داونگیرے:۔پچھلے سال 2 نومبر 2022ء کو عالم فنا سے عالم بقاء کی جانب رواں سید خلیل الدین شاہ قادری شہر کے مضافات میں امرت نگر نامی ایک مقام پر مدفون ہیں اور اسی دن اُنکی پہلی برسی کے موقع پر اُن کے چھوٹے بھائی سید قمر الدین قمر کی تصنیف کردہ سید خلیل الدین شاہ قادری کی حیات مبنی ایک کتاب کا رسم اجراء عمل میں آیا ،کتاب کی رسم ِ اجرائی تقریب کے موقع ڈاکٹر داؤد محسن کی صدارت میں ایک اجلاس منعقد کیا گیا ،بشر بیجاپوری نے تلاؤت کلام پاک سے اجلاس کا اغاز کیا ،اجلاس میں شریک اہل ادب نے حضرت کامل کی عبقری شخصیت پر اپنے اپنے مقالات جا ت پیش کئے اور صدر اجلاس ڈاکٹر بی داؤد محسن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت کامل ایک ڈاکٹر ہونے کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشرتی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے ،وہ ہر طبقہ میں ایکسان طور پر مقبول اُن کے یہان اکثر لوگ آیا کرتے تھے جن میں مشائقین عظام شہر کے رؤسااور اہل سیاست اور کسان لوگ بھی شامل ہیں تمام کے ساتھ وہ نہایت ہی محبت و مرؤت کے ساتھ پیش آتے تھے ،مطب میں ہوتے تو وہ ایک ڈاکٹر اور محفلوں میں ہوتے تو ایک صوفی کامل ہوتے دوست اور رشتہ داروں کی محفلوں میں مربی مہربان سرپرست اور بھائیوں میں رحم دل اہل و عیال میں ایک شفیق کی انداز میں رہتے شندگی کے ہر خانے میں سید خلیل الدین شاہ قادری کامل رحمت اللہ علیہ کی ذات ایک فٹ وہ ہر جگہ دین کادرس دیتے ہمیشہ پند ونصیحت رشد ہدایت کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہوتے جس سے تشنگان علم و دیگر لوگ فیضیاب ہوتے اُن کی ایک تصنیف مخزن المعارف جو ایک بہترین تصنیف ہےشہر میں اطراف و اکناف اُن کی چاہنے والوں ،مریدین معتقدین کی ایک بڑی تعدادپائی جاتی ہے ،سب سے بڑھ کر تورگل سے ہجرت کرتے ہوئے یہاں مقیم اس خاندان کی ایک بڑی تعداد آس پاس ملک و بیرون ملک میں بھی پائی جاتی ہے مگر سرگزشت کامل کے مصنف اُن کے چھوٹے بھائی قمر الدین قمر کا اس خاندان سے تعلق ہونا جنہوں نے اُن کی زندگی کے اہم پہلوؤں کو یکجا کای اور اُنہیں ضبط تحریر میں لایا جو ریاست کرناٹک کی تاریخ کا حصہ اورسوانح نگاری کے اس میدان میں اپنا نام درج کیا اور خاندان رفعت کو بلند کیا میں یقین سے کہوںگا کہ حضرتِ کامل کی خوش نصیبی ہی ہے کہ اُنہیے قمر الدین قمر جیسا ایک بھائی ملا اور قمر الدین قمر کو خلیل الدین شاہ قادری کامل جیسی خصوصیات کا حامل ایک بڑا بھائی جو ہمیشہ بندگانِ خدا کو خُد ا سے جوڑنے کی فکر کے ساتھ زندہ رہا اور آج بھی وہ زندہ ہے،اجلاس میں موجود مقالہ نگاروں میں سید کفایت اُللہ چراغ ہبلوی،سید خلیل الدین شاہ قادری کامل رحمت اُللہ کی نورِ نظر معلمہ ساجدہ اختر ،عبدالرشید شاد ،کے محمد غوث پیر ہمدرد ،اور قمر الدین قمر نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ،شکیل احمد طاہر نے نظامت کے فارئض انجام دیئے فرزندِ کامل داکٹر سید شمس الدین نے مہمانوں کو استقبال کرتے ہوئے اُنہیں شال وگل پیش کئے ،فوری بعد محمد حنیف بشر بیجاپوری کی صدارت میں ایک نعتیہ مشاعرے کی محفل کا انعقاد ہوا جس میں معروف شعراء میں قمر الدین قمر ،محمد علیم اللہ علیم ،ازل صدیقی ،صوفی مزاج نوجوان سید محسن سید داونگیرہ ،محمد حنیف بشر بیجاپوری،عبدالرشید شاد ،ڈاکٹر داؤد محسن ،کے محمد غوث پیر ہمدرد ،منیر احمد دل وغیرہ نے اپنی اپنی تخلیقات سے نعت رسولِ ﷺ پیش کئے اس اجلاس میں بھی شرکا ءوسعامعین استقبال و شکریہ شال وگل فرزند کامل ڈاکٹر سید شمس الدین نے پیش کئے اور نطامت کی ذمہ داری ازل صدیقی نے نبھائی دُعا کے ساتھ محفل کا اختتام ہوا ۔
