بنگلورو:۔ریاستی حکومت نے بدعنوانی کاالزام جھیل رہے نائب وزیراعلیٰ ڈی کے شیوکمارپر عائد سی بی آئی کے مقدمے کو منسوخ کرنےکا فیصلہ لیاہے،ڈی کے شیوکمارکے خلاف سی بی آئی کی جانب سے تحقیقات کی جارہی تھی،ان کے خلاف عائد مقدموں کو منسوخ کرنے کی عرضی کرناٹکا ہائی کورٹ میں بھی مستردکی جاچکی ہے،ایسے میں ریاستی حکومت نےخصوصی طورپرکابینہ میں فیصلہ لیتے ہوئے ان کے معاملے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیاہے۔ان کا یہ فیصلہ بھلے ہی بی جے پی کیلئے ایک طمانچہ ہےاور بی جے پی کی بدلے کی سیاست کو ایک جھٹکاہے۔وہیں دوسری جانب کرناٹکا حکومت کے سامنے ڈی جے ہلی کے جی ہلی اور ہبلی کے مسلم نوجوانوں کے مقدمے بھی ہیں ،جنہیں انصاف دلانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کرناٹکاکی کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے دوران ووٹ حاصل کئے تھے۔لیکن ان مقدموں کے تعلق سے نہ تو وزیر اعلیٰ سدرامیا چوں چاں کررہے ہیں نہ ہی کانگریس کے مسلم لیڈران آوازاٹھارہے ہیں۔ڈی جے ہلی کے جی ہلی اور ہبلی کے مسلم نوجوان بی جے پی کی زہریلی سیاست کاشکارہوئے تھے اوروہ تعصب کی وجہ سے یو اے پی اےکے مقدموں کا شکارہوئے ہیں ۔گذشتہ تین سالوں سے مسلم نوجوان جیلوں میں بندہیں،ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کی صورت نہ تو عدالتوں سے نکل رہی ہے نہ ہی حکومت اس معاملے کو کابینہ میں رکھتے ہوئے اپنےا ختیارات کا استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں کو رہاکرنے کیلئے اقدامات اٹھارہی ہے۔جس طرح سے کابینہ میں ڈی کے شیوکمارکے مقدمے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ لیاگیاہے،اُسی طرح سے مسلم نوجوانوں کے مقدموں کو منسوخ کرنے یاپھر یواے پی اے جیسے سخت قانون سے نرمی دلانے کیلئے اقدامات اٹھائے جاتے ہیں تومسلم نوجوانوں کو راحت ملے گی۔
