ٹیپوجیتی کے موقع پرٹیپوکے شہر سری رنگ پٹن میں144 سیکشن جاری
بنگلورو:۔10نومبر کو ریاست میں ٹیپوسلطان کی یوم پیدائش کے موقع پر یوم ٹیپویاپھرعرسِ ٹیپو کا انعقادکیا جاتارہاہے،وزیر اعلیٰ سدرامیانے2013 میں کانگریس پارٹی اقتدارمیں آنے کے بعدحضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ کی یوم پیدائش کو سرکاری طورپر منانے کا اعلان کیاگیاتھا،اس اعلان کے بعد تین سالوں تک ریاست میں ٹیپوجینتی سرکاری پیمانے پر منایا گیا تھا ، اس کے بعد آنےوالی حکومتوں نے ٹیپوجینتی کا انعقاد منسوخ کردیاتھا،لیکن آج10 نومبر کوٹیپوجینتی کے موقع پر ریاست میں ٹیپوسلطان کے نام پر جذباتی سیاست کا جوش ٹھنڈاہوچکاہے،اس کی نمایاں مثال وزیر اعلیٰ سدرامیا،نائب وزیر اعلیٰ ڈی کے شیوکمارکی جانب سے ٹیپوجینتی کےموقع پر ٹیپوسلطان کو یادنہ کرناہے۔نہ صرف ٹیپوسلطان کو بھلانےوالوں میں سدرامیا اور ڈی کے شیوکمارہیں بلکہ کرناٹک کےاقلیتی امورکے ریاستی وزیر ضمیر احمدخان ، کانگریس پارٹی کےکارگذارصدرسلیم احمد، حج و میونسپل کارپوریشن امورکے وزیر رحیم خان سمیت کانگریس دیگر مسلم لیڈروں نے ٹیپوجینتی کے تعلق سے نہ تو کوئی پیغام جاری کیاہے،نہ ہی اپنے سوشیل میڈیا پلاٹ فارم ٹوئٹر یا فیس بک پر اس کا تذکرہ کیاہے۔گذشتہ حکومت کے دوران ان لیڈروں کےکندھوں پر باگھ کی کھالیں دکھائی دے رہی تھیں،مگر اس دفعہ کانگریس حکومت پارلیمانی انتخابات کے مدِ نظر سافٹ ہندوتواکے پیرو کاربن چکی ہے،جس کی وجہ سے پارٹی نے ٹیپوسلطان کا تذکرہ یا تبصرہ کرنا بھی مناسب نہیں سمجھا ۔ حالانکہ اس دفعہ کرناٹک میں کانگریس پارٹی نے اقلیتوں کے بل بوتے پر حکومت قائم کی ہے ، ریاست کے مسلمانوں کا بڑا حصہ ٹیپوسلطان کا شیدائی ہے اور ٹیپوسلطان کو مجاہدِ آزادی بھی ماناجاتا ہے ۔ حکومت اس دفعہ ٹیپوجینتی کے موقع پر بھلے ہی ٹیپو جینتی کا انعقادکرنانامناسب سمجھ رہی ہے،کم ازکم اس موقع پر عظیم مجاہدِ آزادی ٹیپوسلطان کو یادتو کیا جا سکتا تھا ، لیکن اس کام کو بھی انجام نہیں دیاگیا۔اس بار ریاست میں کانگریس پارٹی اقتدارمیں دوبارہ آنے کے بعدٹیپوسلطان کو چاہنےوالوں نے اُمید لگائی تھی کہ شاید ریاستی حکومت ٹیپوجینتی کوسرکار ی سطح پر منائیگی۔لیکن ٹیپوکے چاہنے والوں کواُس وقت شدید جھٹکا لگاجب کانگریس حکومت نے حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ کی دارلحکومت میں ہی امتناعی احکامات جاری کرتے ہوئے اس دفعہ ٹیپو جینتی کے انعقادکو منسوخ کردیاہے۔آج منڈیا ضلع انتظامیہ کی جانب سے ٹیپوجینتی کے موقع پر سیکشن144 جاری کرتے ہوئے ٹیپوسلطان کے نام پر کسی بھی طرح کااحتجاج،جلسہ منعقدنہ کرنے،نعرے بازی نہ کرنے اور پٹاخے وغیرہ پھوڑنے پر پابندی عائدکی گئی ہے،یہ پابندی جمعہ کی صبح6 بجے سے رات11 بجے تک عائدکی گئی ہے۔کانگریس حکومت بھلے ہی ریاست میں سرکاری سطح پر ٹیپوجینتی کا انعقاد نہیں کررہی ہے،لیکن ٹیپو سلطان کے دارالحکومت سری رنگ پٹن میں امتناعی احکامات نافذکرتے ہوئے نہ صرف ٹیپو سلطان کے عُرس کو کمزور کردیا ہے ،بلکہ آنے والے پارلیمانی انتخابات کے مدِ نظر ٹیپوجینتی پر دہ ڈال دیا ہے۔
