از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کسی چیز کو منوانے یاحق کا مطالبہ کرنے یا پھر اپنے غصے کا اظہارکرنے کا نام احتجاج ہے۔احتجاج اُسی وقت کیاجاتاہے جب سامنے والاکسی بات کو نہیں مان رہاہو،یاپھر حق دینے سے انکار کررہاہو۔ایسے میں احتجاج کیلئے سامنےوالے کی اجازت کی ضرورت نہیں مانگی جاتی نہ ہی سامنےوالااپنے ہی خلاف احتجاج کیلئے اجازت دیگا۔یہ احتجاج کا بنیادی اصول ہے۔اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی طرف سے اس بات کو ظاہرکرتے ہوئے دیکھاگیاہےکہ مسلمان اپنے مطالبات کو پوراکروانے کیلئےاحتجاج کرنا چاہتے ہیں،لیکن انہیں اس بات کی شکایت ہے کہ حکومت یا پولیس انہیں اجازت نہیں دے رہی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخر حکومت یا پولیس احتجاج کیلئے اجازت کیوں دے؟۔قانون کے مطابق احتجاج کیلئے اجازت نہیں بلکہ اطلاع دی جاتی ہے اور اس اطلاع کو قبول کرنا سرکاری اداروں کا فرض ہے،مگر مسلمانوں کے یہاں اس بات کاروناہے کہ احتجاج کیلئے منظوری نہیں ملی اس وجہ سے احتجاج نہیں کیاجاسکتا۔فلسطین کا معاملہ اس وقت سرگرم ہے،فلسطین کے معاملے کو لیکردُنیا بھر میں احتجاجات کئے جارہے ہیں،اسرائیل کی صیہونی طاقتوں کے خلاف دُنیابھرمیں پُرزور مذمت کی جارہی ہے،لیکن بھارت میں اس سلسلے میں کسی بھی طرح کی پیش رفت نہیں ہورہی ہے اورکہاجارہاہے کہ بھارت میں احتجاج کیلئے اجازت نہیں دی جارہی ہے،اس لئے مسلمان احتجاج نہیں کررہے ہیں۔وہیں دوسری جانب اہلِ علم طبقہ فلسطین کے معاملے میں فیس بک اور یوٹیوب پر عظیم الشان احتجاج کرنے کا دعویٰ کررہے ہیں اور اپنا درد سوشیل میڈیا پر بکھیرکر فلسطین کے ساتھ ہونے کی بات کررہے ہیں۔افسوس اس بات کا ہے کہ فلسطین کے معاملے میں بھارت کی مسلم نمائندہ تنظیموں کی طرف سے خاموشی اختیارکی گئی ہے اور ان نمائندہ تنظیموں کےا کابرین ،ذمہ داروں اور قائدین فلسطین کے تعلق سے زبان تک کھولنا گوارانہیں سمجھ رہے ہیں۔تاریخِ اسلام کا مطالعہ کیاجائے تو جب بھی مسلمانوں پر ظلم ہواتو اس وقت دوسری مسلم طاقتوں نے ظالموں کےخلاف اپنا محاذ کھول رکھاتھا،اللہ کے رسولﷺ کے دور کا جائزہ لیاجائے تو اس بات کا ہمیں علم ہوتاہے کہ صحابہ اپنے آپ کو دینِ اسلام کیلئے شہید کرنے کیلئے پیش کرتے تھے اور سینکڑوں صحابہ ہر غزوہ یا جہادمیں شرکت کرتے تھے،اگر انہیں شہید ہونے کا موقع نہیں ملتا تو وہ افسوس کرتےاور آنسو بہاتے کہ اللہ نے انہیں شہیدوں کامرتبہ نہیں دیا۔یہ اسلام کی تاریخ ہے اور اسلام نے مسلمانوں کو اسی بات کا درس دیاہے کہ تم ظلم کے خلاف کھڑے ہوجائو،ظلم کے خلاف تلواراٹھائو،تلواراٹھانہیں سکتے تو اٹھانےوالوں کو مالی طورپر ساتھ دو،اگر مالی طورپر بھی ساتھ نہیں دے سکتے ہوتوزبان کے ذریعے سے ان کیلئے آوازاٹھائو۔لیکن افسوس یہ ہے کہ فلسطین کے معاملے میں ان شعارمیں سے کسی بھی شعارپر پورااترنےکی کوشش نہیں کی جارہی ہے۔ایک دو علماء اور کچھ قائدین کے علاوہ ملک کی بیشتر تنظیموں اور اداروں کی طرف سے خاموشی اختیارکی جاچکی ہے،آج ہر ایک کو اپنی جان کی فکر ہے،ملک کی جو تنظیمیں اور ادارے ہیں ،ان کے سرپرست زندگی کا بڑا حصہ مکمل کرچکے ہیں،باوجود اس کے اب بھی وہ حق کو حق کہنا نہیں چاہ رہے ہیں،جینے کی آس اب بھی لگائے ہوئے ہیں،دعائوں میں تو شہادت کی تمنا کرتے آئے ہیں،لیکن جب وقت اپنے آپ کوثابت کرنے کاآچکاہے تو تب بھی اپنی زبانوں کو جنبش دینا نہیں چاہ رہے ہیں۔یہودی اپنےو جود کیلئے سب کچھ قربا ن کرسکتے ہیں،لیکن وہ موت کو لیکر بہت زیادہ خوفزدہ رہتے ہیں،اُنہیں مرنے سے زیادہ ڈر ہوتاہے،اس لئے وہ دوسروں کا سہارالیتے ہیں۔قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے سورہ بقرہ میں فرمایاہے کہ”آپ اُنہیں زندگی پر سب لوگوں سے زیادہ حریص پائینگے اور ان سے بھی جو مشرک ہیں،ہر ایک ان میں سے چاہتاہے کہ کاش اسے ہزاربرس ملے اور اسے عمرکاملنا عذاب سے بچانے والانہیں ،اور اللہ دیکھتاہے جو وہ کرتے ہیں”۔یہی حالت آج مسلمانوں کی ہے،وہ موت سے اس قدر گھبرانے لگے ہیں کہ وہ حق کیلئے بات ہی کرنا نہیں چاہتے ہیں،احتجاجات کرنے سے اس وجہ سے پیچھے ہٹ رہے ہیں کہ کہیں پولیس ان پر مقدمے عائدنہ کردے۔جس قوم میں شہادت کی افضلیت بتائی گئی ہے،اُس قوم کے لوگ صرف پولیس کے ڈنڈوں،مقدموں اور جیلوں سے خوفزدہ ہورہے ہیں۔آخر کتنی زندگی حکمت اور صبرکے پردے کے پیچھے گذارینگے۔بھارت کے مسلمانوں سے تو وہ فلسطین کے بچے اور عورتیں بہترہیں جو اپنے گھروں کے مردوں کو شہیدہونےپر مٹھائی تقسیم کررہے ہیں۔بھارت میں رہ کر اتنی بڑی قربانی دینے کی تو ضرورت نہیں ہے،البتہ یہ ثابت کرناہے کہ بھارت کے مسلمان فلسطینی مسلمانوں کے ساتھ ہیں،بھارت کے مسلمان اسرائیلی ظلم وبربریت کے خلاف ہیں،بھارت کے مسلمان خون نہ صحیح اپنے مالوں کے ذریعے فلسطین کی عوام کی مددکرسکتے ہیں۔مولاناسجاد نعمانی نے بھارت کے17تنظیموں اور اداروں کے سربراہان سےیہ اپیل کی ہے کہ فلسطین پر ہورہے ظلم وستم اور سعودی عرب کی عیاشیوں کے تعلق سے سخت الفاظ میں نکیر کی جائے۔دیکھنایہ ہے کہ کیا کم ازکم اس سمت میں تو ہمارے اکابرین توجہ دیتے ہیں یا نہیں۔
