بربریت کا اہل فلسطین شکار ہورہے ہیں ،عورتیں بچے نوجوان بوڑھے جان بحق ہورہے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ کہ ان مظلوموں کے لئے پانی کی سپلائی روک دی گئی ہے اور بجلی بھی منقطع ہے۔مظالم کی انتہا یہ کہ رہائشی علاقوں سمیت ہسپتالوں پر بم ڈالے جارہے ہیں ۔جماعتِ اہلِ سنت کرناٹکا کے صدر مولانا تنویر ھاشمی نے اپنے ایک ضروری بیان میں مزید فرمایا کہ ماضی قریب میں انسانیت سوزاور حیوانیت کا شیطانی کھیل چشمِ فلک نے اس سے قبل نہ دیکھا ہوگا۔ یقینا یہ ظلم کی انتہا ہو گئی کہ اب ان کے گھروں اور ان کی زمین سے انہی کو بے دخل کر نے کی بھی تیاری کی جارہی ہے ، ان پر دہشت گردی کا الزام بھی لگا یا جا رہا ہے۔ امریکہ یورپ فرانس وغیرہ اسرائیل کی حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ نام نہاد اسلامی ممالک سوائے چند کے سکوت اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ہونا یہ چاہئے تھا کہ پوری دنیا 75؍ سالوں سے ہونے والے اسرائیلی ظلم و بربریت کی مخالفت اور فلسطین کی حمایت کے لئے کمر بستہ ہوتی مگر افسوس ایسا نہیں ہواہے۔اپنے بیان کو جاری رکھتے ہوئے مولاناتنویر ھاشمی نے مزیدفرمایا کہ اہل فلسطین کو عرصۂ درازسے ہر طرح کی پریشانیاں لاحق ہیں ۔قبلہ اول کی آزادی کے لئے جدوجہد، مالی بحران، مسلسل جنگ، اسرائیلی جارحیت اور عر صۂ دراز سے وسائل کی کمی نے فلسطین کو ظاہرا کمزور کر دیا ہے مگر الحمد للہ ان کا ایمانِ کامل ، ان کا جذبۂ ایثار لائق تحسین ہے اور ان کی استقامت قابلِ تقلید ہے۔ وسائل کی کمی کے باوجود اہل فلسطین اسرائیل کا مقابلہ کر رہے ہیں ۔ دنیا سوال کر رہی ہے کہ حماس نے کیوں حملہ کیا ؟ سوال یہ ہونا چاہئے تھا کہ سالوں سے اسرائیل نے فلسطین کے معصوم بچوں اور بے قصور مسلمانوں کے قتل کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ان کی زمین پر ناجائز قبضہ بھی کرلیا ہے، ایسے ظالم ودہشت گردنام نہاد ملک کو پوری دنیا متحدہوکر دندان شکن جواب دینا چاہئے تھا۔ غیر جانبداری سے دیکھا جا ئے تو آج دنیا کو فلسطین کی حمایت میں متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہئے تھا مگرافسوس ایسا نہیں ہوا۔آپ نے مزیدفرمایا کہ کفر ملتِ واحدہ ہے یہ حق ہے مگر خیر امت اور مسلم ممالک کی خموشی اسرائیل کے ظلم و بربریت سے زیادہ تکلیف دہ ہے ۔ساٹھ سے زائد مسلم ممالک میں سوائے چند کے سب کی بے حسی و بے بسی قابل افسوس ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کی داداگیری اوریہودی دہشت گردی کے آگے نام نہاد اسلامی ممالک بے بس نظر آرہے ہیں۔اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے مولانا تنویر ھاشمی نے فرمایا کہ ہندی مسلمان اکابر علما کی سرپرستی میں مصروف دعا ہیں۔ کہیں حکمت، کہیں مصلحت، کہیں تحفظات، کہیں خوف دامن گیر ہے ۔ دعا میں یقینا بڑی طاقت ہے مگر ہمیں بدر ، احد، خیبر و خندق اور صحابہ و اہل بیت اور مجاہدین اسلام کی قربانیوں اور شہادتوں کو نہیں بھولنا چاہئے ۔ حالات بتارہے ہیں کہ ہم جینے کے لئے زندہ ہیں اور اہل فلسطین شہادت کے لئے زندہ ہیں ۔ حضرت امام زین العابدین نے فرمایا تھا کہ کر بلا میں یزیدیوں کے ظلم نے اتنی تکلیف نہیں پہنچائی جتنی تکلیف اہل کوفہ کی خموشی نے پہنچائی تھی۔ آج ملتِ اسلامیہ اور عالم اسلام کا یہی حال ہے، پھر تو ظالم حکمران ہم پر مسلط ہوںگے ہی۔نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن تنویر ھاشمی نے کہا کہ ہمیں اپنی نیتوں میں اخلاص اور صفوں میں اتحاد پیدا کر نا چاہیے۔ ایسا کوئی اقدام نہیں کرنا چاہیے جو ہمارے ملک کے قوانین کے خلاف ہو۔ مظاہرہ، احتجاجی میمورنڈم پیش کرنے کا جذبہ اپنی جگہ درست مگر ہم کس کو سنائیں جو بہرے ہوں؟ کس کو دکھائیں جو اندھے ہوںِ اور کس سے بولنے کی توقع رکھیں جو گونگے ہوں؟ کیا احسان جعفری کی بیوہ کو انصاف ملا ؟ کیا حافظ جنید، پہلو خان،آصفہ نہ جانے کتنے شہید نوجوانوں کے قاتلوں کو سزا ملی ؟ کیا بلقیس بانو کی مظلومانہ آواز سنی گئی ؟ نہیں، بس ہمیں سنجیدگی سے غور کر نا ہے اور یہ یاد رکھنا ہے کہ ہم ہندوستان جیسے جمہوری ملک میں رہتے ہیں جس پر اس وقت فرقہ پرستوں کی طاقتور حکومت مسلط ہے۔