سیاست کی ٹوپی ،سیاست کی دعوت

ایڈیٹر کی بات سلائیڈر

از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
یقیناً ٹوپی مسلمانوں کی شناخت ہے، سرکو ڈھانپنا سُنت ہے،برصغیر میں ٹوپی کا استعمال کم وبیش ہر مسلمان کرتاہے اوریہ ٹوپی سُنت کے اعتبارسے پہنی جاتی ہے،لیکن آئے دن یہ دیکھاجارہاہے کہ جو لوگ نمازکیلئے بھی ٹوپی نہیں پہنتے،جنازے میں شرکت کیلئے بھی ٹوپی نہیں پہنتے ،وہ لوگ سیاسی پروگراموں میں ٹوپی پہن کر اپنے آپ کو سچے پکے مسلمان ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسے کچے پکے مسلم سیاستدانوں کی بڑی تعداد دوسرے لوگوں کو ٹوپی پہنانےوالوں میں سے ہوتی ہے۔سوال یہ ہے کہ آخرسیاسی پروگرام،جلسے اور سیاسی لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا کونسا مقدس کام ہے جو ٹوپی پہن کر شرکت کی جاتی ہے۔بعض لوگ تو فرقہ پرست جماعتوں کے سیاسی اجلاس میں بھی ٹوپی پہن کر اپنے آپ کو مسلمانوں کے نمائندوں کے طورپر پیش کرتے ہیں۔جبکہ دینِ اسلام کے بنیادی فرائض سے ان کا دور دور تک کوئی لینا دینانہیں ہوتا،سیاسی جلسوں میں ٹوپی پہن کر پہنچنے والے کچے پکے مسلم سیاستدان ایک طرف اذان ہوتی رہتی ہےتو دوسری طرف وہ اپنے سیاسی آقائوں کی جئے جئے پکارنے میں مصروف رہتے ہیں۔جس طرح سے سیاسی عہدوں کو حاصل کرنے کیلئے مسلمان اپنے نام کا استعمال کرتے ہیں،اسی طرح سے سیاسی جلسوں میں ٹوپی کا استعمال کرنا عام بات ہوچکی ہے۔کئی ایسے پروگراموں میں بھی ان ٹوپی دھاری لوگوں کو دیکھاگیاہے جوشرک کے قریب ہوتے ہیں،اس سے اسلام کا نام کم بدنامی زیادہ ہوتی ہے۔گذشتہ دنوں ہونےوالےبی جے پی کے اجلاس ہوں یا پھر دیوالی وگنیش جیسے تہواروں میں ٹوپی دھاریوں کی شرکت ہو۔ان لوگوں نے محض اپنے مفادات کی خاطر ٹوپی پہناہے اوردوسروں کو اپنی ٹوپی کے ذریعے سے ٹوپی ڈالی ہے۔صرف بی جے پی کے جلسوں و غیر مسلموں کے تہواروں میں ہی ٹوپی دکھائی نہیں دیتی بلکہ کانگریس کے بھی کئی سرکردہ لیڈران اپنے سیاسی آقائوں کے جلسوں میں ٹوپی پہنے ہوئے دکھائی دیتے ہیں،جبکہ ان کی ٹوپی سے نہ انہیں کوئی ثواب مل رہاہے نہ ہی سیاستدان ان کا پاس ولحاظ رکھ رہے ہیں،پھر بھی اب ٹوپی سیاست کی علامت بن چکی ہے۔جس طرح سے مسلمان ٹوپی کا استعمال سیاست کیلئے کررہے ہیں،اُسی طرح سے کچھ لوگ اپنے سیاسی آقائوں کی یوم پیدائش کے موقع پر کہیں پھل بانٹ رہے ہیں تو کہیں غریبوں کوکھاناکھلارہے ہیں ،کہیں ان کیلئے فاتحہ خوانی کرکے دعاکی جارہی ہے تو کہیں کسی مزارپر چادر چڑھائی جارہی ہے۔مانوکہ ان کے سیاسی آقائوں کے نام پر جو کھاناکھلایاجارہاہے اور جو دعائیں مانگی جارہی ہیں وہ کسی متقی وپرہیز گارشخص کیلئے ہے۔ایسے مسلم سیاستدانوں کا جائزہ لیاجائے تو ان میں سے بیشتر لوگوں نے کبھی اپنے مرحوم ماں باپ کیلئے نہ تو قرآن خوانی کروائی ہوگی اورنہ ہی ان کے مرحومین کے صدقہ جاریہ کیلئے کھاناکھلایاہوگا۔جتنی محنت سیاستدانوں کیلئے کررہے ہیں،اگر اُس کی آدھی محنت بھی اپنے ماں باپ ،ایل وعیال،رشتہ دار اور اپنی قوم کی فلاح وبہبودی کیلئے کام کرینگے تو یقیناً یہ کام دنیائوی اعتبار سے اچھاہوگابلکہ آخرت کیلئے بھی بہتر ثابت ہوسکتاہے۔سیاست کو سیاست رہنے دیاجائے اور شریعت و خدمت کو اُس کے مقام پر رہنے دیاجائے تو یہ بہترہے،ویسے بھی جن سیاستدانوں کے نام پر کھاناکھلایاجاتاہے اُن لوگوں میں سے بیشتر لوگ تو نہ کبھی مسلمانوں کے ہوئے تھے نہ ہی مسلمانوں کے ہونگے۔