از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
گلی سےلیکر دہلی تک مسلمانوں کی صحیح قیادت کا فقدان ہے،آج مسلمانوں کے پاس ایسی قیادت نہیں ہے جو دوٹوک بات کرسکے،حق کو حق کہہ سکے اورناحق کے خلاف آوازاٹھاسکے۔مسلمانوں کے درمیان آج قائدین کے نام پر وہ لوگ قیادت کررہے ہیں جن کا کوئی وجودہی نہیں ہے۔جو لوگ پولیس کی مخبری کرتے ہیں،پولیس اہلکاروں کی چاپلوسی میں لگے ہوئےرہتے ہیں،سیاستدانوں کی جی حضوری کرتے ہیں،سیاستدانوں کے ظلم وستم کو قبول کرتے ہیں اورمظلوموں کے درد کااپنے مفادات کیلئے استعمال کرتے ہوئے جو لوگ گھوم رہے ہیں وہی لوگ آج مسلمانوں کے قائدکہلارہے ہیں۔ملک کے ہرحصے کا جائزہ لیں ،مسلمانوں کی مثبت قیادت ناپیدہوچکی ہے،کچھ لوگ تنظیمیں وادارے بناکر اپنے اہل وعیال اور خاندانوں کو فروغ دینے کی کوششیں کررہے ہیں تو تنظیمیں وادارے بنا کر لوگوں کو لوٹ رہے ہیں،غرض کہ مسلمانوں کے حالات بدسے بدترہیں۔اس وقت جو حالات ہم بھارت میں دیکھ رہے ہیں وہی حالات کچھ سال قبل تک فلسطین میں دیکھے جارہے تھے،وہاں کی حکومتیں بھی یہود ونصاریٰ اور عیسائیوں کے تلے کام کررہی تھیں،بلآخرکچھ لوگ اُٹھے اور اپنے بل بوتے پر اپنی تنظیموں کو مضبوط کرتے ہوئے آج یہودونصاریٰ کے خلاف کمربستہ ہوچکے ہیں۔جو حالات وہاں تھے،وہی حالات آج بھارت میں ہیں جس میں مسلمانوں پر ہورہے ظلم وستم اور تشددکو روکنے کیلئے مسلمانوں کی خودساختہ تنظیمیں،شخصیات اور قائدین حرکت میں نہیں آرہے ہیں۔اُس وقت پی ایل او جیسی تنظیم فلسطین کی طاقتورتنظیم تھی،اس وقت بھارت میں مسلمانوں کی قیادت کے نام پر کئی جماعتیں اور تنظیمیں بن چکی ہیں،اُس وقت یاسرعرفات جیسے لوگ امن ،بھائی چارگی،اتحاد اور یہودی۔ مسلم بھائی بھائی کا نعرہ بلند کررہے تھے،آج بھارت میں بھی سیکولرزم،حکمت اور گنگا جمنا تہذیب کے سائے میں جی رہے ہیں۔جبکہ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف محاذ آراء ہونے کیلئےپولیس کے علاوہ اوربھی کئی نجی فوجیں بنائی جارہی ہیں،جنہیں بجرنگ دل،کرنی سینا،دُرگاسینا،ہندوسینا،ہنومان سینا،وی ایچ پی جیسی طاقتیں آج مسلح ہوتی جارہی ہیں اورمسلمان گنگا جمنا تہذیب کے نام پر وقت ضائع کررہے ہیں۔وہیں دوسری جانب مسلمانوں کے ان بدترین حالات میں مسلمانوں کے درمیان باشعور،تعلیم یافتہ،مالدار،باحکمت افرادہونے کےباوجود مسلمانوں کے مستقبل کے تعلق سے کوئی غوروفکرنہیں کررہے ہیں۔ایک طرح سے چاپلوسوں،دلالوں اورمنافقوں کو مسلمانوں پر راج کرنے کیلئے چھوڑدیاگیاہے۔حالانکہ ایسے دلالوں اور منافقوں کی کمرتوڑنے کیلئےہر علاقے میں چار لوگ کافی ہیں جو اپنے طورپر کھلے عام نہ سہی خاموشی کے ساتھ مسلمانوں کی فلاح وبہبودی کیلئے کام کرسکتے ہیں۔قوم کادانشورطبقہ اس سلسلے میں غوروفکرکرےاور اپنے آپ میں ایسے کام کریں کہ خودبخود دلال ومنافق ٹوٹنے لگیں گے۔ضروری نہیں کہ قیادت کرنے کیلئے سیاست میں ہی جاناپڑے،بلکہ سیاست سے دور رہ کربھی ایسے لوگوں کو تیارکریں جو آگے چل کر مسلمانوں کی قیادت کرسکیں۔مالدار طبقہ یہ المیہ ہے کہ یہ لوگ اُن لوگوں کا تعائون نہیں کرتے جو حقیقت میں کام کرتے ہیں،بلکہ اُن لوگوں کی پشت پناہی کرتے ہیں جو دکھاوا کرتے ہیں،لوگوں کو فریب میں ڈالتے ہیں،چند اسٹیج پروگرام کرکے لوگوں سے پیسہ اینٹھتے ہیں۔حقیقت میں آج کام اسٹیجوں کے ذریعے سے نہیں بلکہ اسٹیج سے باہر کرنے کی ضرورت ہے۔نوجوان طبقے کو زمینی سطح پر کام کرنے کیلئے کام کرناہے،غربت،بے روزگاری اور تعلیمی پسماندگی سے نکالنے کیلئے آج قوم کے دانشورطبقے کو کام کرنے کیلئے آگے آناچاہیے۔اگر ایسا طبقہ ہمارے درمیان تیارہوجاتاہے تو یقیناً دلال،منافق اور سیاسی کُرسیوں کے لالچی ٹوٹ جائینگے۔کچھ ہم خیال لوگوں کو لیکر دانشورطبقہ اس سمت میں کام شروع کرے،یقیناً کامیابی حق کی ہوگی۔
